لاڑکانہ : سندھ کے شہر لاڑکانہ میں واقع شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل سے ایک طالبہ کی گلے میں پھندہ لگی ہوئی لاش ملی ہے، ساتھ میں ایک تحریر بھی موجود ہے جبکہ ورثا کا کہنا ہے کہ نوشین خودکشی نہیں کرسکتی۔یہ واقعہ بدھ کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر 2 میں پیش آیا ہے، اسسٹنٹ کمشنر لاڑکانہ احمد علی سومرو کا کہنا ہے کہ نوشین کاظمی کی روم میٹ باہر گئی ہوئی تھی وہ کمرے میں اکیلی تھی، دو تین گھنٹے کے بعد روم میٹ واپس آئی تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا، تو انھوں نے آواز دے کر بلایا اور جب جواب نہیں ملا تو کھڑکی میں جالی لگی ہوئی تھی اس میں سوراخ کر کے دیکھا تو اندر لاش پڑی ہوئی تھی۔
اس کمرے کے کونے میں موجود رائیٹنگ ٹیبل کے اوپر نوشین کے دونوں پاؤں موجود ہیں جو دونوں ہوا میں نہیں بلکہ ٹیبل کے سطح پر موجود ہیں جبکہ رسا اوپر چھت کے پنکھے میں میں بندھا ہوا ہے جو تھوڑا سے جھکا ہوا ہے جبکہ رسے کا آخری سرا پھندے کی صورت میں نوشین کے گلے میں موجود ہے۔پولیس کو ایک کاغذ کے ٹکڑے پر رومن میں تحریر کردہ ایک نوٹ بھی ملا ہے جس میں لکھا ہے کہ `میں خود اپنی مرضی سے ہینگنگ کرنے جا رہی ہوں، نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں۔‘
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کی لڑکیوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن ان سے نہیں کھلا اس کے بعد وارڈن کو بتایا گیا تو کالج انتظامیہ نے دروازہ کھولا لیکن کسی چیز کو چھیڑا نہیں۔اُنھوں نے بتایا کہ پولیس نے لڑکی کے والد کا انتظار کیا اس کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ اُن کے مطابق اس وقت شہادتیں اکٹھا کرنے کا مرحلہ ہے اور روم کے سامنے یا پیچھے ایسی کوئی جگہ نہیں جس سے اندر گھسا جا سکے۔
پولیس کے فارنزک شعبے نے اس نوٹ سمیت دیگر اشیائے استعمال تحویل میں لی ہیں، ٹیم کے انچارج قائم الدین منگنیجو کا کہنا ہے کہ شہادتیں اکٹھی کر رہے ہیں، اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔یونیورسٹی کے ترجمان عبدالصمد بھٹی کا کہنا ہے کہ کمرے سے ایک نوٹ ملا ہے، وہ سی سی ٹی فوٹج بھی محفوظ بنائیں گے اور پولیس کے علاوہ یونیورسٹی کی محکمہ جاتی تحقیقات بھی ہوگی۔
نوشين کاظمی کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا ان کے نانا استاد بخاری سندھ کے نامور شاعر اور استاد رہے ہیں ان کے والد سید ہدایت شاہ محکمہ سوشل ویلفئیر میں چائلڈ پروٹیکشن افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہی نوشین خوشی خوشی کالج گئی تھیں وہ خودکشی نہیں کرسکتیں۔نوشین کی کمرے سے لاش ملنے کی اطلاع پر بڑی تعداد میں طلبہ اور طالبات ہاسٹل کے باہر جمع ہوگئے اور انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔سندھیانی تحریک کی رہنما مرک منان چانڈیو کا کہنا تھا کہ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں اس سے نہیں لگتا کہ یہ خودکشی کا واقعہ ہے دو سال قبل نمرتا کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اگر اس کے ساتھ انصاف ہوتا یہ لاش نہیں ملتی۔
یاد رہے کہ میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والی نمرتا چندانی لاڑکانہ میں واقع آصفہ بی بی ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں اور اسی کالج کے ہاسٹل کے کمرہ نمبر تین سے پیر کی شب ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
نمرتا کی موت کی وجہ گلے کا گھٹنا قرار دی گئی تھی تاہم ان کے خاندان نے اس توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا اس کی تحقیقات بھی ہوئی لیکن رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر جسٹس فار نوشین کاظمی ٹرینڈ جاری رہا جس میں صارفین نے خودکشی پر شک و شبہات کا اظہار کیا، ماہ سنگھ پرمار لکھتے ہیں کہ یہ ہی ہاسٹل دو سال قبل چوتھے سال کی طالبہ نمرتا کے قتل کا گواہ ہے یہ ادارے کیوں کلنگ فیلڈ بنا ہوا ہے۔
سورٹھ سندھو لکھتی ہیں کہ چوتھے سال کی طالبہ روم میں مردہ حالت میں پائی گئی، تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے پیر ٹیبل پر ہیں اور رسا چھت کے پنکھے میں بندھا ہوا ہے اس کو خودکشی کا رنگ دیا جارہا ہے یہ پہلا کیس نہیں ہے اس کی شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔
آزاد علی لکھتے ہیں کہ نوشین کاظمی 4 سالوں سے ایک خواب دیکھ رہی تھیں کہ میں اپنا خواب پورا کرکے معاشرے میں ڈاکٹر بنوں گی، سوچیں ایسا فرد کیسے خودکش کرسکتا ہے؟ ہر قتل کے کو خودکشی کا رنگ دیگر قتل کو ڈبونے کی کوشش کی جاتی ہے آخر کب تک ہم خودکشیو ں کے نام پر لاشیں اٹھائیں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

