ایم ایم ادیبکالملکھاری

موت سے کس کو رستگاری ہے ۔۔ ایم ایم ادیب

ماں ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہے،پاؤں تلے جنت لئے دھرتی پر ہولے ہولے،دھیرے دھیرے چلتی ہے کہ جنت کے کسی فرشتے کے پروں پر اس کا پاؤں نہ آجائے۔ماں میاں نواز شریف،شہباز شریف کی ہو یا میری اور آپ کی وہ بس ماں ہوتی ہے۔زندگی کے محاذ پر لڑنے کے لئے ماں کی دعاؤں کا ہونا لازمی ہوتا ہے اور یہ دعائیں تقدیر بدل دینے پر قدرت رکھتی ہیں،ورنہ نواز شریف جیسے پہلوانی کی سیٹ پر کالج میں داخلہ ملنے والے پر اقتدار کی دیوی اتنی مہربان کیسے ہوسکتی تھی کہ ایک ملک کا تین بار وزیر اعظم بن سکے۔
محترمہ بیگم شمیم اختر ایک سادہ مزاج گھریلو خاتون تھیں،جنہوں نے ایک لوہا کوٹنے والے جفاکش میاں محمد شریف کےساتھ روایتی طرز زندگی کا نصف صدی سے زائد عرصہ گزارا۔بیگم شمیم اختر کے سرتاج نے شب و روز کی محنت و مشقت سے اپنے بیٹوں کے سر پر حکمرانی کے تاج سجوائے،مرحوم پڑھے لکھے تو زیادہ نہیں تھے مگر وہ سارے گُر جانتے تھے جو پاکستانی سیاست کے ایک ماہر کو جاننے چاہئیں۔انہوں نے اپنے بچوں سے لوہا تو نہیں کُٹوایا مگر انہیں لوہے کے چنے جیسا ضرور بنا دیا۔
واجبی تعلیم سے آراستہ میاں محمد شریف خود کبھی حاکم تو نہیں رہے تھے مگر حاکمیت کے تمام تر قرینے جانتے تھے،اسی لئے میاں نواز شریف اپنے دور اقتدار میں ہر حکومتی اقدام سے پہلے ابّا جی سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتے تھے۔میاں محمد شریف نے اپنے بچوں کو کاروبار حکومت چمکانے کے سب ڈھنگ سکھائے،انہیں چمک کے استعمال کے سب طریقوں سے آگہی بخشی،جو ہر ہر موڑ پر شریف برادران کے کام آئی۔اسی لئے میاں نواز شریف نے ایک بار دعویٰ کیا تھا کہ ”وہ ایک کامیاب تاجر ہیں ایسا تاجر جو انسانوں کی قیمت بھی جانتا ہے کہ کسے کس قیمت پر خریدنا ہے“۔
تاہم بیگم شمیم اختر ایک نہایت سیدھی سادی خاتون تھیں،خالص مشرقی،روایتی بیوی،جنہوں نے میاں محمد شریف کے ہر اثاثے کو بہت اچھے طریقے سے سنبھالا،وہ اپنے بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں عزیزوں کی تعلق داریوں کو بہت بہترطورپر نبھانا جانتی تھیں۔وہ ایک صلح جو اور اعلیٰ اوصاف و صفات کی حامل عبادت گزار عورت تھیں،ان کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے شریف برادران کے آپس کے رشتوں کو بھی مضبوط و مستحکم رکھا اور خاندان کے شیرازے کو بکھرنے سے بچائے رکھا۔مرحومہ کا بچپن بے پناہ امارت میں نہیں گزرا تھا،مگر جوانی کے ڈھلنے سے پہلے پہلے وہ زندگی کی آسائیشوں سے مالامال ہوچکی تھیں۔
شریف برادران بڑے میاں صاحب کی کرشمہ سازیوں سے اقتدار کے ایوانوں کی زینت بنے اور بیگم شمیم اختر صاحبہ کی دعاؤں کے اثر سے ہر کڑے سے کڑے وقت میں بد ترین حالات سے جان و مال بچالینے میں کامیاب ہوئے،یہ جس بھی بڑی سے بڑی مہم کو سر کرنے کے لئے نکلے وہ مصلّے پر بیٹھ گئیں اس امر سے بے خبر کہ کہ کن مقاصد کے حصول کے لئے تگ و دو ہورہی ہے،وہ ان کے سروں ک خیر مانگتی رہیں،آہ زاری کرتی رہیں اور ان کی ہر دعا مستجاب ہوئی۔
شریف برادران کا اصل امتحان اب شروع ہوگا،جب یہ کسی مہم جوئی پر نکلیں گے اور اِن کے پیچھے ماں کے دعاؤں والے ہاتھ کارفرما نہیں ہونگے۔نیک سیرت بیگم شمیم اختر ان کے اعمال پر مناجات کے دھسے نہیں ڈالیں گی کہ جن میں اِن کی کج ادائیاں چھپ جائیں گی۔
میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف،حمزہ شہباز اور مریم نواز اب ذرا سنبھل کرچلنا، پھونک پھونک کر قدم رکھنا کہ سنبھالنے والے بازو اب تمہارے پاس نہیں رہے۔وہ نیک روح آسودہء خاک ہوئی جو سائیبان کی طرح تمہارے سروں پر چھاؤں کئے ہوئے تھی جس کے دم سے تم زمانے کے گرم و سرد سے محفوظ تھے۔
جن کے باپ نہیں ہوتے ان کی پیٹھ فقط تھپکیوں سے محروم ہوتی ہے،جن کی ماں نہیں ہوتی ان کا سارا وجود نصیب کی سان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اسے آبدار کردے یا کند ہتھیار کی مثل بے مصرف بنادے۔ذراشہید بینظیر بھٹو کی زندگی پر غور کرو
باپ سے بچھڑی تو نگر نگر کی خاک چھاننے پر مجبور ہوئی،مگر ماں زندہ تھی جس کی دعاؤں نے اپنے حصار میں لے لیا اور ماں بستر مرگ پر پڑی تو آمروں کے لئے لقمہء ٹھہری،پل کے پل میں جاں نثار ہوئی اس دھرتی کے عوام پر،بے رحم موت کے ہاتھوں سے اسے کوئی نہ بچا سکا،اس کے توقاتل بھی نامعلوم ہوئے ایسے کہ جن کا سراغ اس کی پارٹی کے پانچ سالہ اقتدار میں بھی نہ لگایا جاسکا۔
شریف برادران اب تم بھی وقت کے سفاک ہاتھوں سے ذرا بچ کے رہنا کہ قبروں والے کبھی کسی کو نہیں بچا سکے۔اللہ بیگم شمیم اختر کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے،ان کے روحانی فیوض و برکات تمہیں میسر رہیں۔
آنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سرء مجبوری عیاں
خشک ہوجاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواں
قلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیں
نغمہ رہ جاتا ہے، لطف، زیر و بم رہتا نہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker