ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

ٹیگور ، خدائے واحد کے روبرو( 1 ) ۔۔ماہ طلعت زاہدی

رابندر ناتھ ٹیگور ،بنگال کی سرزمین کو جن پر فخر ہونا چاہیے ، ہمارے لیے بھی لائقِ صد تکریم ہیں۔ اُس وقت تک وہ تنہا ایشیائی شاعر جس نے 1913ءمیں ادب کا نوبل پرائز لے کر ہم ساکنانِ برصغیر پاک و ہند کو بھی سرشاری و سرخوشی میں سراٹھانا سکھایا۔
ٹیگور کا عرصئہ حیات 1861ءسے 1941ءبنتا ہے۔ جنہوں نے اپنی بیماری کے آخری دس سالوں میں بھی ، تین درجن سے زیادہ کتابیں دنیائے ادب میں پیش کیں۔ ایک زبردست عالم ،استاد ، نظریہ ساز اور اپنے نظریات پر عامل تھے۔ مطالعے کا یہ عالم تھا کہ ان کی لائبریری میں ادب ، شاعری ،لسانیات کے علاوہ تاریخ ، طب،فلکیات ،ارضیات ، کیمیا ، بینک کاری ، ریشم کے کیڑوںکی پرورش کے علاوہ سڑک سازی، پکوان اور برتن سازی وغیرہ سے لے کر مصنوعی حرارت سے پرندوں کے بچے نکالنے کے علم تک کتابیں موجود تھیں۔
”شانتی نکیتن“ ان کا مشہور و معروف تعلیمی ادارہ ،جس میں ان کے نظریاتِ علمی کے مطابق درختوںکے سائے میں ، جھیلوں کے کنارے، کھلے مرغزاروں میں دھوپ اور بادلوں کے زیرسایہ اکتسابِ علم کیا جاتا تھا ، ایک آدرش اور اپنی نوعیت کا یکتا تعلیمی ادارہ تھا۔ مصوری سے ان کے دلی لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ بقول ابوالکلام ”دسمبر 1936ءمیں جب وہ کلابھون میوزیم کی سیڑھیوں پر چڑھے تو انہیں پہیوں والی کرسی پر بٹھایا گیا۔ وہ ہر تصویر کو بغور دیکھتے رہے۔ ایک تصویر کو دیکھ کر ان کی روح کے تار جیسے مضراب نے ہلا دیے۔“ ٹیگور کہنے لگے۔
”افسوس اب وقت ہی نہ رہا۔ بینائی جواب دے چکی ہے۔ انگلیوں میں وہ پہلی سی نزاکت کہاں سے لاؤں…. کاش کچھ وقت اور مل جاتا تو کچھ کرلیتا۔“
تمام علوم اور فنون سے ان کی وابستگئی شوق کا یہی عالم تھا لیکن اس وقت ان کی شاعری اور بالخصوص ان کی کتاب ”گیتان جلی“ سے بحث مقصود ہے۔ جس پر انہوں نے دنیائے مغرب کی توجہ ¾ مشرق کے شعر و حکمت کی جانب کرادی۔
اس چھوٹی سی کتاب کو اگر بہت زیادہ گہری نظر سے نہ دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ آخر اس کتاب میں پیش کی گئی شاعری میں ایسی کیا بات تھی کہ ادب کے عالمی ¾ معتبر اور باوقار انعام کی مستحق ٹھہری۔ یوں بھی شاعری اور ادب میں انعام حاصل کرلینے سے کوئی شاعری اور ادب بڑا نہیں بنتا اور تب نہیں تو کم از کم اب تو حصولِ انعام بھی ایک سیاسی داﺅ پیج اور تعلقاتِ باہمی کے وسیلے کا نتیجہ بن کے بے معنی ہوگیا ہے۔ ہمارے ایسے عظیم الشان شعراہیں ، جن کی زمانے نے کوئی قدر نہیں کی، لیکن آنے والی صدیوں اور زمانوں سے وہ خراجِ تحسین لیتے رہیں گے۔ خود ٹیگور کے ہمعصر ،برصغیر میں ایک عظیم شاعر علامہ اقبال ، جن کے نام کا مشرق و مغرب میں چرچا ہورہا تھا ، سامنے کی مثال ہیں۔
بات یہ ہے کہ مغرب اپنی بے مثال ترقیوں ،بے شمار سائنسی کامیابیوں اور لاتعداد مفید سماجی ایجادوں کے باوصف روحانی اعتبار سے کھوکھلارہاہے ، اور وہاں کے دانشوروں اور مفکروں کو اس بات کا احساس ہمیشہ ستاتا رہاہے۔ ہمیشہ ہی ان کی نظریں حصولِ تسکین قلب و روح کی خاطر مشرق کی طرف اٹھتی رہی ہیں۔ حافظ و خیام ، رومی و سعدی
غالب و اقبال کو ان کے ہاں پسندیدگی اسی بنا پر ملتی رہی۔ جس زمانے میں ٹیگور کی ”گیتان جلی“ ترجمہ ہو کر وہاں پہنچی۔ گردشِِ زمانہ کے اعتبار سے وہ ایک اہم موڑ تھا جسے تاریخ کا حصہ بن کر محفوظ ہوجانا تھا اور جس کے باعث فکر و نظر کے بڑے بڑے محلات مسمار ہونے تھے۔ فرانس کا انقلاب آچکا تھا اور روس کے انقلاب میں تھوڑے دن باقی تھے!
ایسے عالم میں ایک شاعر ایک ایسے نسخہ شعر کے ساتھ منظر عام پر آیا جس کی نوکِ قلم پر ایک خدا کے عشق میں لکھے گئے ترانے تھے۔ کوئی دس بیس نہیں، تقریباً سو کے قریب گیت ہیں (یا نظمیں جو بلاعنوان ہیں) جن کا مخاطب ، محبوب ، مذکور ،ممدوح ،مقصود ، مالک ، منزل، منبع ، مرجع کوئی نہیں ، سوائے اُس پروردگار کے جس نے یہ کائنات خلق کی۔ کوئی حیرانی سی حیرانی ہوتی ہے ، جب ہم اس کتاب کا سفر کرتے ہیں۔ آدمی محبوب (انسان) کا نام لیتے لیتے بھی شاید تھک ہار جاتا ہے ،حالانکہ اس سے جسمانی ،ذہنی اور قلبی تعلق براہِ راست پورا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ خوشی کے نغمے الاپتے الاپتے ،ہجر و فراق کے نوحے لکھنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ محبوب کو بُرا بھلا کہنے سے بھی باز نہیں آتا…. اور ایک ٹیگور کا عظیم المرتبت عشق ہے۔ وہ بھی ایک نادیدہ ہستی سے ، جسے کہ
ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے
یہ نادیدہ ہستی ٹیگور کی ہستی موجود کا حصہ بنتی چلی جارہی ہے اور ٹیگور اس پیکرِ انجان میں مدغم ہوئے جارہے ہیںاور یہ عمل اس زمانے ، اس سرزمین اور اس ہزاروں دیوتاؤں کی پوجا کرنے والے مذہب کی گود میں ، انہی کے ایک بیٹے کی جانب سے ہورہاہے ،جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
خُوگرِ پیکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر
مگر ٹیگور نے اسی مذہب کا نام لے کر ہوش سنبھالنے کے باوجود ، کسی اَن دیکھے ،مگر واحد ، قادر، رحیم و کریم خدا کے نادیدہ وجود کو اپنے اردگرد ہمیشہ اور ایسے محسوس کیا کہ ان کا لہجہ ، ان کی شخصیت ، ان کا ماحول ، ان کا شعری عمل کسی پُراسرار داستان کا حصہ لگنے لگا۔ ٹیگور کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اہلِ مغرب ان کی شاعری کو اس درجہ قبولیت پر رکھیں گے۔ شانتی نکیتن کے ایک پروفیسر کے نام خط میں کہتے ہیں:
”انہوں نے میرے مسودے دیکھے ، مجھے نہیں معلوم تھاکہ انہیں میرے گیت اتنے پسند آئیں گے۔ ان کے خیال میں میرے گیت انمول خزانہ ہیں۔“
واقعی ”گیتان جلی“ کی شاعری ایک بے مثل ، نادر و نایاب خزانہ ہے ، جو شاعری کے میوزیم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔ ہم چاہے کسی ذاتِ مطلق پر یقین کریں ،چاہے نہ کریں…. لیکن جب جب (اور آنے والے زمانوں میں تو اور بھی زیادہ) نئی نسلیں اس کتاب کے مطالعے سے گزریں گی تو انہیں ایک بے قرار روح ، پرخلوص عاشق، نایاب اندازِ نظر اور اچھوتا محبوبِ سخن اس میں دیکھنے کو ملے گا۔ اس کتاب میں ایک ایسی دنیا بند ہے ، جسے اپنی آنکھوں پر کھولنے کے لیے ، چاروں طرف سے آنکھیں بند کرنی پڑتی ہیں۔
تب ایک ایسی اچھوتی ،بے مثال ، ناقابل یقین کائنات کا ظہور ہوتا ہے ،جو محض طالب و مطلوب کے لیے ہے۔ طالب تو بے شک ہماری دنیا کا باشندہ اورہمارے ہی جیسا گوشت پوست کا پیکر رکھنے والا فانی انسان ہے ،مگر مطلوب اور محبوب نہ جانے کون ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ اسے ”گیتان جلی“ میں جس قدر چاہا گیا ہے ، جس انداز میں مانا گیا ہے اور جس ذہنی سطح پر قبول کیا گیا ہے ، شاید ہی کسی اور مذہب کے دعوے دار بھی ایسا کوئی دعویٰ کرسکیں۔
”خدا“ ٹیگور کی دنیائے شاعری کا وہ تنہا کردار ہے ، جسے ٹیگور جیسے عظیم الشان فکر رکھنے والے نے اس طرح پوجا ہے ، اس طرح سراہاہے کہ ٹیگور پر خود کسی ناقابل یقین پیکر کا دھوکہ ہونے لگتا ہے۔
( جاری ہے )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker