اہم خبریں

آئی ایس آئی چیف کے لیے تین یا پانچ نام آئیں گے: منظوری وزیر اعظم دیں گے :ملک عامر ڈوگر

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی مدت ملازمت میں چند ماہ کی توسیع چاہتے تھے لیکن اب نئے ڈی جی کی تعیناتی طریقہ کار کے تحت ہوگی۔انھوں نے نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے بتایا کے وزیراعظم عمران خان ایسا افغانستان میں جاری صورتحال کی وجہ سے چاہتے تھے۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملے پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں اختلاف کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سول و ملٹری قیادت ‘ایک پیج’ پر ہیں۔
پاکستان میں جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرری بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گرم تھیں کہ وزیراعظم عمران خان سبکدوش ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فیض حمید ہی اس عہدے پر کام جاری رکھیں۔مگر آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کو اب پشاور کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کے مطابق منگل کو کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بتایا کہ انھوں نے اپنی ملاقات میں ملک کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری طریقہ کار کے تحت ہوگی۔‘سما ٹی وی پر اینکر ندیم ملک کے شو میں بات کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘میرے جنرل باجوہ سے آئیڈیل تعلقات ہیں۔ کسی بھی آرمی چیف کے وزیر اعظم سے اتنے آئیڈیل تعلقات نہیں ہوئے جتنے میرے تعلقات ہیں۔’
‘(عمران خان نے کہا کہ) میری خواہش تھی کہ افغانستان کے مسئلے کے دوران جب ہم براہ راست اس کے متاثرین میں سے ہیں اور ہمارا ایک کردار ہے، تو ساری صورتحال میں جنرل فیض وہاں (اس عہدے پر) کچھ ماہ اور رہ جاتے۔’عامر ڈوگر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان چاہتے تھے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید مزید کچھ ماہ تک آئی ایس آئی کے سربراہ برقرار رہتے۔
انھوں نے کہا ‘(اب) لائحہ عمل یہ ہے کہ تین یا پانچ نام وزارت دفاع کی طرف سے آئیں گے جن میں سے ایک نام کا انتخاب وزیر اعظم کریں گے۔۔۔ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ ایسا تاثر جائے کہ ہم فوج کو کمزور کر رہے ہیں۔’
انھوں نے شو کے دوران بتایا کہ ‘یہ پیشہ ورانہ فیصلہ ہے جو آرمی چیف کر رہا ہوتا ہے۔ اسے پتا ہے اپنے جرنیلوں میں کس کو کس پوزیشن پر کھلانا ہے۔۔۔ لیکن ایک طریقہ کار ہوتا ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے۔ طریقہ کار میں کوئی خلا رہ گئی ہے۔’
عامر ڈوگر کے مطابق ‘عمران خان نے کہا جنرل ندیم صاحب کی شہرت بہت اچھی، بڑے پروفیشنل جنرل ہیں۔ ان کی ذات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور انھوں (فوج) نے جس نام کا اعلان کیا ہے وہ بہترین نام ہوگا۔”(مگر) عمران خان قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔ سب چاہتے ہیں کہ حکومت تمام اداروں کو آئینی طور پر ساتھ لے کر چلے۔ مشاورت کا عمل بھی ہو۔’
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ عمران خان نے آرمی چیف سے کہا کہ ‘آپ طریقہ کار اپنائیں ورنہ (ماضی میں) تو یہاں ربر سٹامپس لگتی رہی ہیں۔’
اس پر جب اینکر ندیم ملک نے عامر ڈوگر سے پوچھا کہ آیا عمران خان نے کابینہ اجلاس میں یہ بات کہی کہ ‘میں ربر سٹامپ نہیں ہوں’ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ‘ساری باتوں کا تو آپ کو پتا ہے، میرے منھ سے آپ نے ضرور نکلوانا ہے۔’
منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری میں قانونی طریقہ اپنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجودہ کے درمیان بہت ہی قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر ‘دونوں کا اتفاق رائے ہے۔ اس میں اتھارٹی وزیر اعظم کی ہے۔’فواد چوہدری نے بتایا کہ پیر کی شب وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک طویل نشست ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں۔ بہت لوگوں کی خواہشیں ہیں۔ میں ان کو یہ بتا دوں کہ کبھی بھی وزیر اعظم آفس ایسا قدم نہیں اٹھائے گا کہ فوج کا وقار کم ہو (اور) سپہ سالار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے کہ سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی آئے۔’

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker