کالملکھاریمسعود اشعر

ڈاکٹر مبشر حسن اور ان کا ورثہ۔۔آئینہ/مسعوداشعر

وہ اٹھانوے سال کے تھے۔ ڈیڑھ دو سال بعد ایک سو سال کے ہو جاتے۔ دبلے پتلے تو وہ ہمیشہ سے ہی تھے لیکن دو مہینے پہلے نیّر علی دادا کی بیٹھک ان کے گھر پہنچ گئی وہ تو بہت ہی کمزور نظر آ رہے تھے لیکن وہاں وہ ہر ایک کی بات کا جواب دے رہے تھے۔ کسی نے ان کی کتاب ”شاہراہ انقلاب‘‘ کی دوسری جلد ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے اس پر اپنے دستخط بھی کئے۔ اس دن غنویٰ بھٹو بھی ان کے گھر آئی ہوئی تھیں۔ وہ اب بھی غنویٰ کی پارٹی کے ساتھ ہی تھے۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک صدی ضرور پار کر لیں گے مگر وہ ڈیڑھ دو سال پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ گئے‘ جس کی بہتری اور بھلائی کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ چند مہینے پہلے تک ہر مہینے کے آخری جمعہ کو ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ سیاسی اور انتظامی طور پر ان کے خیالات اب بھی وہی تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر خزانہ کے زمانے میں تھے۔ آج بھی ان سے سوال کیا جاتا کہ آپ نے ملک کی صنعتیں قومی ملکیت میں کیوں لی تھیں، تو ان کا جواب ہوتا ”اگر آج بھی موقع ملے گا تو میں وہی کروں گا‘‘۔ وہ امریکہ اور بڑے سرکاری افسروں کے سخت خلاف تھے۔ سرکاری افسروں کو وہ بابو کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سرکاری بابو ہی ہیں جنہوں نے اس ملک کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ اس موقف کے لئے ان کے پاس اپنی حکومت کے زمانے کے بے شمار واقعات تھے۔ اس بارے میں سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عنایت اللہ مرحوم کے ساتھ ان کی خوب چوٹیں چلتی تھیں‘ اور سیاسی معاملات میں یہ چوٹیں حسین نقی کے ساتھ چلتی تھیں۔ امریکہ کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے وہ ان کی دو کتابوں ”شاہراہِ انقلاب‘ جلد اول‘‘ اور ”شاہراہِ انقلاب جلد دوئم‘‘ میں موجود ہیں۔
یہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد گلبرگ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی میں ہی رکھی گئی تھی۔ یہ مبشر حسن اور جے اے رحیم ہی تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی تھے۔ بعد میں کیا اختلافات ہوئے؟ یہ تاریخ ہے؛ البتہ یہ مبشر حسن ہی تھے جنہوں نے پاکستان میں ایٹم بم بنانے کی بنیاد رکھی یا یوں کہہ لیجئے کہ ایٹم بم بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو کی رہنمائی کی۔ وہ نشست ہمیں بھی یاد ہے جو 1972 میں ملتان میں نواب صادق حسین قریشی کی کوٹھی پر ہوئی تھی۔ اس نشست میں ڈاکٹر مبشر حسن کی تجویز پر ہی بھٹو صاحب نے ڈاکٹر منیر احمد خان کو اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ بنایا تھا۔ اسی نشست میں پاکستان کے دوسرے سائنس دانوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام بھی موجود تھے۔ اگرچہ وہ نشست خفیہ رکھی گئی تھی لیکن اس نشست میں اے پی پی کے منیجر افضل خان، ریڈیو پاکستان کے چودھری بشیر اور ہم بھی ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں بھٹو صاحب سخت غصے میں ہیں۔ انہوں نے اپنا غصہ اٹامک انرجی کمیشن کے اس وقت کے سربراہ عثمانی صاحب پر نکالا۔ انہوں نے ان سے کہا ”آپ کب تک اٹامک انرجی کے لئے مغلوں کی طرز کی عمارتیں بناتے رہیں گے ‘ اور کب تک کہتے رہیں گے کہ ہم ”ٹیک آف‘‘ کی سٹیج میں ہیں۔ مجھے ابھی نتیجہ چاہیے۔ فوراً نتیجہ چاہئے‘‘۔ اور پھر اسی وقت انہوں نے ڈاکٹر منیر احمد خان کو اس کمیشن کا سربراہ بنا دیا۔ اس میں یقینا ڈاکٹر مبشر حسن کا مشورہ بھی شامل تھا۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ ڈاکٹر مبشر حسن امن پسند انسان تھے۔ وہ اٹامک انرجی کے پھیلاؤکے سخت خلاف تھے۔ اسی لئے انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی حرکت کو پسند نہیں کیا‘ اور ہمیشہ ان کی مخالفت کی۔
یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ڈاکٹر مبشر حسن کو پرندوں، خاص طور سے پاکستان کے رنگ برنگے پرندوں سے بھی بہت پیار تھا۔ وہ کیمرہ لے کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھومتے پھرتے اور ان کی تصویریں اتارتے تھے۔ آج بھی آپ ان کے ڈرائنگ روم میں جائیں تو دیواروں پر ہمارے ملک کے خوبصورت پرندوں کی تصویریں آویزاں نظر آئیں گی۔ اب آپ کہیں گے کہ کہاں اٹامک انرجی اور کہاں رنگ برنگے خوبصورت پرندوں کی تصویریں؟ کیا یہ تضاد نہیں ہے؟ جی، بالکل تضاد نہیں ہے۔ مبشر حسن امن کے شیدائی تھے۔ یہ امن خواہ فضاؤں میں ہو یا انسانوں اور مختلف ملکوں کے تعلقات میں۔ جنوبی ایشیا میں امن و امان کی یہی فضا قائم کرنے کے لئے ڈاکٹر مبشر حسن نے اپنے ہندوستانی ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی تھی۔ اس کا نام تھا ”پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘‘۔ ہر دو سال بعد اس تنظیم کا اجلاس ایک بار پاکستان میں اور ایک بار ہندوستان میں ہوتا تھا۔ اس تنظیم میں پاکستان اور ہندوستان کے بڑے بڑے نامور سیاسی اور سماجی دانشور شامل تھے۔ اس وقت یہاں ڈاکٹر مبشر حسن کے بعد جن سیاسی اور سماجی دانشور کا نام ہمیں یاد آ رہا ہے وہ آئی اے رحمن ہیں۔ یہ اجلاس پاکستان اور ہندوستان کے کسی ایک شہر میں نہیں ہوتے تھے۔ ہر بار شہر بھی بدل جاتا تھا تاکہ وہاں کے شہریوں کو بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی امن و آشتی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔ اور انہیں بھی ان سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ اس تنظیم کے ساتھ میری وابستگی بھی رہی ہے۔
اس وقت ہمیں کلکتہ (اب کول کتہ) اور بنگلور (اب بنگلہ لو رو) یاد آ رہے ہیں۔ جب کلکتے میں اجلاس ہوا تو مغربی بنگال میں کمیونسٹ حکومت تھی اور جیو تی باسو وزیر اعلیٰ تھے۔ پہلے تو ہم وہاں کی سادگی اور کفایت شعاری سے متاثر ہوئے کہ وزیر اعلیٰ خاموشی سے لوگوں میں آ کے بیٹھ گئے اور ہمارے مشہور کارٹونسٹ ”فیکا‘‘ ان سے ایسے باتیں کرنے لگے جیسے ان کا پرانا یارانہ ہو‘ لیکن ڈاکٹر مبشر حسن کا اس وقت قائل ہونا پڑا جب کلکتے کارپوریشن کے مسلمان میئر نے اپنی تقریر میں قیام پاکستان کے بارے میں کچھ قابل اعتراض باتیں کیں۔ ان کا جواب ڈاکٹر مبشر حسن نے دیا اور انہیں خاموش کرا دیا۔ اور ہمیں کلکتہ شہر میں پاکستان اور ہندوستان‘ دونوں ملکوں کے باشندوں کا وہ جلوس بھی یاد ہے جس میں سب مل کر گا رہے تھے ”ہم ہوں گے کامیاب۔ ہم ہوں گے کامیاب ایک دن‘‘۔ اور جن راستوں سے وہ جلوس گزر رہا تھا وہاں کے دکان دار بھی اپنی دکانوں سے باہر آ کر اس جلوس کا استقبال کر رہے تھے۔
اور جب بنگلور میں اس تنظیم کا اجلاس ہوا تو کرگل میں دونوں ملکوں کی فوجوں کی تازہ تازہ جھڑپیں ہو چکی تھیں۔ فضا خاصی کشیدہ تھی لیکن ڈاکٹر مبشر حسن اور آئی اے رحمن نے وہاں ہر اجلاس میں گفتگو کے لئے ایسے موضوع رکھے کہ کہیں بھی اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے۔ وہاں دونوں ملکوں کے مندوب مل جل کر باہمی امن اور شانتی کی فضا بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کر رہے تھے۔آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی ڈاکٹر مبشر حسن کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ ہندوستان کے اعلیٰ سیاسی حلقوں میں بھی ان کی بات غور سے سنی جاتی تھی۔ چند سال پہلے تک یہ جو دونوں ملکوں کے درمیان اندرونی بات چیت ہوتی تھی‘ اس میں ڈاکٹر مبشر حسن کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتاتھا۔
لیکن ڈاکٹر مبشر حسن صرف سیاست دان ہی تو نہیں تھے۔ ہمارے بزرگوں کی طرح ادب اور ثقافت سے بھی ان کا گہرا تعلق تھا۔ ویسے بھی وہ مولانا الطاف حسین حالی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ معروف ماہر تعلیم خواجہ غلام السیدین ان کے قریبی رشتے دار تھے اور سیدین صاحب کی صاحب زادی، جو ہندوستانی پلاننگ کمیشن کی رکن رہ چکی ہیں، ان کی بھتیجی ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے ادب سے اپنا تعلق اس طرح بھی قائم رکھا کہ انہوں نے سید قاسم جعفری کے ساتھ مل کر میر تقی میر اور غالب کے کلام کا انتخاب چھاپا۔ یہ دونوں انتخاب جیبی سائز کی کتابوں کی شکل میں موجود ہیں۔
تو کیا اب یہ کہہ دیا جائے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ اس سیاست اور اس سماجی دانش کا وہ دور ختم ہو گیا جو پختہ اصولوں کی بنیاد پر کھڑا تھا؟ یہ ڈاکٹر مبشر حسن اور ان کے ساتھی ہی تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی سے اختلاف کیا‘ اور جنہوں نے سیاسی نظریے کی بنیاد پر بھٹو کی بیٹی بے نظیر کو چھوڑا‘ اور غنویٰ کے ساتھ مل کر ایک اور پارٹی بنائی۔ اب مبشر حسن تو چلے گئے، مگر ان کی کتابیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پرندوں پر ان کی کتاب پڑھ لیجئے، یا پھر قومی اور بین الاقوامی سیاست پر ان کی کئی کتابیں۔ ”شاہراہِ انقلاب‘‘ کی دوسری جلد تو ابھی چند سال پہلے ہی چھپی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker