تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے تین افراد پر مشتمل مذاکراتی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔ ان میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے علاوہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شبلی فراز شامل ہیں۔
اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کے دوران اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ان تین افراد کے سوا کسی کو اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ پارٹی کے بانی سربراہ کی اس وضاحت سے یہ غلط فہمی دور ہوگئی ہے کہ تحریک انصاف ’حقیقی آزادی‘ کے ذریعے واقعی کوئی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ عمران خان عسکری قیادت کے ساتھ مل کر ہائیبرڈ نظام کے تحت حکومت کرنے اور پھر جیسا کہ ایسے انتظام میں عام طور سے ہوتا ہے کہ آرمی چیف کے ساتھ اختلافات کی صورت میں زوال کا سفر شروع کرنے کے بعد بھی اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے ہی سیاست کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
اس ارادہ کا اظہار کرکے عمران خان نے دو باتیں واضح کی ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں اور شہباز شریف میں بنیادی طور سے کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ دونوں ہی فوج کی انگلی پکڑ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ شہباز شریف اس بار اس مقصد میں اسی طرح کامیاب ہوئے ہیں جیسے 2018 میں عمران خان اقتدار تک پہنچ گئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ حقیقت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اگر ’ووٹ کو عزت ‘ میسر نہیں ہوتی تو یہاں پر ’حقیقی آزادی‘ کا بھی کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہ باتیں نعرے بلند کرنے اور سادہ لوح عوام کو رجھانے کی حد تک قابل عمل ہیں، اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
عمران خان کے پیرو کار ان کی قیادت میں اس وقت انقلاب برپا کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ کامل یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی ‘صاف گوئی‘ کے بعد بھی ان کے حامیوں کی اس بے قراری میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن تاریخ کے کسی موڑ پر ضرور ان شیدائیوں کو یہ علم ہوپائے گا کہ باقی سیاسی رہنماؤں کی طرح عمران خان نے بھی کرکٹ اور خیراتی کاموں میں کافی وقت گزار نے کے بعد بہت سوچ سمجھ کر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جو شخص بھی پاکستان میں سیاست کرنے کا قصد کرتا ہے ، وہ ایک ہی ارادہ لے کر آگے بڑھتا ہے کہ اقتدار اس کے حوالے کردیا جائے۔ یہ خواہش کرتے ہوئے وہ اس گمان میں بھی مبتلا ہوتا ہے کہ ایک بار وہ اقتدار میں آگیا تو پاکستانی عوام کی زندگی تبدیل کردے گا اور ملک کی تقدیر سنور جائے گی۔ لیکن اقتدار کے لیے سیاست کرنے والے کسی بھی سیاست دان کا مطمح نظر کوئی اصلاحی ایجنڈا نہیں ہوتا جیسے کسی سیاسی پارٹی کا نام تحریک رکھ دینے سے کسی تبدیلی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ اس کے لئے عوام کی ذہن سازی اور سیاسی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کو ’جادو کی چھڑی‘ سمجھنے والے سب ہی سیاست دان یہ مشکل سفر طے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اسی لیے کچھ پارٹیاں خاندانوں کی ملکیت ہیں اور کچھ پر افراد قابض ہیں ۔ تحریک انصاف نے باقاعدہ ’عمران کلٹ‘ کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اس پارٹی کے حامیوں کو دلیل یا حقائق سے غرض نہیں ہے بلکہ ان کے لیے اہم یہی ہے کہ عمران خان کیا کہتے ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں۔
یہ طرز عمل عمران خان کو مقبولیت کی انتہائی بلندی پر بھی لے جائے تو بھی پاکستانیوں کوکوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کو درحقیقت دو تہائی یا شاید تین چوتھائی اکثریت حاصل ہوچکی تھی لیکن فارم 45 اور فارم 47 کے ہیر پھیر نے انہیں اقتدار تک پہنچنےنہیں دیا۔ ان دعوؤں کی حقیقت تحریک انصاف کے سوا الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے جانی جاسکتی ہے لیکن پاکستان کے سیاسی مباحث میں اعداد و شمار اور زمینی صورت حال کو گفتگو کا حصہ بنانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر کہنے کا مقصد صرف اس قدر ہے کہ سیاسی لیڈروں کے موجودہ طرز عمل میں اگر عمران خان کی پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کو واقعی ویسی ہی شاندار کامیابی نصیب ہوجائے جس کے خواب دیکھے جاتے ہیں تو بھی ملک میں جمہوریت یا عوامی حکمرانی کے مقصد کی طرف پیش رفت نہیں ہوگی۔
کیوں کہ عوام کے ووٹوں کو سیاسی تبدیلی لانے کی بجائے اقتدار تک پہنچنے کا طریقہ بنا لیا گیا ہے۔ اسی لیے قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کسی بلدیاتی ادارے کے رکن کے طور پر علاقے میں ترقیاتی کام کروانے کے وعدے کرتے ہیں اور اقتدار ملنے کے بعد ، تمام سیاسی پارٹیاں یہ وعدے کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ اسی لیے ملک میں جمہوری رویوں کی اٹھان، عوامی مسائل کے حل اور ووٹ سے تبدیلی کا نظام استوار کرنے کے لیے بلدیاتی نظام کو مستحکم نہیں کیا جاتا۔ اور نہ ہی سیاسی پارٹیوں کو حقیقی جمہوری بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوری انقلاب برپا کرنے کی داعی تحریک انصاف ہی کو دیکھ لیا جائے، تو اس کا کوئی ڈھانچہ یا فیصلہ ساز ادارہ دکھائی نہیں دیتا۔جو شخص بھی جیل میں عمران خان سے مل لے یا ان کے ساتھ گفتگو کا حوالہ دے کر نعرے بازی کرلے ، وہی حقیقی لیڈر ہے۔ انتہائی بحران کے باوجود تحریک انصاف شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے۔ پارٹی کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اگر عمران خان سیاست چھوڑ دینے کا اعلان کردیں یا خدا نخواستہ انہیں کچھ ہوجائے تو تحریک انصاف کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔
اقتدار کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والوں کو کسی لائحہ عمل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ نواز شریف اپنی پارٹی کو اقتدار ملنے تک عوامی حکمرانی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن اب اطمینان جاتی عمرہ میں بیٹھے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ وہ کیسے پنجاب حکومت کو مرکز میں اپنے ہی بھائی کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کریں یا شہباز شریف کے گرد اپنے حامیوں کا گھیرا تنگ کرسکیں تاکہ کسی طرح چوتھی بار وزیر اعظم بننے یا پاکستانی سیاست کا ’گاڈ فادر‘ قرار پانے کی امید بارآور ہو۔ بعینہ عمران خان اقتدار کے حصول کے لیے امپائر کی انگلی ہی کو منزل سمجھتے تھے اور زمینی حالات تبدیل کرنے کی بجائے امپائر کے ساتھ مل کر حریف کو شکست دینے پر یقین رکھتے تھے۔ اس وقت ملکی فلاح و بہبود کے لیے پاک فوج ہی کی سیاست روشنی کی امید تھی کیوں کہ فوجی قیادت ہائیبرڈ نظام کے ذریعے عوام کے ووٹوں پر اعتبار کرنے کی بجائے، اس رائے کو عمران خان کے حق میں ’مینیج‘ کرنے پر یقین رکھتی تھی۔ 2018 میں بخوبی یہ مقصد حاصل کیا گیا لیکن اقتدار سے محرومی کے بعد وہی فوج اور وہی جنرل ‘ولن‘ کی صورت اختیار کرگئے۔ عمران خان میڈیا میں جو بھی بیان دیتے رہیں لیکن سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم جوئی میں تحریک انصاف پیش پیش ہے۔ خود عمران خان، جنرل عاصم منیر کا نام لے کر الزام تراشی کرچکے ہیں۔ لیکن طرفہ تماشہ ہے کہ اب وہ اسی عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکراتی ٹیم بنانے کا اعلان کررہے ہیں۔
عمران خان بھی جانتے ہیں کہ فوج فی الوقت تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ لیکن ایک طرف فوج مخالف پرپیگنڈے کے ذریعے اور اب ’مذاکرات‘ کی دعوت دے کر فوج کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے حالات سازگار ہوسکیں۔ تحریک انصاف اس وقت قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ خیبر پختون خوا میں اس نےحکومت قائم کی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے پارٹی کے خلاف کیے گئے اقدامات کی وجہ سے میڈیا اور عدلیہ کی ہمدردیاں بھی پارٹی کے ساتھ ہیں۔ لیکن عمران خان ان کامیابیوں کو جمہوری مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی بجائے، اسے اسٹبلشمنٹ پر بات چیت کا دباؤ ڈالنے کے لیےاستعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ملک کی سب بڑی پارٹیوں کو ’چور اچکے‘ قرار دے کر کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کرچکے ہیں۔ لیکن ان کی پارٹی جس فوج کو بے توقیر کرنے کے لیے اندرون و بیرون ملک ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے، وہ اسی کے ذریعے کسی بھی طرح سیاسی میدان مارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایک لحاظ سے عمران خان کا یہ رویہ حقیقت پسندانہ یا Pragmatic ہے۔ کیوں کہ فوج ہی ملکی سیاست میں سب سے قابل اعتبار، پائیدار اور مستقل عنصر ہے۔ سیاسی اقتدار کا کوئی راستہ فوج کے ساتھ لین دین کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن دیگر سیاست دانوں کی طرح ملکی سیاسی رویوں میں انقلاب برپا کردینے کے داعی عمران خان بھی یہ اعتراف نہیں کریں گے کہ فوج کو یہ طاقت در حقیقت سیاسی لیڈروں کی جاہ پرستی، ایک دوسرے کے خلاف مخاصمت و دشمنی اور کسی قومی ایجنڈے کے لیے مل کر کام کرنے سے گریز کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ یک طرف حکومت قومی مسائل حل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کونسل یا گرین انیشیٹو جیسے منصوبوں کے ذریعے فوج کو ملکی نظام میں عقل کل اور ناقابل تردید سچائی کے طور پر پیش کررہی ہے۔ تو دوسری طرف عمران خان سیاسی پارٹیوں سے مواصلت مسترد کرتے ہوئے فوج کے ساتھ بات چیت ہی کو مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں۔ یہ فوج کی کامیابی اور سیاست دانوں کی ناکامی کا اعلان ہے۔ ملکی سیاست کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے۔ باقی سب نعرے بازی اور عوام کو بے وقوف بنانے کے ڈھکوسلے ہیں۔
امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے لیکن ملک کے سیاسی دائرے میں جب تمام سیاسی عناصر عوام کی مرضی کو غیر اہم یا Marginalize کرنے لگیں تو جمہوی تبدیلی ایک ناقابل یقین خواب بن کر رہ جاتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

