پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے امریکہ کے اٹلانٹک کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکا میں آئی ایم ایف حکام سے ملاقات ہوئی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ پیٹرول پر سبسڈی نہ دی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بھی متفق ہے کہ ان سبسڈیز کے متحمل نہیں ہو سکتے، انھیں کم کرنا پڑے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی اور مالیاتی استحکام لانا اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا ہے، حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کرے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں سٹرکچرل اصلاحات چاہتی ہے۔ ان کے مطابق وہ اس بات پر متفق ہیں، یہ بنیادی نوعیت کی چیزیں ہیں۔
ان کے مطابق یہ اصلاحات ضروری ہیں اور انھیں متنازع نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہیں، آئی ایم ایف پروگرام ڈی ریل ہوچکا تھا جسے ٹریک پر واپس لائیں گے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ان کی آئی ایم ایف سے بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے امریکہ سے بھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی استدعا کی ہے۔
خیال رہے کہ مئی 2019 میں پاکستان اور آئی ایم ایف نے 3 برس کے لیے ای ایف ایف پروگرام کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ملک کو 39 ماہ میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملنا تھے۔ فروری میں آئی ایم ایف نے پروگرام کے چھٹے جائزے کی منظوری دی جس سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی، اب تک آئی ایم ایف پاکستان کو تقریباً تین ارب ڈالر دے چکا ہے۔
فیس بک کمینٹ

