امی جان رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے۔ اور مجھے آپ کو سلام کرنا ہے۔ آپ کو یاد ہے نا کہ جب چاند نظر آتا تھا تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی سلام کرتا تھا۔ آپ وعلیکم السلام کے ساتھ سب کے لیے دعا کرتی تھیں۔ ”خیر دا مہینہ ہووے“ ۔ ”سب دی خیر ہووے“ جیوندے رہوو ”یہ اور ایسی بہت سی دعائیں آپ ایک ہی سانس میں ہمیں دیتی تھیں۔ گزشتہ برس ان دنوں آپ کی طبیعت بہت ناساز تھی لیکن رمضان کا چاند نظر آیا تو آپ نے نئے کپڑے پہنے تھے۔ چلنا پھرنا تو آپ کا طویل عرصہ سے موقوف تھا لیکن گزشتہ برس تو آپ کے لیے بیٹھنا بھی ممکن نہ رہا تھا۔ بس لیٹ کر تسبیحات کرتی تھیں۔ اور دعائیں دیتی تھیں۔ اور آپ ماں تھیں۔ ماؤں کے پاس دعاؤں اور محبتوں کے سوا ہوتا بھی کیا ہے۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ دس برس قبل تک تو آپ باقاعدگی سے رمضان ہی نہیں شوال کے روزے بھی رکھتی تھیں۔ دن بھر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتیں اور اس ماہ مبارک میں ایک سے زیادہ قرآن پاک ختم کرتیں۔ پھر نقاہت میں اضافہ ہوا تو ہم نے آپ سے کہا کہ اب آپ روزہ نہ رکھا کریں۔ لیکن آپ کا اصرار تھا کہ روزے ضرور رکھنے ہیں۔
” میں نے کون سا گھر سے باہر جانا ہے مجھے روزہ کچھ نہیں کہے گا“ یہ آپ کا مخصوص جملہ تھا۔ آپ سحری پر اصرار کرتی تھیں۔ سو آپ کو سحری پر جگا کر روزہ رکھوا دیا جاتا۔ ”
یہ تو ماہِ صیام کے آغاز پر ماں کے ساتھ ایک مکالمہ تھا۔ لیکن یہ مکالمہ ہمیں برسوں پرانے منظروں میں لے گیا۔
وہ منظر جب ہم بچپن میں صدر بازار میں دادا کے گھر میں رہتے تھے۔ ان منظروں میں میپکو کا وہ بجلی گھر بھی موجود ہے جس کے سائرن پر روزہ کھولا جاتا تھا۔ ہم اسے ”گھگُو“ کہتے تھے۔ گھگو یا سائرن کی دو آوازیں شہر میں سنائی دیتی تھیں۔ ایک میپکو بجلی گھر والے سائرن کی اور دوسرا گھنٹہ گھر والا سائرن تھا جو سحری اور افطاری کے وقت بجایا جاتا تھا۔ ”گھگُو“ کے بارے میں ہمارا تصور بھی بہت عجیب سا تھا۔ سکول میں کسی سے پوچھا کہ یہ ”گھگُو“ کیا ہوتا ہے؟ اس نے ہماری لاعلمی پر حیرت کا اظہار کیا ہمیں بدھو کہا۔ اور سب کو بتایا کہ دیکھو اسے ”گھگُو“ کا نہیں پتا۔ پھر اس میں بقراطی روح حلول کر گئی۔
” سن بھائی یہ جو“ گھگُو ”ہے ناں یہ ایک چھوٹا سا پرندہ ہے جسے بجلی گھر کی چمنی میں قید کیا ہوا ہے۔ اس کو روزہ نہ رکھنے کی سزا دی گئی ہے۔ جب افطاری کا وقت ہوتا ہے تو ایک بٹن سے اسے دبا دیا جاتا ہے اور پھر وہ ہُوووووووووو۔ کی آواز نکالتا ہے۔ “
تری کوک میں برہا اگن ہے
کوئیلیا تو برہن ہے
ہمیں ”گھگُو“ کی حالت پر بہت ترس آیا پھر ایک روز امی جان سے اس کے بارے میں پوچھ لیا۔ وہ ہنسیں اور بتایا کہ ”گھگُو“ واقعی جنگلی فاختہ کی کُوک کو کہتے ہیں۔ تمہارا کلاس فیلو درست کہتا ہے کہ یہ ایک پرندہ ہے لیکن بٹن دبا کر آواز نکالنے والی بات درست نہیں ہے۔ پھر ہمیں تاکید کی کہ اب سکول جا کر اس کا مذاق نہ اڑانا۔
دس برس قبل گرمیوں کے روزے تھے۔ امی ان دنوں باقاعدگی سے روزے رکھتی تھیں۔ پیاس لگتی تو وہ اظہار نہ کرتیں ہاں البتہ برف والے پانی میں دو پٹہ بھگو کر اپنے سر پر ڈال لیتی تھیں۔ پھر ان کی حالت دیکھ کر انہیں کہا جاتا کہ امی اب آپ روزہ کھول لیں۔ وہ گھڑی کو دیکھتیں اور روزہ کھولنے سے انکار کر دیتیں۔ پھر انہیں ہم سمجھاتے کہ امی آپ دن میں دو روزے رکھ لیا کریں ( جیسے بچے اگر ضد کریں تو انہیں ”چڑی روزہ“ رکھوایا جاتا ہے ) پھر وہ مسکراتیں اور کہتیں میں بھی تو اب بچہ ہی بن چکی ہوں۔ پھر ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور وہ ہچکیاں لے کر رونے لگتیں۔
جب صحت ٹھیک تھی تو امی افطاری خود تیار کرتی تھیں۔ میں تو افطاری کے وقت اکثر اوقات گھر نہیں ہوتا تھا لیکن امی اس دستر خوان کو بہت اہتمام کے ساتھ رونق بخشتی تھیں۔ انہیں ایک کرسی پر بٹھایا جاتا تھا اور وہ سب کے ساتھ افطاری کرتی تھیں۔ تین برس قبل ان کے کمرے میں ہی افطاری پہنچا دی جاتی تھی۔ اس ماہ مبارک میں وہ پھینیاں بہت شوق سے کھاتیں۔ کچوریاں بھی انہیں پسند تھیں۔ افطاری کے بعد الحمد لا اللہ کے ساتھ ایک گیت بہت لہک کر گاتی تھیں
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے
یہ مضمون ہم نے چاند نظر آنے کے بعد تحریر کرنا شروع کیا تھا اور آج دوسرا روزہ بھی امی کے بغیر گزر چکا ہے۔ یادیں ہیں اور باتیں جو مسلسل اشکبار کر رہی ہیں۔ ان کا کمرہ ہر رات مجھے آواز دیتا ہے کہ آؤ امی جان تمہیں یاد کر رہی ہیں۔ میں ان کی آواز پر لپکتا ہوں انہیں اسی کمرے میں اپنے پاس محسوس کرتا ہوں۔ رات بھر ان سے باتیں کرتا ہوں۔ اور پھر ان کی آواز میری سماعتوں میں گونجتی ہے
لالہ و گل بھی اک تسلی ہے
کون آتا ہے جا کے اتنی دور
فیس بک کمینٹ

