تجزیےجہان نسواں / فنون لطیفہلکھاریمختار پارس

گھریلو تشدد کے واقعات:کیا معاملہ صرف” مردانگی“ کا ہے : سوچ وچار / مختار پارس

خواتین تشدد کے خلاف قوانین کا سہارا لیں ۔۔ سائینسی و نفسیاتی تجزیہ

آئیے آج اس بات کا سائینسی جائزہ لیتے ہیں کہ گھروں میں خواتین پر تشدد کیوں ہوتا ہے اور اس کے سدباب کےلیے کون سے اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔ ماہرینِ طب اور نفسیات متفق ہیں کہ پاکستان میں مندرجہ ذیل عوامل گھروں میں عورتوں پر تشدد کا باعث بنتے ہیں:
1۔ مرد کا احساسِ کمتری اور نااہلی اسے تشدد پر اکساتا ہے۔
2۔ کردار پر شک و شبہ لڑائی جھگڑے کا باعث بنتا ہے۔ اکثر صورتوں میں مرد کا اپنا کردار اچھا نہ ہونے کی صورت میں بیوی کے اعتراضات لڑائی کا باعث بنتے ہیں۔
3۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے یا نہ دینے کی معاملے پر بد نیتی لڑائی جھگڑے کا باعث بنتی ہے۔
لندن میں قائم ایک تحقیقی ادارے ” او ڈی آئی” نے جنوبی ایشیا میں گھریلو تشدد میں نفسیاتی عوامل پر ایک تحقیق میں یہ ثابت کیا ہے کہ بیوی تشدد کی ایک وجہ مرد کی جنسی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔ مرد اپنی نامردی کی وجہ سے ایک خاص قسم کے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتا ہے جو اسے عورت پر ہاتھ اٹھانے اور دھونس جمانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ وہ مار پیٹ کے ذریعے عورت کو زیر کرکے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ مرد ہے حالانکہ اس کو غصہ اپنی دوسری کمزوریوں پر ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ عورت پر شک کرنے والے مردوں کی اکثریت بھی مردانہ کمزوری کا شکار ہوتی ہے اور انہیں ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ان کی عدم فعالیت کی وجہ سے عورت کہیں اور نہ دیکھنا شروع کردے۔ اس کی نفسیاتی حکمتِ عملی یہ ہوتی ہے کہ تشدد کے ذریعے وہ اپنے گھر پر موجود ایک عمر بھر کےلیے تعینات بلاتنخواہ نوکرانی کو اپنے قابو میں کیے رکھیں۔
بیویوں پر تشدد کرنے والے مردوں کی دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو خود کسی کام کے اہل نہیں ہوتے اور صرف اپنے مرد ہونے کی خصوصیت کی وجہ سے اپنے سے بہتر لڑکیوں اور معاشی اور معاشرتی طور پر اپنے سے بہتر خاندان میں شادی کرنے کی کامیاب کوشش کر بیٹھتے ہیں۔ شادی کے بعد ان کا معاشی اور معاشرتی احساسِ کمتری اور شدت سے نکھر کر سامنے آ جاتا ہے اور پھر ان کے نت نئے مطالبات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اگر بیوی کہیں ملازمت کرتی ہے تو اس سے کہا جاۓ گا کہ وہ ملازمت چھوڑ دے کیوں کہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان سے کمزور عورت اس قابل ہو کہ کما کر لاۓ اور اس کی معاشی محتاج نہ رہے۔ پھر اس سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے میکے سے کاروبار شروع کرنے کےلیے سرمائے کا انتظام کرے اور اگر وہ خاتون ایسا نہ کرسکے تو اس کے میکے جانے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ اس معاشرتی تانے بانے کے گمبھیر ہونے کا آپ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک شخص جس کی اپنی بہنیں اور بیٹیاں دوسرے گھروں میں تشدد کا نشانہ بن رہی ہوتی ہیں وہ خود اپنے گھر میں موجود عورتوں کا استحصال کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاشرے کا ان لکھا قانون ہے کہ عورت پر سختی کرنا مرد کا حق ہے اور یہ کہ وہ اس کا مجازی خدا ہے۔ ایسا شخص پھر لاشعوری طور پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ بھی اپنی بیوی کو مار پیٹ کر لیتا ہے۔ وہ اپنے بہنوئی کا ہاتھ نہیں روکے گا کیونکہ معاشرہ یہ تسلیم کروا چکا ہے کہ جس گھر میں بہن اور بیٹی کا رشتہ دے دیا، وہاں اونچی آواز میں نہیں بولنا۔ اس معاشرتی رویے کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ معاشرے کے منہ پر سے اس منافقت کو اتار پھینکنے کا وقت آگیا ہے کہ آپ ایک بچی کی محبت سے پرورش کریں، اس کی عزت، پردے، نام اور ناموس کا خیال یوں رکھیں کہ سکول کالج جاتے ہوۓ بھی محافظ ساتھ ہوں، اور کسی اجنبی کی نظر بھی اس برقعوں میں لپٹی خاتون پر نہ پڑے اور پھر جیسے ہی اس کی شادی ہو جاۓ تو آپ اس کو طرف سے آنے والی خبروں کو سنی ان سنی کرتے رہیں۔ کیا شادی کے بعد عورت کی عزت اور ناموس نہیں رہتی کہ اس پر تشدد کی خبریں اس کے گھر والوں کےلیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں؟
جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں وہاں عورت پر ہاتھ اٹھانے والے کو عموماً شعوری طور پر اس بات کا ادراک نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ یہ تحریر ایسے جوانمردوں کےلیے یقیناً فائدہ مند ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ اس ذہنی کیفیت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہوں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گھر میں نظم و نسق کی ذمہ داری عورت پر ہے۔ لیکن یہ نظم و نسق عورت اس وقت نبھا سکتی ہے جب اس کے اپنے اختیار میں کچھ ہو۔ ایک عورت ایک گھر کو احسن طریقے سے کیسے سنبھال سکتی ہے اگر اس پر گھر میں ہاتھ اٹھایا جاتا ہو؟ جہاں ساس اور نندوں کو بہو کی شکل پسند نہ آۓ اور وہ اس کو گھر سے نکالنے کے بہانے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کا گھر تڑوانے کے چکر میں ہوں تو پھر وہ خاتون اپنےگھر کی نگران کیسے بن سکتی ہے؟
انسان کی زندگی پر مقامی رہن سہن کا اثر مذہب سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مذہب سے جذباتی لگاؤ رکھنے کے باوجود وہ کام نہیں کر پاتے جو ان کے مقامی رسم و رواج کے موافق نہ ہوں، چاہے مذہب ان کی تلقین ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ برِصغیر پاک و ہند میں عورت کے تصور کی جو معاشرتی تعمیر کی گئی ہے اس میں اس کی زندگی کا محور اس کا خاوند ہے۔ اس معاشرے میں عورت کی زندگی کا واحد مقصد شادی ہے اور شادی کے بعد کپڑے دھونا اور روٹی پکانا ہے۔ یہ دنیا کا شاید واحد معاشرہ ہے جہاں مرد اپنے گھر کے کام کاج کرانے کےلیے شادی کرتا ہے۔ اس سارے عمل میں محبت، پیار، عزت اور حقوق سے متعلق معاملات کی گنجائش نہیں کیونکہ معاشرہ عورت سے برابری کی بنیاد پر بات کرنے والے کو ‘رن مرید’ کہتا ہے۔ اس لیے مرد کےلیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی مردانگی کو ثابت کرنے کےلیے اپنی عورت سے بدزبانی کرے اور اسے مارپیٹ کا نشانہ بناۓ۔ وہ شخص جو کبھی مکھی بھی نہیں مار سکتا، وہ بھی بیوی پر بہت آسانی سے ہاتھ اٹھا سکتا ہے کیونکہ اس کو یہ حق معاشرے نے تفویض کیا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر مار پیٹ ان وجوہات کہ بنا پر ہوتی ہے کہ کھانا ابھی تک کیوں نہیں بنا؟ اپنے ماں باپ سے بات کیوں کی؟ میری بہن کے ساتھ عزت سے بات کیوں نہیں کی؟ میرے بھائی نے گالی دی تو جواب میں کیوں بولیں؟ میرے کپڑے استری کیوں نہیں کیے؟ اس طرح کے مناظر یوں ہمیں ہر طرف نظر آتے ہیں اور یہ نارمل تصور کیا جاتا ہے۔
دلچسپی کا امر یہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو تشدد کے واقعات متوسط طبقے میں زیادہ رونما ہو رہے ہیں۔ نچلے طبقے میں زراعت سے منسلک مزدور اور کسان گھرانوں میں عورت کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو گھر سے باہر خاوند کا کھیتی باڑی میں بھی ہاتھ بٹاتی ہے اور گھر داری میں بھی مدد کرتی ہے۔ خوشحال طبقہ میں بھی عورتوں پر تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں۔ یہ متوسط طبقے کے نودولتیے، مذہبی جنونی، مردانہ روایات کے پاسبان اور سخت معاشرتی رویوں کے امین ہوتے ہیں جن کی غیرت عورت سے شروع ہوتی ہے اور عورت پر ختم ہوتی ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی خوبصورت ترین، کم عمر ترین، پڑھی لکھی، پیسے والی، سگھڑ، سلیقہ شعار، ملنسار، کم گو لڑکی اپنا گھر بار، کام کاج، علم، رشتے دار، ماں باپ اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شادی کے بعد ایک ہی دن میں اس سے اتنی شدید محبت کرنے لگے کہ کبھی مڑ کر اپنے گھر والوں کا نہ سوچے، اس کو دیکھ کر ہر وقت مسکراتی رہے، اس کی روٹی پکاتی رہے، کپڑے استری کرتی رہے، پوچے مارتی رہے، تعلیم چھوڑ دے، نوکری چھوڑ دے، بچے پیدا کرے، پال پوس کر جوان کرے اور جب بھی ضرورت محسوس ہو، مار بھی کھاتی رہے۔
عورتوں پر تشدد کے اسباب میں ایک بڑا سبب ‘نکاح نامہ’ میں مناسب شقوں کا شامل نہ ہونا ہے۔ حکومت کو چاہیۓ کہ اس دستاویز میں مناسب لازم شقیں شامل کرنا یقینی بناۓ جو مرد کو ذمہ دار بنائیں تاکہ گھریلو تشدد کی لعنت سے چھٹکارا پایا جا سکے۔ یوں آپ دیکھیے کہ نکاح نامے پر دلہن کے دستخط کرواتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے کہ حق مہر شرعی ہو اور اس کے علاوہ خاتون کی جانب سے کسی شرط یا حق کا تذکرہ نہ ہو۔ لیکن خواتین کے معاشرتی اور معاشی حقوق کا تذکرہ اس ‘کنٹریکٹ’ میں کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی وجہ وہی معاشرتی سوجھ بوجھ میں کمی ہے جو شادی کو عورت کے ہر معاملے اور مسئلے کا حل گردانتی ہے۔ معاشرے کی تربیت ہونے والی ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ اپنی بیٹیوں کی شادی ان دیکھے، ان جانے، نااہل اور نفسیاتی بیمار لوگوں سے کرنے سے بہتر ہے کہ آپ ان کی تربیت اس طرح سے کریں کہ وہ معاشرتی اور معاشی طور پر خود زندگی عزت سے گزارنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ان کے اس حق کی حفاظت ریاست کا کام ہے۔ آپ اپنی بچیوں کو اچھی تربیت اور اچھی پر اعتماد زندگی دے کر انہیں گھریلو تشدد سے بچا سکتے ہیں۔ جن بچیوں کو آپ اتنے پیار سے پال پوس کر دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں، کیا ان کو مار پیٹ کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ سرکاری طور پر لازمی ہونا چاہیۓ کہ شادی سے پہلے مردوں کا نفسیاتی اور طبی ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیئے تاکہ بعد میں خانگی مسائل پیدا نہ ہوں۔
سسرال میں عورت کو جن حالات اور واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بہت تشویشناک ہے۔ یہ بات معاشرے کے اجتماعی لاشعور میں پھنسی ہوئی ہے کہ عورت نے جس مشکل میں زندگی گزاری ہوتی ہے، وہ یہ چاہتی ہے کہ اس کے بیٹے اس کا بدلہ آنے والی بہو سے لیں۔ مرد کی بہنیں اس غم میں ہلکان کہ ان کا بھائی چھن گیا ہے۔ دیور بھائی کی بیوی پر رعب جمانا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اور کبھی کبھی کوئی تھپڑ بھی لگا سکتا ہے۔ گھر والوں کے کہنے پر بیوی کا روٹی پانی بند کرنا، گلہ دبانا، دھکے مارنا، ماں باپ کو گالیاں نکالنا معمول کی بات ہے۔ گھبرانے کی بات تب شروع ہوتی ہے جب خاوند کے گھر والے یہ پلاننگ شروع کر دیں کہ میاں بیوی کے درمیان نفاق کا کوئی راستہ نکالا جاۓ تاکہ ان کی کسی خاص حس کو تسکین مل سکے اور گھر کے معاملات میں ان کا اثر رسوخ دوسروں کی زندگی میں بھی قائم و دائم رہے۔ واضح رہے کہ یہ سب صرف بہو کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نقطہ ہے جس پر آبادی کی بہتری کی پلاننگ کرنے والوں کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے احداف کے تناظر میں کوئی فیصلہ رائج کرنا چاہیۓ۔ یہ کام ریاست کا ہے کہ اگر ملک کی آدھی آبادی کسی معاشرتی یا نفسیاتی بیماری کے شکار لوگوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی ہے تو اس کا سدباب ضروری ہے۔ اس پر خاموشی کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہب سے دیوانگی کی حد تک محبت بھی اس خطے کے لوگوں کو عورتوں کو وہ حقوق دینے میں معاون ثابت نہیں ہو سکی جو مذہب نے انہیں عطا کیے ہیں۔ لوگ مصیبت کے وقت چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینا نہیں بھولیں گے مگر اس بات کا انہیں احساس تک نہیں ہو گا کہ یہ مصیبت ان پر کسی عورت پر بے وجہ ظلم ڈھانے کی وجہ سے بھی تو آ سکتی ہے۔ اسوۃ رسولؐ سے ثابت ہے کہ حضورؐ حضرت خدیجہ سے کس قدر احترام سے پیش آتے تھے، حضرت فاطمہؑ کے آنے پر کیسے محبت سے کھڑے ہو جاتے تھے اور حضرت عائشہ کے ساتھ کس بے تکلفی اور پیار سے پیش آتے تھے۔ کیا ان کا یہ اسوۃ مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ نہیں؟ پھر یہ کیوں ہے کہ اس خطے کے لوگ بیٹی کو، بیوی کو اور حتیٰ کہ ماں کو بھی جائیداد اور پیسے کا حصہ نہیں دیتے۔ لوگ اپنی بیٹییوں اور بھتیجیوں کی شادیاں نہیں ہونے دیتے کہ کہیں مال و دولت میں سے حصہ نہ دینا پڑ جاۓ۔ اس بیوی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے جس نے پندرہ سال اس مرد کی بلامعاوضہ خدمت کی ہوتی ہے۔ کیا یہ نکاح نامے کے ‘کنٹریکٹ’ میں لکھا ہوتا ہے؟ اگر معاشرے سے عورت پر تشدد کا خاتمہ ضروری ہے تو اس حوالے سے وفاقی محتسب براۓ خواتین کو انفرادی کیسوں پر فیصلہ دینے کی بجاۓ کوئی قومی پالیسی کا اعلان کرنا چاہیئے جس پر عمل کر کے ہم اپنی پیاری پیاری بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں پر ظلم کے دروازے بند کر سکیں۔
لوگوں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ عورت پر گھریلو تشدد قابلِ تعزیر جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت مقدمہ درج ہو تو تشدد کا مجرم دس سال تک کی قید کا حقدار قرار پا سکتا ہے۔ اب نظریات بدل رہے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ بہن اور بیٹی پر تشدد نہیں ہونے دیں گے۔ یقیناً تشدد کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 354-اے کے تحت انہیں عمرقید بھی ہو سکتی ہے۔ مردوں کو خواتین پر تشدد کے محرکات کو سمجھنا ہو گا اور ان پر قابو پانا ہوگا۔ اگر معاملہ لگائی بجھائی کا ہے تو اس پر گفت و شنید کر کے حل نکالنا بہتر قدم ہے۔ اگر معاملہ نفسیاتی مسائل کا ہے تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا قید کاٹنے سے بہتر ہے۔ پنجاب میں تو خواتین کے تشدد کی روک تھام کےلیے ایک کمیشن بھی قائم ہے جہاں خواتین 1043 پر فون کرکے مدد طلب کر سکتی ہیں۔ ایف آئی اے اور متعلقہ ادارے سوشل میڈیا کے معاملات کے تناظر میں گھروں میں موجود خواتین کو فوری امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ پی ٹی اے ان خاوند صاحبان کے خلاف فوری کاروائی کر سکتا ہے جو اپنی بیویوں کو فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ایک ایس ایس پی کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا جو اپنی بیوی کو کسی دوسرے نمبر سے فون کرکے پریشان کر رہا تھا۔ معاملہ اب مردانگی کا نہیں رہا۔ اب معاشرے کو اپنے خدو خال نئے طریقے اور سلیقے سے تحریر کرنے پڑیں گے۔ اب آپ کی عزت اپنے ہاتھ میں ہے۔ اپنے گھر میں موجود عورت کی عزت کریں اور اس کے حقوق کا خیال رکھیں گے تو آپ کی اپنی عزت محفوظ رہے گی۔ نہ کسی کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی بہن اور بیٹی پر ہاتھ اٹھاۓ اور نہ آپ خود اس جرم کے مرتکب ہوں۔ حکومتِ وقت اس ضمن میں بہت سنجیدگی سے کچھ نئے قوانین اور اقدامات متعارف کروانے کا سوچ رہی ہے۔ وقت آنے پر یہ اصلاحات آپ کے سامنے آ جائیں گی۔ فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنا اپنا قبلہ درست کر لیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker