توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی سے جہاں تحریک انصاف اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے وہاں پارٹی چیئر مین کا یہ بیان بھی سامنے آرہا ہے کہ اگر دو تہائی اکثریت نہ ملی تو وہ حکومت نہیں لیں گے مگر اس کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف اسلام آباد پر چڑھائی کرنے میں کامیاب ہوپائے گی ۔
جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی حلقے یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ تحریک انصاف اسلام آباد لانگ مارچ کی غلطی نہیں دہرائے گی کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور عمران خان ایسے ہی حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے تاریخ پہ تاریخ دیتے رہیں گے اور رہی بات عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت کی توان کی یہ خواہش بھی کسی طور پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی کیونکہ موجودہ سیاسی حالات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اس میں تحریک انصاف تو کجا کوئی بھی سیاسی جماعت تنہا حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوپائے گی بلکہ بندر بانٹ و مانگے تانگے کا یہ سلسلہ اسی طرح برقرار رہے گا اور خدشہ یہ بھی ہے کہ متوقع عام انتخابات میں پنجاب دوبارہ ن لیگ کے پاس چلا جائے اور ق لیگ بھی اپنی راہیں جدا کرسکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے ان کا ماضی گواہ ہے کہ چوہدری برادران نے جہاں ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کیا ہے وہاں وہ اب اپنے ورکروں کو بھی نواز رہے ہیں تاکہ پارٹی پوزیشن مزید مستحکم ہوسکے ا دھر ملتان میں پاکستان تحریک انصاف کے چار ایم پی ایز کے پارٹی ٹکٹ خطرے میں پڑنے کی افواہیں زور و شور کے ساتھ گردش کررہی ہیں ان میں صوبائی وزیر صحت پرائمر ی اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک،چیئر مین ایم ڈی اے ملک سلیم لابر،واصف مظہر راں اور طارق عبداللہ کا نام لیا جارہا ہے،ان میں سے ڈاکٹر اختر ملک اور واصف راں کو تو وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی کی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہاہے کیونکہ ذرائع کے مطابق ان دونوں ایم پی ایز کی یونین کونسلوں سے مہر بانو کو خاطر خواہ ووٹ نہیں ملے جبکہ ملک سلیم لابر اور طارق عبداللہ سے اپنی پارٹی کے ایم این اے نالاں ہیں اب اس حوالے سے حتمی فیصلہ تو تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے ہی کرنا ہے کہ کس کو ٹکٹ دینی ہے اور کسے نظر انداز کرنا ہے مگر دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے رائے منصب علی خان کو چیئرمین سی ایم کمپلینٹ سیل جنوبی پنجاب مقرر کرنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا وہ عام انتخابات میں حصہ بھی لیں گے یا نہیں اگر لیں گے توکس حلقہ سے امیدوار نامزد ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کی مرکزی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے اور جنہیں نظر انداز کیا جائے گا وہ نئی اڑان بھریں گے یا پھر پارٹی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے؟
جنوبی پنجاب میں نئے بننے والے دو اضلاع میں سے کوٹ ادو کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ کو کوٹ ادو کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے مگر اس حوالے سے ضلع تونسہ کی منظوری تادم تحریر سیاست کی نظر ہورہی ہے، ضلع تونسہ کے نوٹیفکیشن میں رکاؤٹ کی بڑی وجہ ریونیو حدود کا تعین ہے جس پر تمن دار سردار راضی نہیں ہورہے اور تاحال تحصیلوں کا فیصلہ بھی نہیں ہوپایا کچھ حلقے وہوا کو تحصیل بنانے کیلئے زور لگا رہے تو کچھ کوہ سلیمان کو تحصیل کا درجہ دلوانے کیلئے سرگرم ہیں اب ان میں سے کون کامیاب اور کون ناکام ہوتا ہے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا مگر تونسہ کے رکن قومی خواجہ شیراز محمود نے تونسہ ضلع اور تحصیل وہوا کے جلد نوٹیفکیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر تونسہ کے عوام میں بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے، شدید عوامی رد عمل سامنے آ رہا ہے،ضلع تونسہ کے نوٹیفکیشن کے اجراء کے مطالبے کی تمام عوامی حلقے بھرپور تائید کر رہے ہیں، حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔اب یہ حائل رکاوٹیں کب دور ہوں گے اس حوالے سے وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ضلع کے نوٹیفکیشن کیلئے بزدار و لغاری سمیت دیگر تمن دار سرداروں کا ریونیو حدود متفق ہونا بہت ضروری وگرنہ یہ معاملہ اسی طرح سیاست کی نظر ہوتا رہے گا؟

