کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

کیا اردو کا نثری ادب محدود ہے؟ : ہزار داستان /مستنصر حسین تارڑ

کبھی کبھی یہ جو آخری زمانے تیزی سے فنا کی منزل کی جانب سفر کرتے ہیں تو کبھی کبھی کچھ دیر پہلے نیند سے غنودگی کی پہلی غٹرغوں میں عجب سوال دھند کی مانند تیرتے چلے آتے ہیں کہ ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے اور گرتجھ بن کوئی نہیں موجود وغیرہ۔ اور لامحالہ وہ دو سوال جن کے جواب خدائی آج تک تلاش کرتی رہی ہے یعنی انسان کہاں سے آیا اور اس نے جانا کہاں ہے۔ تو کبھی ان دونوں کے جواب دل کو ڈھارس دینے والے ہوتے ہیں اور اکثر ان کا کوئی سرا نہیں ملتا کہ کی جانا میں کون وے بلھیا کی جاناں میں کون۔ لیکن ان قدرے گنجلک معاملات کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں ایک کالم سے ایسا بوجھ تو اٹھائے نہ اٹھے اور آپ بوریت سے دوچار ہوں گے چنانچہ ہلکی پھلکی حسن یار کی باتیں کرتے ہیں مثلاً یہ کہ کچھ دیر پہلے نیند سے ایک اور سوال بھی ذہن میں گردش کرتا ہے کہ اجی حضت یہ متاع حیات کیوں آوارگی کے جنوں میں لٹا دی۔ کیوں اپنے من کی موج میں دربدر ہوتے رہے، ملکوں ملکوں خاک چھانتے رہے، اتنی آشفتگی اور مسافتوں کے بعد تو لوگ ولی اللہ ہو گئے کہ بزرگان دین کا بھی یہی وطیرہ تھا، شدید قسم کے آوارہ گرد تھے، بلخ سے چلے تو دمشق جا قیام کیا وہاں سے دل بھر گیا تو قونیہ میں جا پڑاؤ کیا۔ غزنی کے ہجویری حصے سے کوچ کیا تو ملکوں ملکوں ہوتے راوی کے کنارے آن بسیرا کیا تو انہوں نے تو کچھ حاصل کرلیا تو آپ کو کیا حاصل ہوا؟ تو کبھی کبھی کچھ دیر پہلے نیند سے جواب آتا ہے کہ مسافتیں تمہاری بھی رائیگاں نہیں گئیں۔ تم پر ایک بڑا سچ آشکار ہوا کہ تمہارا سچ ہی آخری سچ نہیں ہے، اس دنیا میں اور بھی سچ ہیں۔ تم ہی حرف آخر نہیں ہو۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ معاملہ پھر سے نہ چاہتے ہوئے بھی ذرا گمبھیر ہونے لگا ہے تو اسے ذرا آسان کر کے ادب کی سلطنت پر منطبق کرتے ہیں یعنی صرف ہمارا ادب ہی نہیں ہے سارے جہاں میں دھوم اردو زبان کی ہی نہیں ہے۔ پنجابی اور سندھی ہی صوفیاء کرام کی زبانیں نہیں ہیں۔ ہم ادب کے اس کینوس کو ذرا وسیع کرتے ہیں، یورپ اور جنوبی امریکہ کارخ نہیں کرتے، صرف مسلمان ادیبوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک ادبی کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہیں یہ کہہ دیا کہ اردو نثری ادب بہت محدود ہے۔ ذرا اپنے کنویں سے باہر جھانکئے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کیا کیا شاندار ناول لکھا جارہا ہے تو مجھ پر فدائین کی یلغار ہو گئی۔ مجھے اردو دشمن اور غیر محب الوطن کے خطاب دیئے گئے۔ میں نے کسی اور تقریرمیں یہ بھی کہہ دیا ہو گا کہ یہ جو اپنے سویٹ سے بابائے اردو عبدالحق ہوا کرتے تھے جنہوں نے بے شک اردو کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا لیکن میں ان کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرسکتا کہ اگر اردو نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔ لاحول ولاکیا کہنا یہ جائز ہے کہ اگر پاکستان نہیں تواردو بھی نہیں۔ اردو کی آخری پناہ گاہ پنجاب ہے۔ سندھ ہے اور کسی حد تک کراچی ہے۔ ہم لوگ اسے گلے نہ لگاتے، اسے اپنی محبوبہ نہ ٹھہراتے تو اسے دوبارہ دلی اور لکھنو میں بھی پناہ نہ ملتی۔ بہرحال گزارش یہ ہے کہ ذرا اردو کے خول سے باہر آ کر دیکھئے تو سہی کہ دنیا بھر میں مسلمان حضرات کیسے کیسے شاندار ناول لکھ رہے ہیں۔ آپ کی گنتی تو ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’اداس نسلیں‘‘ کے بعد تمام ہو جاتی ہے۔ اسماعیل قدارے، البانیہ کا وہ ناول نگار اسی برس سے تجاوز کر چکا، جس کا ہر ناول شاہکار ہوتا ہے۔ صرف ’’خوابوں کا محل‘‘ پڑھ لیجئے۔ ’’جنرل آف اے ڈیڈ آرمی‘‘ یعنی ’’ایک مردہ فوج کا جنرل‘‘ ہی دیکھ لیجئے، وہ گارسیا مارکنیر اور میرے پسندیدہ ہو سے سراماگو کے ناولوں پر بھی حاوی ہو جاتا ہے۔ ’’خوابوں کا محل‘‘ ایک عجب خوابناک اور جادوئی ناول ہے۔ ہم جیسوں کے ذہن میں تو ایسا موضوع نازل ہو ہی نہیں سکتا۔ البانیہ کے صدر مقام ترانہ میں سلطنت عثمانیہ کے زمانوں میں ایک شاندار کئی منزلہ قصر ہے سب کی ہر منزل پر بے شمار شعبے ہیں اور وہاں نہایت سنجیدہ لوگ نیم تاریکی میں سلطنت بھر میں جتنے بھی خواب لوگوں کو آئے ہیں ان کی تعبیر کرنے میں مگن ہیں اور اس تعبیر کو استنبول کے سلطان تک پہنچاتے ہیں کہ آپ کی سلطنت میں البانیہ کے فلاں گائوں میں ایک شخص نے خواب میں چاند کو بجھتا ہوا دیکھا ہے تو کہیں یہ آپ کے زوال کے تعبیر تو نہیں۔ گئی رات ’’پیلس آف ڈریمز‘‘ کے صحن میں طویل مسافتوں کے بعد ایک چار گھوڑوں والی بگھی داخل ہوتی ہے۔ گھوڑے تھکاوٹوں سے مسمار ہوا جاتے ہیں اور بگھی کا مسافر چھلانگ مار کر اترتا ہے اور کہتا ہے میرے پاس ایک خواب ہے۔ پچھلی شب فلاں دور افتادہ البانوی گاؤں کے ایک دہقان کو آیا تو میں اس خواب کی خبر دینے کے لیے چل کھڑا ہوا۔ آپ کو اسماعیل قدارے کی ناول نگاری پر قدرت کا اندازہ ہو گیا ہوگا اور پھر الجیریا کا ناول نگار یاسمین قدرے ہے۔ فوج میں میجر کے عہدے پر فائز تھا لیکن ایک تخلیقی ذہن، وہ اپنی تحریریں اپنے نام سے چھپوانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا چنانچہ مصنف کے طور پر اس نے اپنی بیوی یاسمین کا نام استعمال کیا۔ فوج سے ریٹائر ہو کر جب وہ آزاد ہوا اور اپنا اگلا ناول تحریر کیا، ناظر کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے کہا میجر صاحب آپ کے نام کو کوئی نہیں جانتا، یہ ناول روئی میں فروخت ہو جائے گا۔ ہاں اگر آپ اس ناول کو اپنی بیوی یاسمین کے نام سے شائع کروائیں تو پوری دنیا سے داد ملے گی چنانچہ میجر صاحب ابھی تک یاسمین قدرے ہیں اور پیرس میں مقیم ہیں۔ اور پھر یاشار کمال ایسا عظیم ناول نگار، ترکی کا ناول نگار، لیکن ایک گرو اور ترکی کے لیے ناقابل قبول۔ آپ کو علم ہوگا کہ صرف مسلمان ہونا کافی نہیں ہوتا۔ پہلے گلہ کیا جاتا ہے کہ آپ دیو بندی، اہل حدیث، یا شیعہ وغیرہ ہیں، یہی نہیں قومیت، مذہب سے بھی بالاتر ہوتی ہے۔ یعنی ترک، کردوں کے ازلی دشمن ہیں اور ہم ان کو دوش نہیں دیں گے کہ یہ ان کے تاریخی تجربوں کے سلسلے ہیں۔ جیسے بہت سے مسلم ممالک ہندوستان کے ساتھ ہماری دشمنی سمجھنے سے قاصر ہیں تو یاشار کمال امن پسند اتنا کہ میں نے اپنے پہلے پوتے کا نام یاشار رکھا۔ اس لیے کہ کرد تھا، ادب کے نوبل انعام سے محروم رہا کہ ترکی نے اس کی مخالفت کی۔ یاشار کمال تو کیا ترک، صلاح الدین ایوبی سے بھی صلح نہیں کرتے کہ وہ بھی ایک کرد تھا۔ دمشق کے ایک قدیم کوچے میں جب میں تلاش کرتا پہنچا تو صلاح الدین ایوبی کا مزار ویران پڑا تھا۔ ایک شخص صحن میں جھاڑو دے رہا تھا، میں نے فاتحہ پڑھی اور اس کی ویرانی کے رنج میں باہر آ گیا۔ فرخ سہیل گوئندی جب آج سے تیس چالیس برس پیشتر میری تحریروں کی چاہت میں مبتلا چیمبرلین روڈ پر واقع ’’کسان اینڈ کمپنی‘‘ میں آیا تو میں یاشار کمال کا ناول امریکی مکتبہ فرینکلن کا شائع کردہ ’’ونڈز فرام دے پلین‘‘ پڑھ رہا تھا اور جب گوئندی نے اپنا ذاتی اشاعتی ادارہ قائم کیا تو اس نے پہلی فرصت میں ’’میدانوں سے آتی ہوائیں‘‘ کو اردو میں شائع کیا۔ گوئندی کے توسط سے میں نے یاشار کمال کو اپنے پوتے یاشار کی ایک تصویر دستخط کرنے کے لیے بھیجی اور وہ تصویر میرے پوتے کے کمرے میں آویزاں ہے اور اس پر یاشار نے اپنے قلم سے لکھا ہے ’’یاشار کی جانب سے یاشار کے لیے۔‘‘ یاشار کمال کے بعد ترک ادب پر ادیان یاموک کا ظہور ہوا۔ بہت سے ترک اسے مغرب زدہ قرار دے کر پسند نہیں کرتے۔ جیسے ہم ملالہ اور ڈاکٹر عبدالسلام کو پسند نہیں کرتے۔ اس لیے بھی کہ یاموک نے آرمینیا کے لوگوں کا جو قتل عام ہوا تھا جس سے ترک انکار کرتے ہیں یاموک نے ان کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ اب میں ایک موازنہ کرتا ہوں یاشار کمال اور ادیان یاموک کے درمیان۔ سلجوق جب اپنے طالب علمی کے زمانوں میں ترکی گیا تو کیا ہوا؟
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker