Uncategorizedاختصارئےلکھاریملک مزمل عباس

ملک مزمل عباس کا اختصاریہ : فری سٹائل مشیر اطلاعات

 دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے آزاد خیال ملک کو لے لیں لیکن ان کی آزاد خیالی اپنے ملک کو بد نام کرنے میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرے گی ہم لوگوں نے چیخ و پکار کی کہ میڈیا کو آزاد کریں اور یہی سچ ہے کہ میڈیا کو حق پہ بات کرنے کا موقع ملنا چاہیے لیکن میڈیا پرسن کو بھی یہ چاہیے کہ ایسے لوگوں کو چینلز پر کم بٹھائیں جو کہ ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں لیکن اس بات پر میڈیا یہ کہے گا کہ ہم مجبور ہیں کیونکہ یہ لوگ جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں اگر ہم ان کو نہ چینل پر بٹھائیں تو ہمارے چینل بند ہو سکتے ہیں مطلب اگر کسی زبان دراز کو ملکی ذلت کا باعث بننے والے کو چینل پر نہ لایا جائے تو چینل والوں کی مجبوری بن جاتی ہے اور ان کے چینل کو بند کرنے کا حکم صادر فرمایا جاتا ہے۔
کل ایک بڑے چینل پر ایک بڑے اینکرپرسن کے سامنے مشیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے چینل پر وہ تماشہ لگایا کہ جسے دیکھ کر دنیا میں جہاں بھی کوئی پاکستانی ہوگا اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئی ہوں گی۔ اتنی بےہودہ زبان اور ایک عورت ہونے کے ناطے مرد پر ہاتھ اٹھانا اور اس وقت ہاتھ اٹھایا جائے جب کوئی آپ کی کرپشن کے قصے کو واضح طور پر سامنے لانے کی کوشش کرے اور جناب اینکر پرسن خاموشی کے ساتھ یہ سارا تماشہ دیکھ رہے ہیں اور کسی کو جرات نہیں کہ اس ہاتھاپائی کرنے والی عورت کو روک سکے لیکن اس عورت کا قصور نہیں بلکہ اس عورت کو جو نمایاں رکھتے ہیں ان لوگوں کے ظرف کی طرف دیکھیں کہ انہیں سب کچھ معلوم ہے کہ کبھی یہ اخلاق سے گری ہوئی لوگوں سے باتیں کرنے میں مصروف نظر آئیں‌کبھی کسی خاتون کو یہ طنز کرتے ہوئے ان کو دیکھا گیا کہ وہ خاتون کے ذاتی معاملات پر ڈسکس کرتی ہے اور قہقہے لگاتی ہے کبھی کسی اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے میرٹ پر آنے کے طعنے دے کر اس کو خوار کرتی ہیں اور کل تو اس خاتون نے حد کر دی کہ ایک سیاسی رہنما کو دیکھتے ہی دیکھتے گالیوں سے بھی نوازا اور تھپڑ دے مارا ۔
موجودہ حکومت کے بارے میں اب افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ، میں حکومتی کابینہ اور جناب وزیراعظم سے یہی کہوں گا کہ ان فری سٹائل والی مشیر اطلاعات کی ڈیوٹی یہاں‌سے ختم کرکے تارا مسیح کی ڈیوٹی انہیں دی جائے کیوں کہ ان کا رویہ نہ ہی عورتوں والا ہے اور نہ ہی منسٹر والا یہ صرف لوگوں کو مارنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں‌ ڈرانے کے لئے پیدا ہوئی ہیں اس لیے جن مجرموں کو پھانسی کی سزا ہو یا پھر سخت ریمانڈ کی ضرورت ہو ان کے لئے ایسی خاتون کی ڈیوٹی بہت ضروری ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker