حزب اختلاف نے آخر کار اپنا کام کر لیا ہے۔ حتمی گنتی کے مطابق نے اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے 200 سے زائد ووٹوں کی تصدیق ہو چکی۔ ان میں تحریک انصاف کے زیادہ تر اتحادیوں کے علاوہ اس کے اپنے اراکین قومی اسمبلی کا ایک اہم حصہ شامل ہے جو یا تو جہانگیر ترین کو جواب دیتے ہیں یا نواز شریف سے براہ راست ڈیل کر رہے ہیں۔ اس 200 کی تعداد کو عبور کرنا ضروری تھا کیونکہ عمران خان یقینی طور پر اپنے اتحادیوں کو نئی ترغیبات پیش کریں گے جبکہ ایف آئی اے، نیب اور پولیس جیسے ریاستی اداروں کے ذریعے حزب اختلاف کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ توقع ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش کی جائے گی اگر (اور یہاں بہت بڑا سوالیہ نشان موجود ہے۔ اگر) سب کچھ منصوبے کے مطابق سرانجام پاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے عمران خان کو ہٹانے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ”دیگر“ نوک دار معاملات کو عدم اعتماد کے کامیاب ووٹ تک ملتوی کر دیا ہے۔ ان ”دیگر“ مسائل میں یہ شامل ہے کہ نیا قائد ایوان یا وزیراعظم کون ہو گا، نئی حکومت کی ساخت کیا ہوگی، یہ حکومت کب تک قائم رہے گی، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ اور تمام یا کچھ صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل ہو جائیں گی یا نہیں اور ماضی کی طرح قومی اور صوبائی انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں گے؟
لیکن اس پیش گوئی کی بنیاد ایک مفروضے پر ہے۔ وہ یہ کہ کیا ہر معاملے میں اثر و رسوخ رکھنے والی اسٹبلشمنٹ ”نہیں“ یا اس کے برعکس کا اشارہ دیتی ہے۔ اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ نے بار بار عمران خان کو بیل آؤٹ کرتے ہوئے حزب اختلاف کو ”دھوکہ“ دیا۔ اس محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا اندازہ پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کے ایک حالیہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پشاور میں مقیم عمران خان کے حامی، اسٹبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر الزام لگایا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے اراکین کو فون کر کے اس کارروائی کا حصہ بننے سے منع کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جانتی ہے کہ اگر یہ اقدام کسی بھی وجہ سے ناکام ہو جاتا ہے تو اسے بہت دیر تک کوئی اور موقع نہیں ملے گا۔ اس دوران عمران خان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنی طاقت کی مساوات دوبارہ طے کر لیں گے اور حزب اختلاف کی صفوں میں دراڑیں ڈال کر حکومت کرتے رہیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان کے سیاسی افق پر بادل گہرے ہو رہے تھے، عمران خان ماسکو میں جدید روسی زار ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گئے۔ اب پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔ عالمی برداری اس اقدام کی مذمت کر رہی ہے۔ اب ماسکو میں نہ تو کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا، نہ کوئی پریس کانفرنس ہوئی، نہ مہمانوں کے لیے کسی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ یا تو یہ حد سے زیادہ اعتماد کا معاملہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے اور انہیں کسی چیز کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یا پھر یہ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ کھیل ختم ہونے کو ہے۔ اس لیے شاید دنیا کے سرکردہ رہنما سے ملاقات کرتے ہوئے وطن میں کھویا ہوا وقار تھوڑی دیر کے لیے بحال ہو جائے! یقینی طور پر مختصر ملاقات میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو یہ تجویز کرتا ہو کہ معاشی یا تزویراتی امور میں کوئی بڑی پیش رفت ہونے جا رہی ہے۔
بلاشبہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے چار سال سے بھی کم عرصے میں اندرون ملک ریاست اور معاشرے کے بیشتر شعبوں کی حمایت کھو دی ہے۔ عمران خان کے ساتھ قریبی وابستگی کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کو بھی عوامی ردعمل کی تمازت برداشت کرنا پڑی۔ عمران کے متکبرانہ اور پررعونت رویے کی وجہ سے اس میں ناراضی کی تلخی بھی گھل چکی ہے۔ پھر عمران خان نے اس کی قیادت پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی۔ تاہم اس ضمن میں ابھی شکوک و شبہات اپنی جگہ پر موجود ہیں کہ کیا اسٹبلشمنٹ حزب اختلاف پر اعتماد کرنے اور اس سے مفاہمت کرنے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔
اور پھر میڈیا بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ یہ نئے قوانین کے خلاف مزاحمت کے لیے پر تول رہا ہے۔ حتیٰ کہ انتہائی متعصب عمران نواز اینکرز اور تبصرہ نگار بھی بڑھتے ہوئے عمران مخالف جذبات کی وجہ سے اپنی گرتی ہوئی ساکھ سے پریشان ہیں۔ لیکن صحافیوں کی کھال قدرتی طور پر بہت موٹی ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن عدم اعتماد کے ووٹ سے قدم پیچھے ہٹائے تو میڈیا کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مت بھولیں جو تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کیس میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے شواہد منظر عام پر لانے جا رہا ہے۔ یہ عمران خان کے لیے پریشان کن شہ سرخیوں کا باعث بنے گا۔ اس سے حزب اختلاف کی حکمت عملی میں نئی جان پڑ جائے گی۔ الیکشن کمیشن نئے آرڈیننس کو چیلنج کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو انتخابات کے دوران امیدواروں اور حامیوں کے لیے اس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
اب عدلیہ بھی عمران خان کے غیر آئینی احکامات کی مزاحمت پر کمر باندھ رہی ہے۔ مریم نواز شریف کے خلاف کیس میں ججوں نے نیب پراسیکیوٹرز کو شواہد کی کمی کی وجہ سے معاملات میں تاخیر پر سخت سرزنش کی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میڈیا کے مالک ایڈیٹر محسن بیگ کو گرفتار کر کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے اور جان بوجھ کر پی ای سی اے قانون کے سیکشنز کو غلط پڑھنے پر ایف آئی اے حکام کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فاضل جج نے پی ای سی اے کی نئی ترمیم کی سب سے فسادی شق کو معطل کر دیا ہے جس کا مقصد سوشل میڈیا پر آزادانہ اظہار رائے کو گرفتار کرنا اور سزا دینا تھا۔ یہ عمران خان اور ان کے ان کے قانون کے خلاف فرد جرم ہے جنہوں نے اس طرح کے کالے آرڈیننس کا ڈرامہ رچایا۔
لیکن ٹھہریں۔ حماقت نہ دکھائیں۔ یہ معیشت ہے جو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں پڑی ہے او ر جس کی بحالی کے فی الحال کوئی امکانات نہیں۔ عوام کی مشکلات ختم ہونے والی نہیں۔ درحقیقت یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون عمران خان کی برطرفی کے بعد فوری الیکشن چاہتی ہے جس میں وہ جیت کر پانچ سال حکومت کر سکے بجائے اس کے کہ وہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک حکومت چلائے اور کچھ نہ کرسکے۔ اس طرح وہ عوام کے غصے کا نشانہ بنے گی۔
لیکن یہاں ایک بڑا سا سوال موجود ہے۔ اگر؟
(بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز)
فیس بک کمینٹ

