اپنی ماں بہنیں،بیٹیوں کو گھر کی عزت سمجھتے ہیں باقی ساری عورتوں کوکتے کی طرح زبان اور دانت نکال کر ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔یہ تھے سعادت حسن منٹو۔ اسی طرح 29جون 1999ء کو میرے شہر میں ایک بدنما واقعہ رونما ہوا تھا اسی طرح 12جون 2018ء کو زینب بیٹی قصور شہر میں ہوس کا نشانہ بنی تھی۔راقم الحروف کا اُس وقت بھی یہی کالم تھا ”کب تلک لٹتی رہیں گی یہ اماں حوا کی بیٹیاں "۔ہمارا معاشرہ جس تنزلی کا شکار ہو چکا ہے کسی کے بس میں نہیں رہا۔گندہ ذہن، گندی سوچ کے چند افراد معاشرے کے اور ہمارے اسلام کو پارہ پارہ کیے جارہے ہیں۔خواہش اور روح کی تسکین کو زندہ رکھنے کیلئے نہ جانے یہ بھیڑے نماانسان یہ کمینے بدبخت ذلیل سوچ کو پروان چڑھانے کیلئے اچانک کسی بھی اماں حوا (صنف نازک) پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔عائشہ اکرم یادگار پاکستان پر تفریح کیلئے اپنے چند محافظوں کے ہمراہ کیا آئی شاید زیب تن لباس اتنا دیدہ زیب نہ تھامگر اُسے لینے کے دینے پڑگئے۔اب ذرا سوچئے تو سہی کیا وہ کسی کی ماں،بہو،بیٹی،بہن بھی تو ہوسکتی تھی یا اسلا م نے ہمارے معاشرے میں عورت کو جو مقام،رتبہ اور تقدس و احترام دیا ہے کیا ہمارا سماج اس گھٹیا، گھناؤنے رویوں کا متحمل ہوسکتا ہے؟کدھر ہے ہمارا قانون؟کہاں تھے لاء اینڈ آرڈر پر یقین رکھنے والے؟ہماری قابل احترام عدلیہ،کسی نے بھی ابھی تک اپنی آنکھ نہیں کھولی۔یہ ٹک ٹاک کے پروردہ جانشین واقعی ہمارا تمسخراُڑانااپنا طرۂ امتیاز سمجھتے ہیں؟ تنگ نظر معاشرہ، بے حس افراد ۔۔ ایوان اقتدار کے شہر اسلام آباد میں نور مقدم جیسی خاتون کو ملزم ظاہر جعفرنے ذبح کیا۔چند ملازموں کی شکل میں تماش بین بے بسی کی چیخ و پکار،آوازیں سنتے سنتے کف افسوس ملتے رہ گئے مگر تا حال انصاف دینے والے ادارے شاید کسی کے سہولت کار بن جائیں اور نور مقدم بھی عدالتی تاریخ میں دوسر اجوڈیشل مرڈر نہ ثابت ہوجائے؟ہمارا معاشرہ ہجوم نہیں بھیڑیا بنتا جارہا ہے۔چند عاقبت نا اندیش افراد نے لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ اکھاڑ پھینک کرسچا پاکستانی ہونے کا خودساختہ ثبوت دیکر ہمیں تاریخ کے ہاتھوں شرمندہ کیاہے۔پنجاب کا آخری شہررحیم یارخان کے قصبہ بھونگ میں چند اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیداروں نے غلطی سے آئے ہوئے مسجد میں آٹھ سالہ ہندو بچے کے مسجد میں غلطی سے آنے اور پیشاپ کرنے پر نہ صرف ایف۔آئی۔آر کٹوادی بلکہ مسجد کو بچانے کیلئے مندر کو جلاڈالااور پاکستان کو پوری دنیا میں اقلیتوں پر بظاہراُن کے حقوق نہ ملنے پر ایک نیا ڈرامہ رچادیاگیا۔غلط فہمی کی بنیاد پر کیوں ہم اپنی روایات سے باہر ہوتے جارہے ہیں؟اقلیتوں کی عزت واحترام اوران کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہماری اخلاقی،مذہبی ذمہ داری بھی ہے کیونکہ ہمارا اعتدال پسند معاشرہ اگرجمودکاشکارہو تو امن کا شیرازہ بھی پتوں کی طرح بکھر جاتاہے۔ہمیں تمام مسالک کا بھرپور احترام کرنا چاہیے۔ایام محرم الحرام میں امام بارگاہ پر حملہ کر چند شر پسند عناصر نے ملک میں امن وامان کی فضا ء کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اب ہمیں معاشرے اور ملک کو بچانے کیلئے باوقار فوری اور سستا انصاف کی اشد ضرورت ہے۔عوام کی نظریں جمہوریت پر نہیں، پارلیمنٹ پر نہیں،حکومت پر نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔
جمعہ, مئی 1, 2026
تازہ خبریں:
- معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام
- ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم

