اہم خبریںسرائیکی وسیب

صلاح الدین پر وحشیانہ پولیس تشدد کی درد ناک تفصیلات

رحیم یار خان : اے ٹی ایم کیس میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے صلاح الدین کے والد افضال نے صحافیوں کے سامنے روتے ہوئے کہاہے میرے بیٹے پر ایسا تشدد ہوا کہ انسانیت بھی شرما جائے۔گرم استری لگا کراس کے بازو اورچھاتی کا چمڑا اتاراگیا تھا،جسم کے3 حصوں سے گوشت کاٹاگیا۔ صلاح الدین کے والد کے مطابق اس کے جسم کے دو حصوں پر گرم استری لگائی گئی جس سے جلد اتری ہوئی تھی، اس کے ایک ہاتھ، بازو اور ایک سائیڈ سے گوشت کاٹا ہوا تھا، جبکہ چھاتی پر یا تو کرنٹ کے جھٹکے لگائے گئے یا کوئی گرم چیز لگائی گئی۔ جبکہ جسم کے ہر حصے پر تشدد کے نشان تھے۔
اسکے والد کے مطابق سوشل میڈیا پر تشدد زدہ تصاویر بالکل اصلی ہیں اور یہ تصاویر انہوں نے اپنی پوری برادری کے سامنے اس کی میت کو غسل دیتے وقت بنوائیں تاکہ یہ لوگ گواہ ہوں۔ اور اگر اس دنیا میں اس کے ذہنی معذور بیٹے کو انصاف نہیں ملتا تو روز قیامت تو ضرور ملے گا۔



انہوں نے کہا کہ صلاح الدین پیدائشی طور پر ذہنی معذور تھا اور بچپن میں ہم اس کو سنگل سے باندھ کر رکھتے تھے تاکہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ لیکن اب چونکہ بڑا ہو چکا تھا اس لیے اسے باندھنا ممکن نہیں تھا۔اس کے بازو پر بچپن سے ہی اس کا نام اور گھر کا پتہ لکھوایا تھا تاکہ کسی حادثےکی صورت اس کی میت مل جائے۔



انہوں نے کہا اس حادثے سے 10 دن پہلے وہ گھر سے غائب ہوا۔ عید بھی اس نے اسی طرح گھر سے باہر گزاری۔صلاح الدین کے گھر چونکہ کوئی ٹی وی وغیرہ نہیں اس لیے اس کے والدین کو اس کے مرنے کی خبر بھی محلے والوں نے پہنچائی۔اس کے والد کے مطابق وہ رحیم یار خان کے متعلقہ تھانے پر جب بھی فون ملاتے فون کاٹ دیا جاتا۔



اس کے والد کے مطابق جب وہ رحیم یار خان میت لینے گئے تو ایس پی اور دوسرے پولیس اہلکاروں نے انہیں میڈیا کے پاس نہیں جانے دیا اور ایس پی نے یقین دلایا تھا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی کریں گے کیونکہ صلاح الدین ان کا بھی بیٹے جیسا ہی ہے۔ اس کے والد کے مطابق ان کو جب نعش حوالے کی گئی تو اس سے تقریبا 15 گھنٹے پہلے ان کی غیر موجودگی میں پوسٹ مارٹم کروایا گیا تھا۔ کوئی بھلا ان سے پوچھے کہ مدعی کی غیر موجودگی اور ملزمان (پولیس افسران) کی سربراہی میں کرائے گئے پوسٹ مارٹم کو دنیا کی کونسی عدالت مانے گی؟نامور صحافی فخر درانی نے ٹویٹر پر یہ تفصیلات دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس قتل کا ذمہ دار نہ وہ ایس ایچ اور تفتیشی اہلکار ہیں، نہ متعلقہ ایس پی، ڈی پی او،آر پی او اور نہ آئی جی۔بلکہ اس قتل کا ذمہ دار حاکم وقت (عمران خان) ہے۔سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے خاموشی سے2 ماہ بعد ان کو بحال کردیا گیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker