اہم خبریں

سندھ 15 روز کے لیے لاک ڈاؤن : عوام اپنی حفاظت خود کریں ، عمران خان کا انکار

کراچی : سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں پندرہ روز کے لاک ڈاؤن کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا ہے۔جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر لاک ڈاؤن سے انکار کر دیا ہے ۔ کراچی میں اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’عوام کے حق میں اہم اعلان شام کو کروں گا۔‘
صوبائی حکومت نے سندھ میں لاک ڈاؤن کے فیصلے پر عملدرآمد کی غرض سے فوج سے پہلے ہی مدد مانگ چکی ہے۔ اتوار کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں، جس کا اعلان آج ہی کریں گے۔’ہم یہ سخت فیصلے اس لیے کرنے جارہے ہیں تا کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچا سکیں۔ مجھے آپ کی صحت اور زندگی عزیز ہے۔‘اجلاس میں صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ، کور ہیڈکوراٹر کے بریگیڈیئر وسیم، اے جی سندھ، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی شریک تھے جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چین یا اٹلی جیسی صورت حال ہوتی تو فوراً ملک کو لاک ڈاؤن کر دیتا۔وزیراعظم عمران خان کا قوم سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ملک کے اندر لاک ڈاون کرنے کی بڑی بحث جاری ہے، لاک ڈاؤن یا کرفیو کا مطلب ہے کہ شہریوں کو گھروں میں مکمل بند کیا جائے، لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ہے کہ دیہاڑی دار طبقہ گھروں میں بند ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کرنے سے ملک کے 25 فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟کیا ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد کو گھروں میں کھانا پہنچائیں، چین کے پاس ایک سسٹم اور مالی وسائل تھے۔وزیراعظم نے اپیل کی کہ لوگ ازخود اپنے گھروں میں موجود رہیں، ہم نے اسکول، یونیورسٹیاں، شاپنگ سینٹرز بند کر دیئے، پورا ملک لاک ڈاؤن کریں گے تو اور مشکلات پیدا ہوں گی، اگرکسی کو کھانسی،نزلہ یا زکام ہے تو خود کو آئسولیشن میں رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں ہے، لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک افراتفری ہے۔عمران خان نے کہا کہ جس طرح چین نے کورونا پر قابوپایا اس طرح ہم بھی کورونا پر قابو پا لیں گے، اپنے اوپر ڈسپلن لاگو کریں، احتیاط کریں اور عوام خود کو گھروں تک محدود رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج اگر صحیح معنوں میں احتیاط نہ کی تو نقصان اٹھائیں گے، لوگ خود اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھیں، جتنا ڈسپلن میں رہیں گے اتنا جلدی اس سے نکلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اور میری ٹیم پلاننگ کر رہی ہے کہ کورونا سے کیسے نمٹا جائے، لوگ گھبرا کر افرا تفری کا شکار نہ ہوں، ہم سوچ رہے ہیں کہ عوام کی زندگی کیسے آسان کرنی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میڈیا کا کورونا وائرس کی روک تھام میں بڑا اہم کردار ہے کہ عوام میں افراتفری نہیں پھیلنے دینی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کورونا وائرس سے متاثرہ 90 فیصد افراد تندرست ہوجاتے ہیں، عوام احتیاط نہیں کرے گی تو یہ وبا بڑی تیزی سے پھیلے گی، عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
عمران خان نے کہا کہ اللہ انسان کو مشکل وقت میں آزماتا ہے اور مشکل وقت میں ہی قوم کے جذبے کا پتا چلتا ہے، 2005 کے زلزلے اور سیلاب میں قوم کے جذبے نے سب کو متاثر کیا، آج بھی مجھے قوم کے اسی جذبے کی ضرورت ہے، اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں،عوام حکومت پر اعتماد کرے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker