اہم خبریں

پی آئی اے پر یورپ میں پابندی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پروازیں تین جولائی تک یورپ جا سکیں گی

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایئر لائن کو یورپی یونین نے یکم جولائی سے تین جولائی تک پروازیں یورپ لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ چند روز کی اس اجازت سے مسافروں کو آخری لمحے پر اپنا سفر منسوخ یا تبدیل نہیں کرنا پڑے گا اور اس دوران پاکستانی حکام یورپی یونین سے رابطے کر کے مزید رعایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس سے قبل منگل کی صبح یورپین یونین ائیر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے معطل کردیا تھا۔اس کے نتیجے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی یورپ کے لیے تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ کر دی گئیں تھیں۔ تاہم اب تین جولائی تک کی پروازیں معمول کے مطابق چلیں گیں۔
ایجنسی کی جانب سے یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر مشکوک لائسنس رکھنے والے پائلٹوں کو گراؤنڈ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
ایاسا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹرک کائی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ ’ایئرلائن یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس نے سیفٹی مینیجمنٹ کے نظام کے تمام عناصر کا موثر طور پر اطلاق کیا ہے جو شکاگو کنوینشن کے مطابق درکار ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایاسا کو ملنے والی معلومات کے مطابق بدھ 24 جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایک تفتیش کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے آٹھ سو ساٹھ پائلٹس میں سے دو سو ساٹھ سے زیادہ پائلٹس کو جو حکام نے لائسنس جاری کیے ہیں وہ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔
’ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی درستگی کے بارے میں تشویش ہے۔‘
ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی درستگی کے بارے میں تشویش ہے۔
پی آئی اے نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مسافروں کی پی آئی اے کی بکنگ ہے ان کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو بکنگ آگے کروالیں یا ریفنڈ حاصل کریں۔ پی آئی اے نے مزید کہا ہے کہ وہ ’یورپین فضائی سیفٹی کے ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker