واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 2015 میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے اور اب ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ اس جوہری معاہدے کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو محفوظ رکھنا تھا لیکن اس معاہدے نے ایران کو یورینئیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی ۔ امریکی صدر نے کہا کہ ‘تباہ کن’ ایران جوہری معاہدہ امریکہ کے لیے باعث ’شرمندگی‘ ہے۔ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ ایران کو عدم استحکام پھیلانے، بشمول دہشت گردی کی معاونت جیسی کارروائیوں سے نہیں روکتا۔‘’ایران معاہدہ سرے سے ہی ناقص ہے۔ اگر ہم کچھ نہیں کرتے تو ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوگا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اس لیے میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ امریکہ ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے۔‘پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم سخت معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔ کوئی بھی ملک جو ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے مقاصد میں مدد کرے گا، اسے بھی امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی معاشی پابندیاں دوبارہ سے عائد کریں گے۔ تاہم امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ کی جائیں گی جبکہ دیگر پابندیوں کا نافذ 90 دن کے بعد ہوگا۔
Previous Articleاس سے پہلے کہ تاریخ بدل دی جائے ۔۔ عادل فراز ( لکھنؤ )
Next Article میڈیا ہاؤ سز یا بیگار کیمپ ؟ شہزاد عمران خان

