چارسدہ : پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے ایک اہلکارکے مطابق ضلع چارسدہ کے قریب واقع منڈا ہیڈ ورکس کا ایک حصہ سیلابی پانی کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے اور اس وجہ سے چارسدہ ، نوشہرہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔
منڈا ہیڈ ورکس چارسدہ کے قریب واقع ہے اور دریائے سوات کا پانی کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے اہم ترین ہیڈ ورکس میں سے ایک ہے۔حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جانیں بچانے کی خاطر اپنے گھروں سے نکل جائیں اور حکومت کے مقرر کردہ کیمپوں میں پناہ لیں۔
دوسری طرف پولیس کے مطابق خیالی کے مقام پر پشاور کو چارسدہ سے ملانے والے دونوں پلوں پر پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے شگاف پڑ گئے ہیں اور جی ٹی روڈ پر اضلاع کے درمیان زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے۔
نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ ’اگلے چند گھنٹوں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلابی پانی ضلع نوشہرہ میں داخل ہو جائے گا۔‘
انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ’براہ کرم اپنے عزیزو اقارب اور آس پاس لوگوں کو مطلع کریں, دیر نہ کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔‘
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹ پر انھوں نے مزید کہا کہ ’ضلعی انتظامیہ عوام الناس سےاس مشکل حالت میں تعاون کی متمنی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں کی انخلا میں تعاون نہ کرنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہے۔ براہ کرم اس سیلاب کی صورتحال کو غیر سنجیدہ نہ لیں۔ اس دفعہ صورتحال 2010 کے سیلاب سے بھی گمبھیرہے لہذا انتظامیہ کیساتھ تعاون کریں۔‘
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کا کہنا تھا کہ ’تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے لوگوں کے لیے
کھول دئے گئے ہیں جہاں ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

