تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ:حکومت اپوزیشن ’’مک مکا‘‘

کسی تنازعہ میں طویل عرصے تک اُلجھے فریقین کے مابین بالآخر جب کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو ہم اس کے لئے ’’مک مکا‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔یہ لفظ جس کیفیت کو بیان کرتا ہے اسے مزید گہرے مگر جھکی انداز میں اجاگر کرنے کے لئے انگریزی کا بھی ایک محاورہ ہے۔اسے اصل زبان میں لکھوں تو کالم کی روانی متاثر ہوگی۔اُردو میں مختصراََ یوں کہہ لیتے ہیں کہ ’’تم میری کمر کھجاؤ میں تمہاری کمر کھجاتا ہوں‘‘۔
یقین مانیے اِن دنوں عمران حکومت اور اس کے سیاسی مخالفین کے درمیان ایک دوسرے کی ’’کمر کھجانے‘‘ والا ایسا ہی بندوبست ہوچکا ہے۔روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ’’ذہن سازوں‘‘ کی مہربانی سے مگر ایک دوسرے کو سہولت پہنچانے والا یہ بندوبست ہم سادہ لوح بدنصیبوں کے دھیان ہی میں نہیں آتا۔
مارچ کے آخری ہفتے میں ایک مہربان کے ساتھ طویل وقفے کے بعد اچانک ملاقات ہوگئی۔ موصوف کو ’’اندر کی خبر‘‘ ڈھونڈنے کا خبط لاحق ہے۔ مجلسی آدمی ہیں۔اقتدار کے کھیل میں شریک ہرکھلاڑی کی جی حضوری کے عادی بھی ہیں۔ان کے جی میں لیکن یہ تمنا موجزن رہتی ہے کہ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کی مشکلات آسان ہوجائیں۔
مجھ سے ملاقات کے دوران وہ اس ضمن میں بہت مطمئن محسوس ہوئے۔انتہائی اعتماد سے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (نواز) کے صدر شہباز شریف کی 22اپریل کے روز ضمانت ہوجائے گی۔ وہ ضمانت کی بدولت رہا ہوکر متحرک ہوں گے تو ہمارے سیاسی منظر نامے پر ابتری پھیلاتا تلاطم تھم جائے گا۔ سیاسی فریقین ’’آریاپار‘‘کی ضدسے مغلوب ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ایک دوسرے کے لئے بلکہ گنجائش فراہم کرنا شروع ہوجائیں گے۔
میں ان کی گفتگو احترام سے سنتا رہا۔ یہ لمبی ہوگئی تو جھکی ذہن میں آئی یہ بات کہنے سے باز نہیں رہا کہ معاملات طے ہوجانے والی ’’تاریخوں‘‘ کا تعین نجومی حضرات ہی کیا کرتے ہیں۔سیاسی عمل ’’اچانک‘‘ ابھرے واقعات کا محتاج بھی ہوتا ہے۔اس کے بارے میں ڈرامے کے سکرپٹ کی طرح لکھا کوئی منظر نامہ سوچنا میرے کند ذہن کے بس کی بات نہیں۔
حقیقت مگر یہ رہی کہ ابتدائی رکاوٹوں کے باوجود بالآخر شہباز شریف صاحب کی ضمانت عین 22تاریخ کو ہی ہوئی۔وہ جیل سے گھر لوٹے تو محترمہ مریم نواز صاحبہ نے کورونا کا حوالہ دیتے ہوئے کراچی جانے کا ارادہ ترک کردیا۔ مفتاح اسماعیل کی قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ضمنی انتخاب کے لئے چلائی انتخابی مہم کو اس فیصلے کی وجہ سے وہ حرارت وتوانائی میسر نہ ہوپائی جو مثال کے طورپر حال ہی میں وسطی پنجاب کے ڈسکہ میں ہوئے ضمنی انتخاب کو نصیب ہوئی تھی۔ دخترِ نواز شریف نے خوشاب کے ضمنی انتخاب کے لئے چلائی انتخابی مہم کو گرمانے سے بھی گریز کیا۔ ان کی عدم موجودگی کے باوجود مسلم لیگ (نون) کے نامزد کردہ امیدوار دس ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیت گیا۔طے ہوگیا کہ مسلم لیگ کے ’’تگڑے‘‘ امیدوار کو جیتنے کے لئے مریم نواز صاحبہ کے ذریعے ایک ’’باغیانہ‘‘ بیانیہ دہرانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس بیانیے کی تکرار ان قوتوں کو خواہ مخواہ بھڑکادیتی ہے جو ہمارے ہاں حکومتوں کو گھر بھیجنے یا اقتدار میں لانے کے تناظر میں کلیدی کردارادا کرتے ہیں۔
خوشاب کا انتخاب ہوگیا تو گزرے ہفتے کے اختتامی دنوں میں شہباز شریف صاحب ’’اچانک‘‘ اسلام آباد آگئے۔ یہاں ان کی دو اہم ممالک کے سفیروں سے ملاقات ہوئی۔چینی سفیر کے ساتھ شہبازصاحب کی ملاقات حیران کن نہیں تھی۔برطانوی سفیر سے ملاقات مگر موجودہ حالات میں اہم تر تھی۔
برطانیہ نے کورونا کی وجہ سے پاکستانیوں کو ’’ریڈلسٹ‘‘ میں ڈال رکھا ہے۔شہباز شریف جیسے قدآور سیاسی رہ نما کو جو ہماری قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں مگر لندن جانا لازمی ہو تو کوئی راستہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔نظر بظاہر برطانوی سفیر سے ملاقات کے دوران طے یہ ہوا کہ براہِ راست لندن پہنچنے کے بجائے اگر شہباز صاحب کچھ دن قطر کے شہر دوحہ میں ’’قرنطینہ‘‘ کو یقینی بنالیں تو ان کا برطانیہ میں داخل ہونا ممکن ہوجائے گا۔
برطانیہ جیسے اہم ملک کے سفیر کے ساتھ شہباز شریف جیسے قد آور سیاسی رہنما کا براہِ راست گفتگو کے ذریعے طے ہوا بندوبست واضح انداز میں یہ عندیہ بھی دے رہا تھا کہ مسلم لیگ (نون) کے صدر کو کامل یقین تھا کہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت میسر ہوجائے گی۔مذکورہ اجازت کے دستیاب ہونے کا اگر انہیں یقین نہ ہوتا تو برطانیہ میں اپنے داخلے کو یقینی بنانے کے لئے اس ملک کے سفیر سے ملاقات کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس ملاقات کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور عین ایک دن بعد انہیں لاہور ہائی کورٹ سے ہنگامی بنیادوں پر علاج کی خاطر بیرون ملک سفر کی اجازت مل گئی۔
ہفتے کے روز مگر جب وہ لاہور ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے نے انہیں تکنیکی بنیادوں پر ’’آف لوڈ‘‘کردیا۔ شہباز صاحب کے ترجمان اس کے بعد ’’توہینِ عدالت‘‘ کی دہائی مچانا شروع ہوگئے ہیں۔فواد چودھری صاحب کو جواباََ ’’قانون‘‘ کا ’’مذاق‘‘ میں بدل جانا اچھا نہیں لگ رہا۔شہزاد اکبر صاحب بھی قواعد وضوابط کے حوالے دے رہے ہیں۔ شہباز صاحب کے طیارے سے ’’آف لوڈ‘‘ ہوجانے کے واقعہ نے یوٹیوب پر چھائے کئی ’’ذہن سازوں‘‘ کو البتہ یہ سازشی کہانی پھیلانے کی سہولت میسر کردی ہے کہ ’’عمران حکومت ڈٹ گئی ہے‘‘۔ شہباز صاحب فقط ’’دیگر‘‘ اداروں سے گفتگو کے ذریعے اپنے لئے آسانیوں کا بندوبست یقینی نہیں بنا سکتے۔ وفاق میں بیٹھی حکومت کے بھی کچھ اختیارات ہوتے ہیں۔عمران خان صاحب ویسے بھی کسی کو این آراو دینے کو ہرگز تیار نہیں۔جہانگیر ترین جیسے قریب ترین ’’دوست‘‘ کوبھی ’’مافیا‘‘ کے خلاف برپا کی جنگ کے دوران معاف کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔شہباز شریف تو ویسے بھی ان کی نگاہ میں ’’شوباز‘‘ہیں۔اپنے اصل ’’ویری‘‘ کو بیرن ملک کیوں جانے دیں۔روایتی اور سوشل میڈیا پر لہٰذا یہ کہانی ایک بار پھر کچھ دنوں کے لئے چھائی رہے گی کہ ’’عمران ڈٹ گیا ہے‘‘۔
جان کی امان پاتے ہوئے عرض فقط یہ کرنا مقصود ہے کہ ’’ڈٹ گیا‘‘ والی کہانی کا زور جب تھم جائے گا تو ایف آئی اے کا ’’سافٹ ویئر‘‘ بھی ’’اپ ڈیٹ‘‘ ہوجائے گا۔ شہباز صاحب لندن میں اپنے داخلے کو یقینی بنانے کے لئے کچھ دن قطر میں گزارنے کے لئے دوحہ پرواز کرجائیں گے۔
شہباز صاحب لندن روانہ نہ ہوئے تو عیدالفطر گزرجانے کے بعد نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ان سے استفسار کرنا شروع ہوجائیں گے کہ ’’اب کیا کریں؟‘‘۔آئندہ مہینے کے آغاز میں نووارد وزیر خزانہ کا تیار کردہ پہلا بجٹ قومی اسمبلی میںپیش ہونا ہے۔شوکت ترین چاہتے ہوئے بھی اراکین قومی اسمبلی کو ان کے حلقوں میں ’’ترقیاتی کاموں‘‘ کے لئے وہ رقوم مختص نہیں کر پائیں گے جن کی توقع اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی سے کہیں زیادہ حکومتی جماعت کے اراکین لگائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں ’’اپنے حلقوں‘‘ میں ’’منہ دکھانے‘‘ کے قابل بنانے والے ’’فنڈز‘‘نہ ملے تو شوکت ترین صاحب کو بھی بجٹ اجلاس کے دوران ایسے ہی سلوک سے دو چار کرنا شروع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے بالآخر حفیظ شیخ کو فارغ کرنا پڑا تھا۔
آپا دھاپی کے اس موسم میں عمران حکومت کے وسیع تر مفاد میں بہتر یہی ہوگا کہ شہباز شریف بذات خود پاکستان میں موجودنہ ہوں۔قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں بطور قائد حزب اختلاف بھرپور شرکت کے ذریعے عمران حکومت کے بارے میں ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا ماحول نہ بنائیں۔ ان کی ’’قائدانہ صلاحیتوں‘‘ سے محروم ہوئی مسلم لیگ (نون) جو موجودہ قومی اسمبلی میں عددی اعتبار سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے گومگو کے عالم میں مبتلا رہے گی۔شوکت ترین کا پیش کردہ پہلا بجٹ بآسانی منظور ہوجائے گا۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کی روزمرہّ زندگی کی مشکلات میں جو سنگین اضافہ کرے گا اس کا ہم ’’اپنے نمائندوں‘‘ کی بنیادی طور پر یاوہ گوئی پر مبنی تقاریر کے ذریعے اندازہ ہی نہیں لگاپائیں گے۔ہماری کمر پر مہنگائی اور بے روزگاری کے تازیانے برستے رہیں گے۔ عمران حکومت اور اس کی اپوزیشن مگر ایک دوسرے کی کمر کھجاتے رہیں گے۔’’اشرافیہ‘‘ ایسے ہی بندوست کی بدولت ہمیں نسلوں سے غلام بنائے ہوئے ہے۔اس سے نجات دلانے کیلئے عمران صاحب بھی بقول حبیب جالب ’’فقط تقریر کرتے ہیں‘‘۔ علاج غم نہیں کرتے۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker