ر سال ہم نئے سال کی آمد پر دکھوں کا گوشوارہ مرتب کرتے ہیں ۔۔ اور گزرے سال میں جدا ہونے والوں کو یاد کرتے ہیں ۔۔ ہر سال بہت سے دکھ ہماری جھولی میں ڈال جاتا ہے ۔ لیکن یہ جو 2025 تھا یہ مجھے میرے جیون کا اب تک کا سب سے بڑا صدمہ دے گیا ۔۔ میں اپنی ماں کی شفقت اور دعاؤں سے 28 نومبر کر محروم ہو گیا ۔ 2025 سے یہی گلہ ہے کہ اس نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ ۔۔ سال کا آغاز بھی والدہ کی علالت کے دوران ہوا تھا ، لیکن ہمیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ اسی برس ہم سے جدا ہو جائیں گی ۔ ہر سال امی کو نئے سال کی ڈائری دینا میرا معمول تھا ۔ قرآنی آیات والا کیلنڈر بھی ان کے کمرے میں آویزاں کرتا تھا ، آنے والے برس میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔
اور بھی بہت سے دوست اور احباب ہیں جو اسی 2025 کے دوران داغِ مفارقت دے گئے ۔ اس سے پہلے ڈاکٹر اختر علی سید اور برادرم علی نقوی کی والدہ کا چند روز قبل ہی سولہ نومبر کو ہوا تھا ۔ کئی جنازے تھے جن میں ہم شریک ہوئے اور جو ہمارے ساتھ ان جنازوں میں شریک تھے چند ہی روز بعد ان کے جنازے تیار ہو گئے ۔۔ امی کی وفات سے دو روز قبل ہم سابق ریذیڈنٹ ڈائیریکٹر ملتان آرٹس کونسل محمد علی واسطی کے جنازے میں شریک ہوئے تھے ۔اور امی کے جنازے کو کندھا دینے والے جواں سال شاہد بشیر کا اپنا جنازہ بھی دو روز بعد تیار تھا اسی برس دو مئی کو شاہد کے والد شیخ محمد امین نے داغِ مفارقت دیا ان دونوں باپ بیٹا کے ساتھ پریس کلب کے انتخابات کی بہت حسین اور دلچسپ یادیں وابستہ ہیں ۔ شاہد کی راؤوسیم اصغر سے دوستی تھی۔ وسیم کو ہم سے 26 اکتوبر 2025 کو رخصت کیا تھا ۔ اس سے پہلے 24 نومبر کو نام ور ماہر تعلیم براڈکاسٹر اور محقق نصراللہ خان ناصر کو بلاوا آیا ۔۔ ان کے ساتھ پہلی ملاقات 1990 کے عشرے میں سچل سرمست کانفرنس میں ہوئی تھی ۔۔ عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ نظریاتی وابستگی تو نہیں تھی لیکن ان کی خوبصورت نثر کے ہم مداح تھے ۔۔ برادرم خالد مسعود خان نے ان کی کتاب کی تعارفی تقریب کی تو اس موقع پر ان سے ملاقات کا موقع بھی ملا ۔۔ ان کا اسی برس 11 نومبر کو انتقال ہوا ۔ستیہ پال آنند نظم کے لیجنڈ شاعر تھے برسوں سے امریکہ میں مقیم تھے ۔۔ کبھی میسنجر پر انہیں پیغام بھیجتا تو ضرور جواب دیتے تھے ۔۔ اسی طرح سٹاک ہوم میں پنجابی کے نامور ترقی پسند شاعر مسعود قمر صاحب مقیم تھے ۔ ان سے کبھی کبھار فون پر طویل گفتگو ہوتی تھی ۔۔ ہم ان سے اپنی جنم بھومی لائل پور کے قصے سنتے تھے ۔ بھٹو کے اس عاشق نے رخصتی کے لیے چار اپریل کا انتخاب کیا جو بھٹو صاحب کی پھانسی کا دن ہے ۔۔
ستائیس فروری کو سابق طالب علم رہنما فروق تسنیم لاہور میں انتقال کر گئے ۔ فاروق صاحب 1983 میں جلیل آباد میں ہمارے گھر کے قریب رہتے تھے ۔ پھر وہ لاہور منتقل ہو گئے اور اکثر فون پر رابطے میں رہتے تھے ۔۔ 13 مارچ کو سینئر ترقی پسند صحافی ارشد بٹ صاحب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ۔چار مارچ شاعر اور مدرس شاہین کہروڑوی کی جدائی کا دن تھا 15 مارچ کو نامور ماہر تعلیم نقاد اور محقق ڈاکٹر اے بی اشرف کا انقرہ میں انتقال ہوا ۔ ان کی تدفین ملتان میں ہوئی بلاشبہ وہ ملتان کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا ۔ آیئے دعا کرتے ہیں کہ آنے والے برس میں ہم سب ایسے صدموں سے محفوظ رہیں ۔۔
رضی الدین رضی
31 دسمبر 2025

