سال 2025ء حکمرانوں کی نااہلی، بدانتظامی اور بے حسی کی ایک تلخ دستاویز بن کر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ نیا سال طلوع تو ہو رہا ہے، مگر عوام کے لیے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ وفاقی حکومت کے وہ ’’معاشی جادوگر‘‘ جن کے دعوؤں سے قوم کو سنہرے خواب دکھائے گئے تھے، بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔ ڈالر کی بے لگام پرواز، مہنگائی کا طوفان اور تجارتی خسارے میں خطرناک اضافہ اس نام نہاد معاشی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آئی پی پیز سے کیے گئے غیر منصفانہ اور مشکوک معاہدوں نے گردشی قرضے کو ناسور بنا دیا، مگر حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں اور مراعات میں کمی کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ عالمی منڈی میں تیل سستا ہوا تو حکومت نے موقع غنیمت جان کر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار جاری رکھی۔ سردیوں میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ حکمرانوں کے نزدیک عوام کی مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ بیروزگاری، غربت اور فاقہ کشی نے عام آدمی کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جینا بھی ایک سزا بن چکا ہے۔
ملک کے معاشی دارالحکومت کراچی کی صورتحال حکومتی رِٹ کے مکمل خاتمے کا اعلان ہے۔ رواں سال نومبر تک شہر میں اسٹریٹ کرائم کے 58 ہزار 931 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 82 شہری ڈاکوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے، 285 زخمی ہوئے اور 69 افراد مزاحمت پر قتل کر دیے گئےسال 2025 میں بھتہ خوری نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق رواں برس بھتہ خوری کی 169 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں سے تفتیش کے بعد 60 فیصد سے زائد واقعات ذاتی نوعیت کے نکلے ڈکیتی، چوری اورہنی ٹریپ کی وارداتیں،چورڈکیت ہی نہیں،پولیس والے بھی کرتے رہے،2025 میں اہلکاروں کے خلاف96 مقدمات درج ہوئے،جن میں 167 پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا یہ اعداد و شمار کسی جنگ زدہ خطے کے لگتے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی کہانی ہے۔
مہینوں کے حساب سے جرائم کی شرح یہ ثابت کرتی ہے کہ پولیس، حکومت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے محض تماشائی بنے رہے۔ گیارہ ماہ میں 15 ہزار 652 موبائل فون چھین لیے گئے، 1,955 گاڑیاں اور 41 ہزار 324 موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی گئیں۔ روزانہ اوسطاً 47 موبائل فون، 6 گاڑیاں اور 124 موٹر سائیکلیں شہریوں سے چھین لی گئیں، مگر کہیں کوئی مؤثر حکمتِ عملی نظر نہیں آئی۔
بلدیاتی اداروں کی نااہلی بھی لاشوں کی صورت میں سامنے آتی رہی۔ کھلے نالے موت کے گڑھے بنے رہے، جن میں 13 افراد ڈوب کر مر گئے۔ مختلف حادثات میں 24 افراد جھلس کر جاں بحق اور 128 زخمی ہوئے۔ ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق ایک ہی سال میں 800 سے زائد شہری ٹریفک حادثات کی نذر ہو گئے، مگر نہ سڑکیں محفوظ ہو سکیں، نہ قوانین پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکا۔
سماجی بگاڑ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ 119 افراد نے خودکشی کی، 33 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں کوڑے کے ڈھیروں سے ملیں اور منشیات کے اوور ڈوز سے 386 افراد جان سے گئے، جن میں اکثریت لاوارث تھی۔شہر سے مجموعی طور پر رواں سال 597 بچے اور بچیاں لاپتہ اور اغواء ہوئے، 579 بچوں کو تلاش کرلیا گیا غیر سرکاری تنظیم کے مطابق جون میں سب سے زیادہ 126 بچے اغوا یا لاپتہ ہوئے، ضلع شرقی میں 130 بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوئی، جنوری ميں 108، فروری ميں 85، مارچ میں 80، اپريل میں 103 اور مئی میں 95 بچے لاپتہ ہوئے۔
زیادہ تر واقعات گلشن اقبال، بلديہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، محمود آباد، نمائش، گڈاپ، ماڑی پور اور گلستان جوہر میں پیش آئے۔ شہر کے تمام اضلاع سے 597 بچوں کی گمشدگی کی رپورٹس درج ہوئیں تو پولیس بھی حرکت میں آئی اور مقدمات درج ہونے کے بعد 579 بچوں کو تلاش کرلیا گیا۔
لیکن اٹھارہ بچے بچیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ سب کسی فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا المیہ ہے جو انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دینے میں بھی ناکام ہو چکا ہے۔
یہ تمام حقائق حکومتی دعوؤں پر ایک زوردار طمانچہ ہیں۔ امن و امان، معیشت اور گورننس کے محاذ پر مکمل ناکامی کے باوجود حکمران کامیابیوں کے راگ الاپتے رہے۔ سوال یہ نہیں کہ عوام کو کب ریلیف ملے گا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں حکمرانوں سے جواب طلبی کا کوئی نظام باقی رہ گیا ہے؟
نیا سال آیا ہے، مگر اگر سوچ، طرزِ حکمرانی اور ترجیحات نہ بدلیں تو یہ سال بھی محض ایک اور اندوہناک باب ثابت ہو گا۔ عوام اب وعدوں سے نہیں، عمل سے فیصلہ کریں گے—اور تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں کا صبر جواب دے جائے تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
بقول شاعر
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
عزیز نبیل ۔
فیس بک کمینٹ

