برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کو 14 سال اقتدار میں رہنے کے بعد شکست ہوئی ہے اور کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی واضح کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے والی ہے۔ یہ انتخابات وزیر اعظم رشی سونک نے وقت سے پہلے کروانے کا اعلان کیا تھا حالانکہ انہیں رائے عامہ کے جائزوں میں اپنی پارٹی کی مقبولیت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ تھا۔
البتہ جمہوری عمل کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھنے والے ملکوں میں یہ اہم نہیں ہوتا کہ کون جیتتا ہے بلکہ یہ کہ نظام مناسب طریقے سے کام کرتا رہے اور عوام کا اس پر اعتماد بحال رہے۔ سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم رشی سونک نے انتخابات کا اعلان کر کے درحقیقت برطانیہ کے عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا کہ وہ موجودہ مشکل حالات میں اپنے نئے لیڈر منتخب کریں تاکہ ملکی معیشت کو لاحق متعدد چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
کنزرویٹو پارٹی کے بعض نمایاں لیڈروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس مسائل حل کرنے کے لیے نئے خیالات کی کمی تھی، اس لیے اگر عوام ان کی حکومت سے تنگ آ کر اب لیبر پارٹی کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے دوران وزرائے اعظم کی تبدیلی کو کنزرویٹو پارٹی کی شکست کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن کنزرویٹو پارٹی کا حقیقی مسئلہ معاشی انحطاط تھا۔ ملک کا انفرا اسٹرکچر زوال پذیر ہے، شعبہ صحت شدید ابتری کا شکار ہے، مقامی حکومتوں کے پاس عوام کو فلاحی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں اور قومی پیداوار میں اضافہ کی شرح صفر تک پہنچ چکی ہے۔ برطانیہ اپنی قومی پیداوار سے زیادہ قرض کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جسے پیداوار میں اضافہ کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔
گو کہ متعدد جمہوری ممالک کی طرح برطانیہ میں ایک ہی پارٹی کے مسلسل اقتدار سے بھی لوگ اکتا جاتے ہیں اور تمام پالیسیاں درست ہونے کے باوجود بعض اوقات عوام کی اکثریت محض تبدیلی کے لیے مخالف سیاسی گروہ کو ووٹ دے کر اقتدار میں لاتی ہے۔ اسے جمہوریت میں یکسانیت کے خلاف ووٹ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے البتہ اس بار برطانیہ میں عوام نے صرف تبدیلی کے مقصد سے ووٹ نہیں دیا بلکہ یوں لگنے لگا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی ملکی انتظام اور معاشی اصلاح کا کوئی بامقصد اور قابل عمل منصوبہ شروع کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اس کی ایک وجہ پارٹی میں قیادت کا بحران اور یکے بعد دیگرے تین وزرائے اعظم کا تبدیل ہونا بھی ہے۔ برطانوی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور عوام کی بنیادی سہولتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ 2010 کے بعد سے کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے اور متعدد خاندان اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔
جون 2016 میں بریگزٹ کے نام سے منعقد ہونے والے ریفرنڈم کے دوران میں کنزرویٹو پارٹی کے متعدد لیڈر یورپیئن یونین سے علیحدگی کے حامی تھے اور اس بارے میں شدید مہم چلائی گئی تھی۔ اس ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد البتہ برطانیہ کی ٹوری حکومت یورپیئن یونین سے علیحدہ ہونے کے بعد کوئی ایسا ٹھوس معاشی منصوبہ شروع نہیں کر سکی جس سے یہ باور کیا جا سکتا کہ بریگزٹ درست فیصلہ تھا۔ اس ریفرنڈم کے نتیجہ میں برطانیہ 31 جنوری 2020 کو یورپیئن یونین سے الگ ہو گیا تاہم ریفرنڈم کے وقت لیڈروں نے جو تاثر دیا تھا کہ گویا یورپیئن یونین چھوڑنے کے بعد برطانیہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، وہ قیاس آرائیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔ گزشتہ چار سال کے دوران میں کنزرویٹو پارٹی کے پاس عنان حکومت رہی لیکن اس کے وزرائے اعظم اپنی بے اعتدالی، نا اہلی اور کسی ٹھوس حکمت عملی کی عدم موجودگی میں عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ برطانیہ میں انتخاب میں لیبر پارٹی کو بری معیشت کی وجہ سے کامیابی ملی ہے لیکن درحقیقت یہ بریگزیٹ کے نام سے دکھائے جانے والے خواب ٹوٹنے کا اثر بھی ہے۔
سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم رشی سونک نے ذمہ دار لیڈر کی طرح اس صورت حال کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پہلے 22 مئی کو وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کر کے ذمہ داری قبول کی گئی کہ ملک میں عام انتخابات 4 جولائی کو ہوں گے۔ اور اب انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد انہوں نے فوری طور سے شکست کا اعتراف کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما کیئر اسٹارمر کو مبارک باد دی اور کہا کہ وہ انتخابات میں شکست کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ آج پُرامن اور منظم انداز میں انتقالِ اقتدار ہو گا۔ ’یہ وہ چیز ہے جو ہمیں اپنے ملک کے استحکام اور مستقبل میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے کرنا چاہیے۔ انتخابی نتائج میں ہمارے لیے سیکھنے اور غور کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور میں اس شکست کی ذمے داری قبول کرتا ہوں‘ ۔
اس اعلان کے ساتھ ہی رشی سونک نے نہ صرف وزارت عظمی سے علیحدہ ہونے اور اسٹارمر کے لیے جگہ خالی کرنے کا اعلان کیا بلکہ حقیقی معنوں میں شاید سیاست سے علیحدگی کی طرف پہلا قدم رکھا ہے۔ عام طور سے قیاس کیا جا رہا ہے کہ ایسی خوفناک انتخابی شکست کے بعد رشی سونک کے لیے کنزرویٹو پارٹی کا لیڈر رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ پارٹی کو اپنی صفوں کی تنظیم نو کرنی ہوگی اور بہت سے نمایاں لیڈر نئی قیادت کے لیے جگہ خالی کرنے پر مجبور ہوں گے تاکہ پارٹی کو مستقبل کی سیاست میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔
برطانیہ میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد جو سروے کیے گئے ہیں ان کے مطابق لیبر پارٹی کو 410 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 131 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ سینٹرل لبرل ڈیموکریٹس کو 61 نشستیں مل سکتی ہیں۔ یہ اندازہ اگرچہ ایگزٹ پول کی بنیاد پر تیار ہوا ہے اور اس میں غلطی کا امکان رہتا ہے لیکن روایتی طور سے برطانیہ میں پولنگ کے بعد ہونے والے سروے میں نتائج کی درست تصویر سامنے آجاتی ہے۔ برطانیہ میں بیشتر حلقوں سے انتخابی نتائج سامنے آچکے ہیں اور سروے اور اندازوں کے عین مطابق لیبر پارٹی بھاری اکثریت سے جیتی ہے۔ اب اس کی قیادت نئی حکومت بنانے اور ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کام شروع کرے گی۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آسان کام نہیں ہو گا۔ لیبر لیڈر کیئر اسٹارمر نے نئی سرمایہ کاری کرنے، صنعتوں کی بے یقینی ختم کرنے کے اقدامات کے علاوہ قرضوں کا بوجھ کم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ عوام کو ٹیکس اور محاصل میں شاید وہ سہولتیں حاصل نہ ہو سکیں جن کی وہ توقع کر رہے ہیں لیکن اگر لیبر حکومت قومی پیداوار میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ متعدد مالی مشکلات پر قابو پا سکتی ہے۔
لیبر پارٹی کے رہنما کیئر اسٹارمر نے کامیابی کے بعد وکٹری اسپیچ میں کہا کہ اب تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے۔ ساڑھے چار سال کی کوششوں کے بعد پارٹی میں تبدیلی آئی اور اب ایک تبدیل ہوتی ہوئی لیبر پارٹی موجود ہے جو ملک کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر کار اس عظیم قوم کے کاندھوں پر موجود بوجھ ہٹ چکا ہے اور اب ہم اسے آگے لے جائیں گے۔ گزشتہ 14 برس کی ناکامیوں کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر روشن مستقبل کے دروازے کھلیں گے۔ اسٹارمر نے کہا کہ ہمیں سیاست کو عوام کی خدمت کے لیے واپس لانا ہے اور یہ دکھانا ہے کہ سیاست ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے بہتر کام کیے جا سکتے ہیں۔ لیبر پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ’اب ہم جیت چکے ہیں اور سچ بولوں تو مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے‘ ۔
کامیابی کے بعد اگرچہ لیبر لیڈر اور مستقبل کے برطانوی وزیر اعظم نے موجودہ معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اس جانب ہلکا سا اشارہ کرنے کے علاوہ سیاسی مقابلے بازی کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ملک کے سب مسائل کی ذمہ داری سیاسی مخالفین پر ڈال کر سرخرو ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ چند ہی ہفتوں میں انتخابات کی بات پرانی ہو جائے گی، کامیابی پر چھانے والی خوشی مدھم پڑ جائے گی اور عوام اور تجزیہ نگار لیبر حکومت کو اس کی کارکردگی اور فیصلوں کی بنیاد پر پرکھیں گے۔ کسی بھی جمہوری لیڈر کی طرح وہ اس اہم امتحان کے لیے تیار ہیں، اسی لیے وہ فوری طور سے کام کا آغاز کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور لوگوں کو کوئی سہانے سپنے دکھانے سے گریز کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے انتخابات کے بعد اس کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن لیبر حکومت سابقہ ٹوری حکومت کے مقابلے میں غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی کے خلاف موقف اختیار کر سکتی ہے اور دو ریاستی حل کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ برطانیہ کو اس وقت فرانس سے آبی راستے سے بڑی تعداد میں برطانیہ داخل ہونے والے پناہ گزینوں کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ لیبر پارٹی کی حکومت تارکین وطن دوست جماعت کی شہرت رکھتی ہے لیکن امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا اس کی مجبوری ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نئی حکومت اس سلسلہ میں نئی قانون سازی کے ذریعے غیر قانونی داخلے کو محدود کرنے کی کوشش کرے۔ اس حوالے سے کنزرویٹو پارٹی کی حکومت نے روانڈا کی حکومت کے ساتھ رود بار انگلستان کے راستے برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کو واپس روانڈا بھیجنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس فیصلہ کو شدید سیاسی مخالفت کا سامنا تھا۔ لیبر لیڈر اس طریقے کو تبدیل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ البتہ وہ ملک میں نئے غیر قانونی پناہ گزینوں یا تارکین وطن کی آمد روکنے کے کسی نئے قابل قبول منصوبہ پر عمل کروائیں گے۔
برطانیہ میں لیبر پارٹی کی کامیابی یورپ میں انتہاپسند دائیں بازو کی جماعتوں کی کامیابی کے تناظر میں بھی بے حد اہم ہے۔ ایک طرف اگر متعدد یورپی ملکوں میں مقبولیت پسند پارٹیاں تارکین وطن کو موضوع بنا کر نفرت اور تعصبات کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں تو برطانیہ کے ووٹروں کی اکثریت نے سوشل انصاف پر یقین رکھنے والی ایک پارٹی کو کامیاب کروا کے اس رجحان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں برطانیہ میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے اثرات ملک سے باہر متعدد یورپی ملکوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
(بشکریہ:ہم سب)
فیس بک کمینٹ

