اہم خبریں

اینٹی ہائی جیکنگ مشق میں بوئنگ طیارے کو نقصان پر پارلیمانی ’جانچ پڑتال کا مطالبہ‘

اسلام آباد: قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اینٹی ہائی جیکنگ مشق کے دوران پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بوئنگ طیارے کو گراؤنڈ کرنے کے تنازع پر پارلیمانی جانچ پڑتال کا امکان ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اٹھائیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وہ پہلے ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کے چیئرمین ہدایت اللہ سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کہہ چکے ہیں اور وہ اس سلسلے میں انہیں باضابطہ طور پر مراسلہ لکھیں گے۔
افنان خان نے کہا کہ وہ کمیٹی کے چیئرمین کو مراسلے کے ذریعے اس معاملے کی وضاحت کریں گے، ان سے پی آئی اے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے اعلیٰ افسران کو طلب کرنے کی درخواست کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں اپوزیشن کے ارکان بھی ایک ذیلی کمیٹی کی درخواست کریں گے جو مکمل تحقیقات کرے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ پی آئی اے کا بوئنگ 777-200 ایل آر رجسٹریشن نمبر اے پی-بی جی ایل کے ساتھ تقریباً 2 سال سے کراچی میں ایک اسٹوریج کی سہولت پر کھڑا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی خزانے پر 30 کروڑ ڈالر سے زائد لاگت کا طیارہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشق کے دوران ہونے والے نقصان کی وجہ سے پرواز نہیں کر سکا تھا جب اے ایس ایف کے ٹرک نے اسے پوری طاقت سے ٹکر مار دی تھی۔
افنان خان نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے ابتدائی طور پر کسی ’غلط کام‘ سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں اس مشق کی تصدیق کی اور طیارہ کو نقصان پہنچا تھا۔
گزشتہ ماہ پی آئی اے کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پائلٹ ممتاز حسین نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
25 اکتوبر کو جسٹس طارق ندیم نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ’پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر سے جواب اور پیرا وار تبصرے حاصل کریں‘۔
کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ 30 نومبر (کل) ہے۔
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی اپنی درخواست میں پائلٹ نے عدالت پر زور دیا کہ وہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو طیارے کے معائنے کی اجازت دینے اور اس کی فضائی صلاحیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ’مناسب ہدایت‘ دیں۔
ترجمان پی آئی اے
پی آئی اے کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ طیارہ ناکارہ ہوگیا ہے۔
ایک بیان میں اعتراف کیا گیا کہ طیارے کو اینٹی ہائی جیکنگ مشق کے دوران ’جزوی طور پر نقصان‘ پہنچا تھا، لیکن دعویٰ کیا کہ نقصان کی مرمت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’طیارہ لانگ اسٹوریج پر کھڑا ہے‘۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’ کیونکہ بوئنگ 777 کا استعمال کووڈ 19 کے تناظر میں سفری پابندیوں کی وجہ سے کم ہو گیا تھا۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker