غنیمت ہیں وہ دوست جو کبھی کبھار کوئی نایاب تصویر ارسال کرتے ہیں اور ہمیں ہمارا خوبصورت ماضی یاد دلادیتے ہیں۔ حالت تواب یہ ہوچکی ہے کہ بہت سے واقعات کم وبیش ذہن سے محو ہی ہوگئے۔ کئی کہانیاں جو ہم نے اپنے کالموں میں کئی برس قبل تحریرکی تھیں اب پڑھیں تو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ سب کچھ ہم نے لکھا ۔
کچھ تقریبات ماضی کی گرد میں اس طرح سے گم ہوئیں کہ اگر ان کااحوال ہم نے اس زمانے میں اپنے کالموں میں تحریر نہ کیاہوتا تو ہمیں یاد بھی نہ آتا کہ ایسی کوئی تقریب ہوئی تھی۔پرانے کالم پڑھنے کے باوجود بعض اوقات مناظر واضح نہیں ہوتے ۔ یہ حال میرے عہدکے کم وبیش تمام دوستوں کا ہے۔ کچھ تقریبات جو مجھے یاد ہیں وہ میرے دوست فراموش کربیٹھے ہیں اور کچھ جو ان کے حافظے میں موجودہیں انہیں میں بھلا بیٹھا۔ سو کوئی کالم لکھنے یا کسی تصویر کا کھوج لگانے کے لیے اپنے دوستوں کی مدد لیناپڑتی ہے۔
پھر ہم یادوں کے ٹکڑے جوڑ کر تصویرکاجگساپزل(Jigsaw Puzzle)مکمل کرتے ہیں۔
گل نوخیز اختر نے چند روز قبل ایک نایاب تصویر ارسال کی جس میں میں خود بھی موجودہوں۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ اپنی تصویر توابھی میں پہچان ہی لیتاہوں۔میرے ساتھ اظہر سلیم مجوکہ ، قمر بخاری اورطارق اسد موجودہیں انہیں بھی میں نے پہچان لیا۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر محمد امین ،سجاد کھوکھر، اگلی نشستوں پر شمیم حیدر ترمذی، اختر جعفری، حسین سحر، عرش صدیقی ، گل نوخیز اختر اورنجم الاصغر شاہیا بیٹھے ہیں۔ تصویر میں نظرآنے والے دیگراحباب میں ممتاز اطہر،جاوید اختربھٹی، غیور شیروانی بھی شامل ہیں۔ ناموں کی شناخت میں میں نے اور گل نوخیز اختر نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ پھرگل نوخیز نے ہی بتایا کہ یہ ملتان آرٹس کونسل کی پرانی عمارت کی تصویر ہے جہاں رائٹرز پینل آف پاکستان کے زیراہتمام تقسیم ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی تھی اور یہ گروپ فوٹوان لوگوں کا ہے جنہیں ایوارڈز دیئے گئے تھے۔اس کے بعد منظر کچھ واضح ہونا شروع ہوا اور مجھے یاد آیا کہ اس تقریب میں گل نوخیز اختر نے ہم سب کو ایوارڈز دیئے تھے اورشاید یہ ملتان میں ان کی آخری تقریب تھی۔اس کے بعد وہ مستقل طورپر لاہور منتقل ہوگئے۔ اگلا مرحلہ یہ تھا کہ اس تقریب کی تاریخ تلاش کی جائے۔ یہ تو ہمیں یاد تھا کہ تقریب دسمبر 1992ءمیں منعقد ہوئی تھی لیکن وہ دن اور تاریخ کونسی تھی یہ جاننے کے لیے اس ایوارڈ کی تلاش شروع ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ بعض ایوارڈ ز پر تاریخ بھی درج کردی جاتی ہے۔میرے پاس تو یہ ایوارڈ موجودنہیں تھا کہ 31برس کے دوران بہت کچھ ہاتھوں سے نکل گیا۔ ایوارڈ بھلاکیسے محفوظ رہتا۔بالکل اسی طرح جیسے اس تصویر میں موجود بہت سے چہرے اب صرف ہماری یادوں میں ہی محفوظ ہیں لیکن ہم انہیں صرف خواب میں ہی مل سکتے ہیں۔ اظہر سلیم مجوکہ کا کمال یہ ہے کہ ان کی یادداشت بھی اچھی ہے اوران کے پاس ماضی کے ”ایٹمی اثاثے“ بھی محفوظ ہیں۔ سو گل نوخیز کی فرمائش پر ہی میں نے اظہر سلیم مجوکہ سے رابطہ کیا اور انہوں نے مجھے صرف رائٹرز پینل والا ایوارڈ ہی ارسال نہیں کیابلکہ اس کے ساتھ اور بہت سے ایوارڈ اورشیلڈیں واٹس ایپ میں بھیج دیں جن میں 1984 کا شاہین ادبی ایوارڈ جس کی پشت پر محترمہ بشری رحمان ،حسین سحر، اقبال ارشد کے دستخطوں کے ساتھ ان کی آراءبھی موجودہیں۔ضلعی حکومت اور نوائے وقت کے زیراہتمام 27دسمبر 2004ءکو منعقد ہونے والی پہلی جنوبی پنجاب کانفرنس میں دی گئی شیلڈ،20اپریل 2005ءکوروزنامہ نوائے وقت کے زیراہتمام دوسری مرتبہ منعقد ہونے والی” پہلی“ جنوبی پنجاب اہل قلم کانفرنس میں دی گئی یادگاری شیلڈ ،پھول اورکلیاں کے زیراہتمام تیسرے رائٹرز کنونشن 2007ءمیں دیاگیاحسن کارکردگی ایوارڈ اور دیگرشیلڈز شامل ہیں۔ اوراسی ہجوم میں انہوں نے رائٹرز پینل والا ایوارڈ بھی ارسال کردیاجسے پرائیڈ آف پرفارمنس کا نام دیاگیاتھا۔( لیکن اس ایوارڈ پر تاریخ بہر حال درج نہیں )
گل نوخیز اختر کا شکرگزارہوں کہ انہوں نے مجھے ایک اور تصویرکہانی مکمل کرنے کاموقع فراہم کردیا کہ ایسی ہی کچھ کہانیاں میں پہلے بھی تحریرکرچکا ہوں ۔ان میں پہلی کہانی اسی شاہین ایوارڈ کی تھی جو 1984ءمیں ہم نے محترمہ بشری رحمان سے وصول کیاتھا۔اس کے علاوہ ایک تصویرکہانی احمد فراز کی یادوں کے حوالے سے بھی ہے ۔ اور ایک کہانی بورے والا میں منعقد ہونے والے مشاعرے کی ہے ۔ لگتا یہی ہے کہ اب ایک کتاب تصویر کہانیوں کی بھی تیارہوجائے گی۔
فیس بک کمینٹ

