پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ آج لاہور کے علاقے شاہدرہ سے دوبارہ شروع ہوگا جو کل رات اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا تھا۔
اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ ضلع شیخوپورہ کے شہری بھی شاہدرہ میں مارچ کو جوائن کریں گے اور اب کامونکی تک سفر کیا جائے گا-
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے پہلے دن کا اختتام لاہور کے داتا دربار میں کردیا اور کہا کل 11 بجے شاہدرہ سے سفر دوبارہ شروع کریں گے۔
داتا دربار لاہور پہنچنے کے بعد خطاب میں کہا کہ ہمیں اس وقت شاہدرہ پہنچنا تھا لیکن عوام نے استقبال کیا تاہم اسلام آباد کی طرف آج کا سفر داتا دربار پر ختم کر رہے ہیں اور کل دوبارہ 11 بجے شاہدرہ سے ہمارا سفر شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خوف، پیسے سمیت کسی قسم کے بت سے سامنے نہیں جھکنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سب وعدہ کریں کہ ارشد شریف کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہم جو اسلام آباد کی طرف نکلے ہیں، ہمارا مقصد اپنے ملک کو حقیقی طور پر آزاد کرنا ہے تاکہ ہر شہری کے حقوق کا تحفظ ہو۔
لاہور میں مارچ کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم ہر قسم کے ظلم کا مقابلہ کریں گے، بند کمروں میں فیصلے ہوتے ہیں، جو نامعلوم ٹیلی فون سے ڈرایا جاتا ہے، ہم آزاد قوم ہیں، کسی کی غلامی نہیں کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا کہ وہ جو چاہیں کریں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔
نجی ٹی وی 92 نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں طاقت ور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے مختلف قانون ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقتول صحافی ارشد شریف جانتا تھا کہ ملک سے باہر بھی ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ شیریں مزاری کے پاس ان کے پیغام موجود ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا مارچ حکومت گرانے کے لیے نہیں ہے بلکہ عوام کے لیے تبدیلی آنی چاہیے تاکہ ان کو حقوق ملیں۔
جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم تقدیر بدلنے کے لیے عوام نکلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم عوام کو متحرک کرنے نکلے ہیں اور ہمارا مقصد دارالحکومت پر حملہ کرنا نہیں ہے بلکہ حکومت کو سمجھانا ہے کہ لوگ ان سے نالاں ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں حکومت نئے انتخابات کا اعلان کریں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان اقتدار کی ہوس میں اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں ان کے لیے وطن کی محبت، شہدا کے خون کا تقدس اور رشتوں کا احترام کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے لیے اول اور آخر اس کی ذات ہے، اس کی زبان پاکستان دشمنی کی زبان ہے۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکنوں کی تربیت کی بنیاد نفرت اور تقسیم ہے، اقتدار کی محرومی اس سے وطن دشمنی پر لےآئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی انا اور خود غرضی کی خاطر پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے سے بھی باز نہیں آ رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر احسن اقبال نے کہا کہ وہ جس طرح فوج پر حملے کر رہا ہے اس سے واضح ہو چکا ہے کہ اس کے فارن ڈونرز اور ماسٹرز نے اسے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلانے کا ٹاسک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محب وطن پاکستانیوں کو ہوشیار رہنا ہو گا۔
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ اگر پرامن رہا تو اسلام آباد میں داخل ہونے سے نہیں روکیں گے۔
ٹوئٹر اسپیس میں بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے عوامی سطح پر وعدہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ چکے ہیں وہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متعین مقامات تک محدود ہوں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر وہ پرامن رہے تو ہم انہیں نہیں روکیں گے تاہم خبردار کیا کہ دوسری صورت میں وہ مکمل طاقت سے جواب دیں گے۔
دریں اثناء پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ لانگ مارچ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی تقریروں سمیت دیگر پروگراموں کو براہ راست نشر نہ کیا جائے۔
پیمرا کی جانب سے 28 اکتوبر کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو پروگرام براہ راست نشر نہ کرنے کی ہدایات پہلے بھی دی گئی تھیں، تاہم اس کی کمپلائنس بہت خراب ہے۔
پیمرا نے بتایا کہ آج ٹرانسمیشن کو مانیٹر کیا گیا، اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ تقریر کے دوران اداروں کے خلاف بیانات براہ راست نشر ہوئے، جو کہ عدالتی حکم اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
ٹیلی ویژن چینلز کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ ایسا مواد نشر کرنے سے گریز کریں جو (دانستہ یا نادانستہ) ریاستی اداروں کو بدنام کے مترادف ہے، اور اپنے ایڈیٹوریل بورڈز، ڈائریکٹرز، بیوروز اور رپورٹرز کو اس حوالے سے ہدایات دیں۔
پیمرا نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، جس کے تحت لائسنس کی معطلی اور منسوخی بھی ہوسکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ صرف ایک ڈراما اور معافی مارچ ہے، جس میں وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اچھے بچے اور بہترین غلام ہیں، اس لیے انہیں معاف کر دیا جائے۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس کا نام آزادی مارچ رکھا گیا ہے اننہیں یہ معلوم نہیں کہ جن کا کردار جگہ جگہ سے داغدار ہو وہ نہ تو آزادی لے سکتے اور نہ ہی کوئی انقلاب لا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں سب سے خراب کردار چوہدری پرویز الہٰی اور حکومت پنجاب کا ہے، جس کے ڈی سی ہر شہر سے زبردستی بسیں پکڑ کر سرکاری و سائل استعمال کر تے ہوئے سرکاری ملازمین کی حاضریاں لگا کر انہیں زبردستی مارچ میں شرکت کے لیے روانہ کر رہے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ انقلاب لانے والوں کا کردار دیکھیں کہ وہ لوگوں کی بہنوں، بیٹیوں، بیٹوں سے حلف لے رہے ہیں کہ وہ لانگ مارچ میں شرکت کریں لیکن نہ تو پنکی پیرنی، نہ قاسم اور سلیمان اور نہ ہی ان کی اپنی بہنیں لانگ مارچ میں شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کرنے والوں کو ہدایات دی جا چکی ہیں اور پنجاب حکومت پر بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر عام لوگوں کے لیے کوئی مشکل پیدا کی گئی، بچوں کی تعلیم میں خلل ڈالا گیا، کاروبار بند کروائے گئے، سڑکیں بلاک کی گئیں، توڑ پھوڑ یا کوئی دوسری بد امنی پھیلانے کے لیے اقدامات کیے گئے تو وفاقی حکومت اپنا اختیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔
طلال چوہدری نے کہاکہ ہم نہ آنسو گیس کا کوئی شیل چلائیں گے، نہ لاٹھی چارج کریں گے، نہ کوئی گرفتاری کی جائے گی لیکن اگر اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش ہو ئی تو گرفتاریوں سمیت ہر آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔

