پشاور : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان بدھ کو ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں 18 شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد، اِن کالعدم تنظیموں کے درمیان گہرے ہوتے اختلافات پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ضلع کرم کی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ اُن کے ’18 ساتھیوں‘ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مفتی نور ولی محسود دھڑے نے نشانہ بنایا۔ ترجمان نے اعلان کیا کہ ’اب اس کا بدلہ فرض ہے۔‘
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا اور جب اُن سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس معاملے پر ردعمل دینے سے انکار کیا۔
پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان ماضی میں مختلف مواقع پر اتحاد اور اختلاف کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں اور اِن تنظیموں کے ارکان کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔
تاہم ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے دوسری کالعدم تنظیم کے ڈیڑھ درجن اراکین کو ہلاک کیے جانے کے بعد، ایک مرتبہ پھر ان مسلح تنظیموں کے درمیان اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔
ضلع کرم سے یہ اطلاع بدھ کے روز سامنے آئی تھی کہ وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دو شدت پسندوں گروہوں کے درمیان جھڑپ میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس جھڑپ کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ یہ شدت پسندوں کے دو مقامی اور ذیلی گروہوں ’کاظم گروپ‘ اور ’امتی گروپ‘ کے درمیان ہوئی جس میں مبینہ طور پر امتی گروپ کے کمانڈر ممتاز سمیت 18 افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق امتی گروپ کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ امتی گروپ کے شدت پسندوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں بڑا جانی نقصان ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پاکستان میں سب سے بڑی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو سمجھا جاتا ہے جس میں لگ بھگ 60 کے قریب چھوٹے بڑے گروپ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بڑے پرتشدد حملے کرنے والے گروپ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کا نام بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ اتحاد المجاہدین پاکستان میں تین بڑے کالعدم گروپ شامل ہیں اور یہ حافظ گل بہادر کے ساتھ منسلک اتحاد ہے۔
اگرچہ جماعت الاحرار ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد میں بھی شامل ہے لیکن ماضی میں بھی اُن کے آپسی تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔
سینیئر محقق اور تجزیہ کار عبدالسید کے مطابق دونوں تنظیموں کے درمیان کرم کے علاقے میں یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے جاری داخلی تنازعات کا اب تک کا ’سب سے بڑا خونیں واقعہ‘ ہے۔
ان کے مطابق اِن دو دھڑوں کے درمیان کشیدگی کا آغاز اگست 2022 میں جماعت الاحرار کے بانی سربراہ عمر خالد خراسانی کی افغانستان میں ہوئے ایک پراسرار حملے میں ہلاکت کے بعد سے ہوا، جس میں گذشتہ برس کے دوران بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے اتحاد میں شامل سب سے بڑا دھڑا جماعت الاحرار کو سمجھا جاتا ہے اور اس تنظیم نے ماضی میں بڑی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ان کے مطابق جماعت الاحرار اپنا میڈیا نیٹ ورک ’غازی میڈیا‘ بھی چلاتی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2024 میں ’غازی میڈیا‘ نے اپنے ایک بیان میں ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود پر جماعت الاحرار کے لیڈر عمر خالد خراسانی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
رفعت اورکزئی کے مطابق جب حالیہ برسوں میں ٹی ٹی پی نے تنظیمِ نو کی تو اس میں مکرم خراسانی سمیت کچھ لوگوں کو عہدے دیے گئے تھے لیکن بظاہر دونوں تنظیموں کے درمیان عدم اعتماد یا شکوک و شبہات موجود رہے ہیں۔
رفعت اورکزئی نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے ماضی میں افغان طالبان نے بھی کردار ادا کیا تھا۔
تجزیہ کارعبدالسید بتاتے ہیں کہ سنہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان میں ہونے والے داخلی اختلافات کے باعث عمر خالد خراسانی نے اپنے ساتھیوں سمیت اس گروہ سے علیحدگی اختیار کر کے جماعت الاحرار کے نام سے نیا دھڑا قائم کیا تھا۔
عبدالسید کے مطابق بعدازاں اگست 2020 میں جماعت الاحرار دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کے اتحاد میں شامل ہو گئی تاہم عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد دونوں دھڑوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جن میں کئی مرتبہ مشروط مصالحت بھی ہوئی تاہم یہ کشیدگی وقت کے ساتھ بتدریج بڑھتی رہی۔
ان کا کہنا تھا اگرچہ 2025 کے اوائل سے جماعت الاحرار نے غیر اعلانیہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کا متوازی تنظیمی نیٹ ورک فعال کیا تاہم اس نے اب تک رسمی طور پر ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار نہیں کی اور نہ ہی تحریک طالبان پاکستان نے اسے علیحدہ گروہ قرار دیا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

