قیصر عباس صابرکالملکھاری

مرشد کے ملنگ کو قبرستان کی تلاش : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

مجھے بے شک جان کی امان نہ ملے، پھر بھی آج اذنِ اظہار کے بغیر ہی کچھ کہنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے بھی کچھ خواب تھے اور ان لاحاصل تعبیروں والے خوابوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا مگر میں ڈٹا رہا کہ جدوجہد کے بائیس سال کچھ کم عرصہ نہ تھے اور میں نے اپنے تصور کے تخت پر جس کو بٹھایا تھا وہ بھی بددیانت ہرگز نہ تھا ، چور اور ڈاکو نہ تھا، وہ صرف داستان گو یا کہانی کار بھی تو نہ تھا۔ محنت سے بھرپور اس کی زندگی تھی ، مسلسل جدوجہد اس کی پہچان ، اسی لئے تو میں ڈٹا رہا ، جب میرے لاحاصل تعبیروں والے خوابوں کا مذاق میرے گھر میں ہی اڑایا جاتا تو میں حوصلے سے برداشت کرتا ، خاموش رہتا کیونکہ مجھے روشن مستقبل واضح اور یقینی نظر آرہاتھا ۔بار بار کی شکست بھی ہمارے مرشد کے حوصلے پست نہ کرسکی اور وہ پھر سے نئے حوصلے کے ساتھ منظر عام پر آجاتا۔
اس نے صرف قوم کے لئے خود کو یوں وقف کردیا تھا کہ اس کے بچے، بیوی سب چھوڑ گئے، وقت نہ دینے کی وجہ سے ترک تعلقات تک بات پہنچ گئی۔ وہ بیوی جو مغرب میں پلی بڑھی تھی ، اس نے اپنا مغرب اور مذہب دونوں چھوڑے تھے، ہمارے مرشد نے صرف قوم کےلئے اسے چھوڑ دیا ،حالانکہ وہ چاہتا تو اپنا ایک ایک پل عیش و عشرت میں گزار سکتا تھا۔
پھر میرا حوصلہ مزید بلند ہوا جب لوگوں کو بالآخر ہماری بات سمجھ آنے لگی اور لوگ جوق در جوق ہمارے کاروان کا حصہ بنتے چلے گئے۔ بڑے گدی نشینوں نے بھی مرشد کی ریاضت کو تسلیم کرلیا۔ جب بڑی گدی کے سجادہ نشین اپنا دست شفقت میرے مرشد کے سر پر رکھ دیتے تھے تو مرشد کو ان کی شرائط تابعدار ی ناممکن محسوس ہوئیں مگر انہوں نے قوم کے بہتر مستقبل کے لئے یہ بھی قبول کرلیا۔ پھر مجھ پر قہقہے لگانے والوں نے حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ کس طرح فرطِ عقیدت سے میرے مرشد کی بیعت کئے جارہے ہیں۔ خود میرے اہلخانہ جو مجھے صرف ایک دیوانہ سمجھتے تھے ، انہوں نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی اور اپنے گھر کی چھت پر دو رنگا جھنڈا لہرانے کی اجازت دے دی۔
جس روز صوبہ جنوبی پنجاب محاذنے میرے مرشد کے دستِ عطائی پر بیعت کی اس روز پسماندہ اضلاع کے بہت سے آفات زدہ ووٹروں نے اپنا ہاتھ مرشد کے ذیلی ملنگوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔ میں جب اسلام آباد کے ڈی چوک پر اپنی شاموں کو رنگین کررہا تھا تو اس وقت بہت سار ے سیاسی دربان میرے حلقہ یاراں کو بریشم کی طرح نرم کرتے تھے، وہاں ہمارے دن سوتے تھے اور راتیں جاگتی تھیں۔
پھر ایک دن ایسا آیا جب ہمیں پاکستان کی حکومت کی شکل میں مجسم تعبیر مل گئی۔ بڑی گدی کے سجادہ نشین شروع شروع میں بھرپور رہنمائی کرتے رہے۔ ہم نے جو خواب دکھائے تھے، جو پل باندھے تھے ، وہ زیادہ تر تو افسانوی تھے، اس لئے سیاسی مجاوروں کی امیدیں برقرار رہیں۔ وطن عزیز کے حالات بگڑتے چلے گئے، غریب” گھبرانا نہیں“ کی بات کو قومی سلوگن سمجھ کر اعتبار کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ مرشد کی گدڑی میں ابھی بہت سے لعل و جواہر باقی ہیں جو قوم کو سرپرائز کے طور پر پیش کئے جائیں گے۔
وطن عزیز کی شہ رگ کا ٹ لی گئی اور ہمیں ”گھبرانا نہیں“ کا پرچار کرنے کا درس سونپا گیا، میں نے اپنے محلے ، گلی اور گھر والوں کے تیور بدلے بدلے محسوس کئے ۔ میں اس وقت تو بالکل لاجواب ہوگیا جب مرشد نے کہا” نوکریاں دینا حکومت کا کام نہیں“ پھر ہنی مون کا سودن بھی گزر گیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ تو درکنار ایک سب سیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا۔ مہنگائی نے غریب کے منہ سے نوالا اور مریض کی دوائی تک چھین لی۔ میں نے مسلسل چپ سادھ لی اور اپنے ہوسٹل کے کمرے تک محدود ہوگیا۔ میرے رشتہ داروں اور دوستوں نے مجھے سوشل میڈیا پر بلاک کردیا۔ امریکا میں مرشد کی تقریر نے چند دن کے لئے سیاسی آکسیجن فراہم کیا مگر وہ بھی کا م نہ آسکا۔ میں خود لاجواب ہوتا چلا گیا ۔ میرے وہ سیاسی دربان جو اسلام آباد ڈی چوک پر میرے حلقہ احباب میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہورہا تھا جو میں خود پر برداشت کررہا تھا۔
مرشد نے فرمایا” 2020 ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا“ اس اعلان کے ساتھ ہی وطن عزیز سے آٹا غائب ہوگیا، فصلوں کو چاٹ کھانے کے لئے ٹڈی دل کو بھی ہمارے برے دنوں کا انتظار تھا، ہر چیز سمجھ سے بالاتر ہوتی گئی ۔ مرشد نے قوم کی بہتری کےلئے ہر وہ کام کرڈالا جس کی وہ نفی کرتے رہے۔ وہ نوجوانوں کو جو خواب دکھلا کر ان کے مرشد بنے تھے، ان سب پر یوٹرن لے لیا گیا۔ بڑی درگاہ کے سجادہ نشین کے حکم پر راستے کے سبھی پتھروں کو ایک ایک کرکے بند کردیا گیا، چپ کرادیا گیا، بیمار بنادیا گیا۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ جب کسی طرف سے بھی مرشد کے لئے مزاحمت باقی نہ رہی تو بھی ایک وعدہ بھی پورا نہ ہوسکا ۔ سبھی برج اور ستارے الٹی چالیں چلنے لگے۔ پارلیمنٹ نے تاریخ کی کڑوی ترین گولی بھی نگل لی پھر بھی بحران نہ ٹل سکا۔ مرشد نے جب اعلان کیا” تیل کی نہریں بہادیں گے“ تو اس پر لوگ بغلوں میں منہ چھپا کر قہقہہ زن ہوئے مگر میں اسے بھی مرشد کی کوئی چلہ کشی کانتیجہ سمجھا ۔ اب تو حد ہوگئی کہ جب سرکاری حکم جاری کردیا گیا کہ ” سکون صرف قبر میں ملے گا“ ۔ میں چارپائی اور بستر اٹھا کر اپنے آبائی قبرستان میں رہائش پذیر مرشد کے نئے حکمنامے کا انتظار کررہا ہوں کہ گھر والے تومجھے پہلے ہی پاگل قرار دے کر بھول چکے ہیں ۔ میرے بستر کے سرخ اورسبز رنگ کو دیکھ کر لوگ مجھے سیاسی ملنگ کا نام دیتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker