راؤ خالدکالملکھاری

مایوسی کیوں !۔۔رولا رپہ/راؤخالد

عمران خان ، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ایک ایسا لیڈر ہے جس کی باتوں اور وعدوں پر سب نے یقین کیا ، اب اپنے بیگانے سب ہی اصرار کر رہے ہیں کہ جو کہا ہے کر کے دکھائو۔ سو دن ہوئے تو اپوزیشن نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوا، کہاں ہے وہ تبدیلی جس کے دعوے کئے جا رہے تھے۔ چند ماہ گزرے تو کچھ ایسے لوگ بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے جو عمران خان کو شاید اتنا پسند نہیں کرتے تھے لیکن نواز شریف اور زرداری کی سیاست کے قائل نہیں تھے ۔ کچھ عرصہ اور گزرا تو عمران خان اور اسکی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ مہنگائی، ڈالر کی قیمت، سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی، اور پھر2019-20 کا بجٹ پیش ہواتو ہر دوسرا آدمی حکومت کی کارکردگی سے مایوس نظر آنے لگا اور یہ کیفیت ابھی تک طاری ہے۔


اپوزیشن کا تو کام ہے کہ وہ حکومت کو ہاتھوں ہاتھ لے، اگر وہ حکومت کی تعریف شروع کر دے تواپوزیشن کس کام کی ، انکی سیاست تونیست و نابود ہو جائے گی۔ میرے لئے تشویش کی ان لوگوں اور خصوصاً دانشور دوستوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی ہے جو پچھلے دس سال میں ہونے والے بلکہ اس سے بھی پہلے چار دہائیوں سے ہونے والے ملک سے کھلواڑ سے پوری طرح آشنا ہیں اور اس بارے میں ہمیشہ ببانگ دہل لکھتے بھی رہے ہیں اور دامے، درمے ،سخنے اس تحریک کا جانے انجانے میں حصہ بھی رہے جو بالآخر ان جونکوں سے نجات کا باعث بنی۔انکی مایوسی کی بہت جائز وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، مجھے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تقرری اب تک سمجھ نہیں آئی نہ ہی انکی کارکردگی کے حوالے سے کوئی اچھی خبر سننے کو ملی ہے۔پنجاب پولیس نے رہی سہی کسر نکال دی ہے کہ وزیر اعظم کو خود میدان میں کود کر بتانا پڑ رہا ہے کہ چونیاں کے واقعے پر کیا اقدامات لئے جا رہے ہیں جو کہ پنجاب حکومت کا کوئی بھی اہلکار میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا سکتا تھا۔ با خبر لوگوں کو اس بات کو ضرور مدّ نظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہاں جس قسم کا سیاسی کلچر موجود رہا ہے اس میں حکومت بننے کے بعد کچھ توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں۔خاص طور پر عمران خان سے اس لئے توقعات زیادہ تھیں اور ہیں کہ نہ صرف اسے نجات دہندہ سمجھا جا رہا ہے بلکہ ایک ایسے شخص کا تاثر انکے بارے میں درست طور پر موجود رہا ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اپنی اس خوبی کو انہوں نے اپنے سیاسی سفر میں خوب بیچا ہے ۔ ابھی تک بہت فخر کے ساتھ اپنی ورلڈ کپ کی کامیابی سے لیکر، شوکت خانم ہسپتالوں کی تعمیر، نمل یونیورسٹی اور پھر وزیر اعظم بننے تک کی کامیابیوں کے بارے میں حوصلہ شکنی کرنے والوں کی وہ اپنی تقریروں میں مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دیکھو میں نے کر کے دکھا دیا۔میں اگرچہ کسی حد تک عمران خان کی کارکردگی پر اعتراضات سے متفق ہوں لیکن مایوس نہیں ہوں۔


میرا خیال ہے کہ مایوسی کی بنیادی وجہ غیر تسلی بخش کارکردگی سے زیادہ ہماری توقعات ہیں۔میرے دوستوں کو عمران خان کی ناکامی کی صورت میں ان لوگوں کی اقتدار میں واپسی کا خوف ہے جن سے خدا خدا کرکے جان چھڑائی تھی اور انکے ساتھ ان دانشوروں اور فصلی بٹیروں کی واپسی جو سیاسی، معاشی، اخلاقی اور صحافتی دیوالیہ پن پیدا کرنے میں شریک جرم تھے۔اپنے دوستوں کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ان لوگوں کی واپسی کی امید ایک دہائی تک کم از کم نہ رکھیں کیونکہ عمران خان اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں پاکستان کی معاشی ترقی کا ایجنڈا پایہء تکمیل تک پہنچنا ہے۔دوسری خوشخبری یہ ہے کہ عثمان بزدار بھی عمران خان کے ہوتے ہوئے ہی چلے جائیں گے اور شاید اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ آج سے دس ماہ پہلے میں نے اس نظام کے حوالے سے اور عمران کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے تحریر کیا تھا کہ عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو اصل صورت حال یہ تھی کہ چالیس پچاس سال سے حکومتی ایوانوں پر قابض اشرافیہ ،آکٹوپس کی طرح ایک دو ادارے کے علاوہ ہر قومی ادارے کو اپنے بندوں کے ذریعے اپنی جکڑ میں لئے ہوئے تھی ان اداروں کی کارکردگی کا ایک خاص انداز بن چکا ہے اور عرصہ درازتک ایک خاص طریقے سے کام کرتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیدیا جو نئے پاکستان کی تکمیل کے خیال کو فروغ دینا تو دور کی بات اس کی مکمل نفی کرتاہے۔ ایسی صورت حال میں جب آپ نیا پاکستان تشکیل دینے نکلے ہیں تو آپ کو اس سارے ڈھانچے کو مسمار کرنا ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد ایک کرپٹ اور بری گورننس کے آئیڈیا پر رکھی گئی تاکہ کوئی ادارہ حکمرانوں کی مرضی کے خلاف چل ہی نہ سکے اور جب اس ڈھانچے کو مسمار کرنے کا کام کوئی بھی حکومت شروع کرے گی تو ہر طرف آہ وبکا یقینی ہے کیونکہ مفادات پر زد پڑ رہی ہے خواہ وہ کسی بھی طبقے گروہ یا فرد کے ہیں اور نئے پاکستان کی تشکیل میں سب سے مشکل کام یہی ہے کہ اس ڈھانچے کو مسمار کیا جائے۔ عمران خان اس کو مسمار کرنے میں کتنا وقت لیتے ہیں یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اگر اہم ہے تو اس نظام سے چھٹکارا ہے جس نے ملک میں ظلم، چیرہ دستی اور طاقتور کی حکمرانی کے تصور کو مستحکم کیا ہے۔ اگر پانچ سال میں بھی اس نظام کو تباہ کر دیا جاتا ہے تو یہ اس قوم کے لئے عمران خان کا سب سے بڑا تحفہ ہو گا۔ نیا نظام تشکیل دینے میں پھر کوئی وقت درکار نہیں ہو گا۔ بحیثیت قوم ہمیں اس پرانے ڈھانچے کو گرانے میں بھر پور مدد کرنی چاہئے جو کہ اب آخری سانسیں لے رہا ہے۔ کسی کو ذرا سا بھی احساس ہو کہ ہمیں کس قسم کے حکمرانوں سے نجات ملی ہے۔ تو وہ اسکو کامیابی سمجھ کر اگلے پانچ سال کیا دس سال تبدیلی کا انتظار کر سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker