رؤف کلاسراکالملکھاری

صرف ایک فون کال پر۔۔رؤف کلاسرا

آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ آئی پی پیز کی انتہائی اہم رپورٹ‘ جس کے مطابق اپنوں اور غیروں نے دل کھول کر اس ملک اور عوام کو لوٹا تھا‘ اب سرکاری طور پر ریلیز نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر اور عمر ایوب صاحبان سے ایک بریفنگ لینے کے بعد کیا‘ جس میں بتایا گیا کہ ایک ”دوست ملک‘‘ اس رپورٹ کو ریلیز کرنے پر ناخوش ہے‘ کیونکہ اس کی چند کمپنیوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں‘ جنہوں نے لمبا ہاتھ مارا ہے۔ اس کی بھی الگ کہانی ہے کہ فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ لینے کا فیصلہ اور آئی پی پیز کی رپورٹ ریلیز نہ کرنے کا ایک دوسرے سے کیا تعلق ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے عمران خان صاحب اربوں روپے کی ادویات، گندم، چینی اور اب بجلی گھروں کے جس سکینڈل کی رپورٹ پڑھتے ہیں‘ اس میں وزیروں کے نام نکل آتے ہیں۔ یوں کچھ دن کی چاند ماری کے بعد رپورٹ دفن کر دی جاتی ہے۔ یہ لوگ عام بھی نہیں جنہیں نظرانداز کرکے اقتدار اور ساکھ کے نام پر قربان کر دیا جائے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو خان صاحب کو اقتدار تک لانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جب جہانگیر ترین نواز شریف دور میں شوگر پر اربوں کی سبسڈی لے کر پی ٹی آئی کے بڑوں کو ہر وقت جہاز پر اڑائے پھرتے تھے تو کبھی کسی کو خیال نہ آیا۔ اب جب ترین کو فکس کرنے کا وقت آیا تو فوراً کہا گیا کہ انہوں نے چھیالیس کروڑ روپے کی سبسڈی لی ہے۔ جب وہ نواز شریف دور میں اربوں لے رہے تھے تو وہ اچھے تھے‘ اب وہ چھیالیس کروڑ روپے لے کر کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو سرکاری وسائل بے تحاشا ہوتے ہیں‘ آپ کو پرائیویٹ پارٹی کے جہاز، بلٹ پروف گاڑی یا پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سب عوام کی جیب سے ہی نکل رہا ہوتا ہے۔
ہاں احتیاط کے طور پر عمران خان صاحب نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے علیم خان کو فوری طور پردوبارہ اِن کر لیا ہے اور ایک وزارت بھی دے دی ہے تاکہ کل کو اپوزیشن میں وہ ترین کا کردار ادا کر سکیں۔ یہی علیم خان کہتے تھے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی‘ پہلے کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا‘ پھر انہیں احتساب میں گرفتار کروا دیا تاکہ وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش کہیں موجود ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے۔ علیم خان کو ڈنڈا دکھا کر چھڑی پر راضی کر لیا گیا اور وہ اب اپنی پرانی تنخواہ پر کام کرنے کو تیار ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی علیم خان کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کروانے والوں کے نام آتے جاتے صحافیوں کو بتاتے ہیں۔ وہ نام سن کر بندہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے کہ پاکستان میں سیاست کے لیے کتنا نیچے آنا پڑتا ہے۔ علیم خان کو سلیوٹ ہے کہ وہ بھی کمپرومائز کر کے وزیر بن گئے۔
خیر بات کہیں اور نکل گئی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ جب یہ آئی پی پیز رپورٹ کابینہ میں پیش ہوئی تو عمران خان حیران رہ گئے۔ اس میں دو اہم مشیروں کے نام شامل تھے‘ جن کی کمپنیوں نے بھی اربوں کمائے تھے۔ اس سے پہلے کوئی کہتا تھا کہ عمران خان صاحب نے اجلاس میں ان دونوں مشیروں کے بارے میں تعریفی کلمات کہے تھے۔ وہ بولے کہ رزاق داؤد کو بیس برسوں سے جانتا ہوں‘ وہ بڑے اچھے بندے اور ایماندار ہیں۔ پھر وزیر اعظم نے تعریفوں کا رخ ندیم بابر کی طرف موڑ دیا‘ جن کی کمپنیوں کے نام بھی اس سکینڈل میں شامل ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ندیم بابر بہت اچھے بندے ہیں‘ اسی لیے وہ انہیں کابینہ میں لائے ہیں۔ کوئی کسر رہ گئی تھی تو خان صاحب نے فرمایا کہ ان دونوں کی اچھائی اور نیکی دیکھ لیں کہ جونہی کابینہ نے آئی پی پیز کی رپورٹ کو ایجنڈا پر گفتگو کے لیے رکھا‘ ساتھ ہی یہ دونوں جنٹلمین اٹھ کر اجلاس سے چلے گئے تاکہ ان کی عدم موجودگی میں اس پر بات ہو اور کوئی ان کی وجہ سے خاموش نہ رہے۔ اسد عمر نے بھی سنگت پر ساتھ دیا اور کہا کہ بالکل رزاق دائود اور ندیم بابر اتنے اچھے ہیں کہ جب وہ اس رپورٹ کو کابینہ کی کمیٹی برائے انرجی میں زیر بحث لائے تو یہ دونوں اس کمیٹی کے ممبر ہونے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
اب بتائیں جب وزیراعظم اپنے اہم مشیروں کا خود دفاع کررہے ہوں تو کس کی جرأت ہے کہ وہ اس رپورٹ پر کابینہ اجلاس میں کچھ کہہ سکے۔ جن وزیروں اور مشیروں کو اس رپورٹ کے بعد برطرف کردینا چاہیے تھا‘ ان کی کابینہ اجلاس میں باقاعدہ تعریفیں ہورہی ہیں اور اس پر بھی سب وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ کتنے اچھے لوگ ہیں‘ جن اجلاسوں میں رپورٹ زیربحث آئی تھی وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ مطلب یہ کہ اگر دونوں بیٹھے رہتے تو ہم ان کا کیا کر لیتے؟ قوم کو اس پر بھی رزاق دائود اور ندیم بابر کا احسان مند ہونا چاہیے۔
اب فیصلہ ہوا ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک نہیں کیا جائے گا۔ اسد عمر نے اس رپورٹ پر جو بڑے زوروشور سے ڈائیلاگ مارے تھے وہ کابینہ میں جاکر بھول گئے‘ جب وزیراعظم نے رزاق داؤد اور ندیم بابر کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ شاہ محمود قریشی کو بہرحال داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے ہمت سے کام لیا اور کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کی باتیں سر آنکھوں پر‘ لیکن چند گزارشات سن لیں۔ ان کاکہنا تھاکہ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ہماری ایک پارٹی ہے‘ جس کا ایک نعرہ ہے انصاف اور شفافیت کا‘ لوگ ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ اہم ایسے موقعوں پر ایکشن لیں گے۔ اگر ہم نے ان لوگوں کا دفاع شروع کر دیا تو ہماری پارٹی کو سیاسی نقصان ہوگا۔ ہمیں اپنے سیاسی خیالات اور سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا؛ تاہم وزیراعظم صاحب کی اپروچ بڑی واضح تھی۔ رہی سہی کسر یہ کہہ کر پوری کردی گئی کہ اس رپورٹ کے لیک ہونے سے ایک دوست ملک کو شکایت پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوست ملک‘ جس نے پاکستان میں انرجی میں کچھ پروجیکٹس لگا رکھے ہیں‘ کا کہنا ہے کہ اگر کچھ غلط بھی ہوتا رہا تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر سرکاری سطح پر بات کی جائے نہ کہ میڈیا یا عوام کو وہ رپورٹ ریلیز کر دی جائے اور اس دوست ملک کی بدنامی ہوکہ اس کی کمپنیاں کرپشن کرتی ہیں اور دوسرے ملکوں میں جاکر ان کے عوام کو لوٹتی ہیں۔
یوں یہ طے ہوا کہ اب اس رپورٹ کو ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ اس پر دل جلے کہیں گے کہ پھر کیا ہوااگر سرکاری طور پر رپورٹ ریلیز نہیں ہوگی‘ ویسے بھی میڈیا پر آچکی ہے۔ ایسے دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اگریہ رپورٹ سرکاری طور پر ریلیز نہیں ہوگی تو پھریہ رپورٹ مستند نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ہی عدالت، نیب یا ایف آئی اے اس پر کوئی انکوائری کرسکتی ہے‘ کیونکہ اس رپورٹ کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا‘ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
یہ پاکستانی بزنس مین سیانے ہیں‘ یہ جان بوجھ کر غیرملکی کمپنیوں کوکچھ فیصد شیئرز پر ساتھ ملا کر یہ کرتے ہیں اور جب پکڑے جاتے ہیں تو ان کمپنیوں کواشارہ کرتے ہیں کہ اب تم اپنے ملک کوکہو کہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور فوراً دباؤ ڈالا جاتا ہے اور رپورٹ فائل بند۔ یہ ہے وہ طریقۂ واردات‘ جو چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا۔ آپ اور ہم عبداللہ کی طرح بیگانے کی شادی میں دوتین دن ٹی وی شوز میں بھنگڑے ڈال کر خوش ہولیتے ہیں کہ دیکھا لٹیرے پکڑے گئے‘ جبکہ ان لٹیروں پر کابینہ اجلاس میں تعریفوں کی بارش ہورہی ہوتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے‘ شام کی محفلوں میں یہ لٹیرے ہم سب پر ہنستے تو ہوں گے کہ کیسے ایک ”دوست ملک‘‘ کی کال پر پوری کابینہ ڈھیر ہوگئی‘ جس کے وزیر ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا پردن رات بڑھکیں مارمار کر تھکتے نہیں۔ جنہیں پاکستان میں مخالفوں کے چھکے چھڑانے کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے، جب ملک اور قوم کیلئے کھڑے ہونے کا وقت آتا ہے تو خود صرف ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ ڈھیر ہوتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ جی ہاں صرف ایک فون کال پر۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker