کوئٹہ : کوئٹہ کی ایک عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت چھ رہنماؤں کے ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ان میں ماہ رنگ بلوچ کے علاوہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے چار رہنما بھی شامل ہیں۔ گذشتہ دس روزہ ریمانڈ پورا ہونے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے رہنما غفار بلوچ کو جمعے کے روز سخت سکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کے جج محمد علی مبین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ غفار بلوچ بیبو بلوچ کے والد بھی ہیں۔ ان پر دو تھانوں میں کل تین ایف آئی آرز درج ہیں۔ ان میں سے ایک ایف آئی آرسول لائنز پولیس سٹیشن اور دو بروری روڈ پولیس سٹیشن میں درج ہیں۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گرفتار افراد مزید تفتیش کے لیے مطلوب ہیں اس لیے ان کی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔ پولیس کی درخواست پر عدالت کے جج نے انہی دو تھانوں میں درج مقدمات میں ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت تمام افراد کی ریمانڈ میں مزید 15 یوم کی توسیع کی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ نے مزید پندرہ روزہ ریمانڈ کو بلا جواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت ایکٹ میں 14 یوم کی بجائے زیادہ ریمانڈ کی گنجائش ہے لیکن اس کے لیے پولیس جواز اور اس پر پیشرفت سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گذشتہ دس روز ریمانڈ میں پولیس کوئی پیشرفت نہ دکھا سکی تو مزید پندرہ یوم میں وہ کیا کرسکے گی کیونکہ ان کے مؤکلین کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت دیگر افراد کو تین ماہ سے زائد کے عرصے تک 3 ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا کہ حکومت اور پولیس مبینہ طور پر اسیران کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ بی وائی سی کے رہنمائوں کی ریمانڈ میں مزید توسیع کرائی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

