صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

صائمہ نورین بخاری کا کالم : خاک و خان کے کھیل میں جنت کی تلاش

نئے منصور ہیں صدیوں پرانے شیخ و قاضی ہیں
نہ فتوے کفر کے بدلے نہ عذر دار ہی بدلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی سوچا بھی ہے اے نظم کہنہ کے خداوندو
تمہارا حشر کیا ہوگا جو یہ عالم کبھی بدلا ۔۔۔۔۔۔
دسمبر کی سرد ہوا ہے۔۔۔ سرزمین پاکستان اس برس ہجوم گردی کے الم سہہ رہی ہےسیاسی تبدیلی سماجی طمانچہ ثابت ہوچکی ہے ۔
سوز غم میں ڈوبے ستارے جاگ رہے ہیں شاید حیرت سے زمین کو تک رہے ہیں ۔۔سوچ رہے ہیں۔۔انسانیت۔ انسانیت پکارتے اے زمین تجھ پر وحشت و بربریت پھیلتی گئی۔اور ادھر ایک سوال ذہن میں بار بار اٹھ رہا ہے سیال کوٹ کے چند شر پسند باسیوں میں کیا درندگی اوروحشت بھری ہوئی ہے یا بھر دی گئی ہے اس کا جائزہ ہنگامی ۔۔انتظامی ۔۔نفسیاتی سماجی اور سیاسی سطح پر لینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ سفاکی کی داستان میں سرفہرست شہر سیال کوٹ کیوں؟ وحشت کے اس کھیل میں اب کے باری اپنوں کی نہیں تھی اب ایک غیر نشانہ بنا۔سیالکوٹ موٹر وےاورمغیث ومنیب نامی دو حافظ نوجوانوں کو چور قرار دے کر ہجومی بربریت کی تاریخ بھی گرد و غبار میں چھپی سسک رہی تھی دن دیہاڑے ایک ایسے ملک کے صفائی پسند باشندے کا بہیمانہ گھیراؤ جلاؤ کیا گیا جو ہم سے زیادہ” صفائی نصف ایمان ہے“ پر یقین رکھنے کا قائل ہےجس کے ملک میں تعلیم کی شرح 99فی صد ہے جہاں سے دنیا بھر کے نابینا افراد کو آنکھوں کےعطیات آتے ہیں۔وہ سری لنکا تھا جہاں کے زندہ لوگوں کا عقیدہ ہےکہ مرنے کے بعد بھی انسان کی آنکھیں زندہ رہ سکتی ہیں اس لیے لاش کابھی خیال کیاجائے۔
یاد رہے کہ” کوہ آدم “والے سری لنکا میں اکیس لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں یہ تمام اس ملک کی دوسری بڑی اقلیت میں شامل ہیں سری لنکا کی پارلیمنٹ میں بائیس مسلمان ارکان اور چارمسلم وزیر موجود ہیں ۔وہاں گیارہ سو سال پرانی مسجد بھی موجود ہے ۔۔ساٹھ کے قریب شرعی عدالتیں موجود ہیں ۔۔مسلمانوں کی جانب سے زکوٰۃ خیرات و عطیات اور بیت المال کا نظام بھی موجود ہے ۔مسلمان بچیوں کے لیے الگ سرکاری مسلم سکول قائم ہیں ۔۔۔جن میں ایک عربی کالج برائے خواتین بھی شامل ہے ۔۔قوم کواس وقت کرکٹ اور سری لنکا کے اچھے سفارتی تعلقات بھی یاد آر ہے ہیں شدید غم میں اس وقت ہر صاحب دل اور انسانیت پر ایمان رکھنے والا مبتلا ہے ۔۔اس حوالے سے آپ بھی اس بات پر آنسو بہا ئیے اور جی بھر کر روئیے ۔اپنے سماج کی بے حسی اور سفاکی پر مگر ذرا سوچئیے کہ سری لنکا آئی ڈونیشن سوسائٹی۔۔ کولمبو آئی بینک کی خدمات ۔۔ان کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر ہڈسن سلوا کی گراں قدر خدمات پر پاکستانی حکومت نے بھی انہیں تمغہ امتیاز عطا کیا تھاوہاں اگر کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے تو آئی بینک کے رضا کار مردہ جسم سے آنکھیں یعنی قرنیہ حاصل کرکے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ کردیتے ہیں ۔۔قرنیہ کے عطیات میں سولہ ہزار سے ز یادہ آنکھیں بطور عطیہ پاکستان آئیں ۔ان سب کا ذکر میں کیوں نہ لکھوں کہ اس درد ناک منظر میں مجھے منٹو کے وہ جملے یاد آرہے ہیں جب وہ معاشرے کی سفاکی دیکھتے ہوئے لکھتے تھے ۔۔۔کہ ”میں اپنی آنکھیں بند کرلوں مگر میں اپنے ضمیر کا کیا کروں “تو میں کیوں نہ لکھوں کہ ایماں ہی اگر دشمن ایماں ہوجائے تو قوم ہجوم بن جاتی ہے ۔۔۔اور ہجوم کی نفسیات میں اس کا سارا یقین اندھے جذبات میں شامل ہوجاتا ہےاس کی گھٹن فرسٹریشن ۔بربریت سفاکی ۔بے حسی بے دردی اس کے شعور پر حاوی ہوجاتی ہے جب یہ چلتے پھرتے مردے موت موت کھیل رہے تھے تو کاش اس کھیل میں کوئی تو مرد مومن مردحق ہوتا جو انہیں روکتا کہ صفائی ستھرائی پر الجھنے والے کمار کو اتنا موقع تو دے دیتے اس کا عقیدہ بچ جاتا اس مرنے کے بعد اس کی آنکھیں زندہ ہوجاتیں کسی نابینا کی بینائی بن کرکوئی تو ہوتا آدم کا بیٹا جو باآواز بلند کہتا بھائی ہم کوڑا کرکٹ پر جینے والے لوگ ہیں اپنی مرضی سے دیواروں پر تھوک پھینکنےاور گند لکھنے والے ۔۔
ہم امن کے درخت نہیں نفرتوں کے کانٹے اگاتے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر ۔نالوں کچرا کنڈیوں پر گالیاں کھا کر بیچ کرزندہ رہنے والے ۔ہمارا مذہب یا انسانیت سے دور دور تک واسطہ نہیں ۔۔ہم بے ہنگم ہجوم ہیں بس ہجوم ۔۔اور منیجر اپنے وطن واپس لوٹ جاتا ۔جہاں مرنے والےکی آنکھوں کو روشن چراغ سمجھا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جہاں ایک چراغ بجھتا ہے وہاں دو روشن ہوتے ہیں اے زندہ جلنے والے پریانتھا دیا ودھنہ !!۔۔ہم شرمندہ بھی نہیں ہوتے کیوں کہ ہم سب جلی پھنکی دنیا کے فردوسی ہوگئے ہیں اب ہمیں خاک و خون کے کھیل میں بھی جنت نظر آنے لگی ہے ۔۔سرد ہواؤں میں کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوزخ سے نہ ڈرنے والا جاہل میلا کچیلا بھوکا سماج ایک سفاک ہجوم بن چکا اور کوہ آدم سے ایسی آوازیں آرہی ہیں جیسے پریانتھا کی چیخوں میں اس کےمنتظر پیاروں کی پکار بھی شامل ہے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ خون انسانیت کا نوحہ التجا کر رہا ہے
کاگا سب تن کھائیو ۔۔مورا ۔چن چن کھائیو ماس بس دو نیناں مت کھائیو ۔۔۔ا نہیں پیا ملن کی آس ۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker