افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

“شعورِ ذات”۔۔سائرہ راحیل خان

وہ لائبریری میں تنہا بیٹھی، ایک کتاب پر محض سر جھکائے ہوئے تھی۔ اس کی نگاہیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے کی بجائے کسی گہری سوچ میں ڈوب ابھر رہی ہے۔۔
اچانک سے ایک شخص اس کے سامنے والی کرسی پر آن بیٹھا۔ کسی اور کو اپنے سامنے پا کر اسے اپنی سوچوں کا تسلسل منقطع کرنا پڑا۔
“آپ کون”
اس نے ہڑبڑاہٹ میں سامنے رکھی کتاب بند کرتے ہوئے اس شخص سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم نے آج پھر اس شخص کو اپنے چہرے پر ایک زخم تراشنے کیوں دیا؟ ”
سامنے بیٹھے شخص نے اس کی بات کے جواب میں ایک سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہ نہ نہیں تو، مگر تم ہو کون، تمہیں بھلا کیا حق ہے مجھ سے یہ سوال کرنے کا؟”
اپنے گال پر پڑا نشان دوپٹے کے پلو سے ڈھانپتے ہوئے ، اس کی زبان لڑکھڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں سب جانتا ہوں تم بس میری بات کا جواب دو ۔ آخر کیوں تم نے پھر سے اسے اختیار دیا کے وہ تم پر ہاتھ اٹھائے؟”
سامنے بیٹھے شخص نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے، نہایت سنجیدگی سے ایک بار پھر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں پوچھ رہی ہوں کون ہو تم؟ آخر بتاتے کیوں نہیں”
اس کی الجھن مزید بڑھنے لگی۔۔۔۔
“میں بھی چاہتا ہوں کہ تم جلد جان جاو کہ “میں کون ہوں” مگر ابھی تم اس بات کے لیے تیار نہیں ہو۔ تاہم پہلے میری بات کا جواب دو”
اب کی بار اس شخص نے چہرے پر ہلکی مسکان اور گہرا اطمنان سجاتے ہوئے جواب دیا”
اس شخص کا یہ پر تجسس رویہ اسے نہایت خوفزدہ کر گیا، وہ فوراً وہاں سے اٹھی اور الٹے قدموں گھر کی طرف دوڑی۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے تک وہ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات حسبِ معمول اس کے شوہر نے ذرا سی بات پر اس کے گال پر زناٹے دار تھپڑ دے مارا۔ تھپڑ اسقدر شدید تھا کہ اسکے گال پر گہرا نشان چھوڑ گیا۔
وہ جب بھی ایسی کسی صورتِحال کے پیشِ نظر مایوسی کا شکار ہونے لگتی تو گھر کے قریب موجود ایک لائبریری میں جا بیٹھتی۔ کتاب بینی سے اسے کافی حد تک راحت محسوس ہوتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر آج غم کی شدت زیادہ تھی۔ اس تھپڑ نے نا صرف اس کے چہرے پر بلکہ اس کی روح پر بھی ضرب لگائی تھی۔ اسی لیے وہ چاہ کر بھی کتاب پڑھ نہیں پا رہی تھی۔ پھر اچانک سے ایک اجنبی شخص کی پرسرار انداز میں واہاں موجودگی اور سوالات نے اسے مزید خوفزدہ کر دیا اور وہ گھبرا کر واپس گھر لوٹ آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آخر کون تھا وہ۔ اسے کیسے جانتا تھا۔ کیسے خبر تھی اسے کہ اس کے چہرے پر تھپڑ پڑا ہے؟ کیا اس سے پہلے اس نے اس شخص کو کبھی دیکھا تھا؟ نہیں ! کبھی نہیں ، پھر کیوں وہ اجنبی ہوتے ہوئے بھی جانا پہچانا لگ رہا تھا؟ ؟؟؟؟ ”
اس نے ساری رات انہی سوچوں میں گزار دی۔۔۔۔۔ صبح گھر کے کام کاج سے فراغت پا کر وہ پھر سے اس کے بارے میں سوچنے لگی۔ اس نے اپنی یاداشت کے گھوڑے خوب دوڑائے مگر کوئی سراغ ہاتھ نا لگا۔۔۔۔۔۔۔ اس تجسس نے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم لائبریری کی طرف بڑھا دیے۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبریری میں آج بھی اس کے سوا کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔ وہ ارادی طور پر اسی اجنبی کا انتظار کرنے لگی۔ اس نے لائبریری کے چاروں طرف نگاہ دوڑائی مگر ابھی واہاں وہ شخص موجود نہیں تھا۔ بلآخر وہ ایک کتاب کے مطالعہ میں مگن ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔
“کیا آپ آج میری بات کا جواب دینا پسند کریں گی”
اس کی سماعتوں میں ایک دم سے گونجتا یہ سوال اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر سے اس کے رو برو تھا۔۔۔
اس نے ایک گہری سانس بھرتے ہوئے خود کو منظم کیا ا، واقفیت نا ہونے کے باوجود بھی اس کے اندر کہیں نا کہیں اس اجنبی سے بات کرنے کی کسک تھی تاہم اس نے اس سے گفتگو شروع کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اس بات پر میرا کب اختیار کہ میں اسے خود پر ہاتھ اٹھانے دوں یا روک لوں؟ بلکہ ایسے بہت سے اور بھی معاملات ہیں جو خالصتاً میری ذات سے جڑے ہیں مگر میرا ان پر بھی کوئی اختیار نہیں”
اس نے رنجیدہ ہوتے ہوئے بلآخر آج اس اجنبی کی بات کا جواب دے ہی دیا۔ ۔۔۔۔۔۔
“تو پھر کس کا اختیار ہے؟”
سامنے بیٹھے شخص نے سوال کیا۔۔۔۔
“اس شخص کا جس کی میں ماتحت ہوں ، غلام ہوں یا پھر میری قسمت کا”
“غلط بلکل غلط! میں نہیں مانتا کے اللہ نے انسان کو اسقدر بےبس بنایا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا مکمل اختیار کسی دوسرے کے ہاتھوں سونپ کر خود بے بس ہو جائے۔ کوئی صاحبِ شعور نا کسی کا غلام بن سکتا ہے نا ماتحت۔ آپنی قسمت گری میں ہر شخص آزاد ہوتا ہے۔ ہاں بعض رشتوں میں جائز طور پر کسی کا فرمانبردار ہونا پڑتا ہے۔ جیسا کہ اولاد ماں باپ کی فرمانبردار اور بیوی اپنے شوہر کی تابیعدار ۔ غلامی ایک ایسا طوق ہے جس میں انسان اپنی کم فہمی کے باعث خود جکڑا جاتا ہے۔ کبھی کوئی انسان غلام نہیں ہوتا، غلام ایک سوچ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اپنی ناکامیوں اور ناسازگار حالات کا ذمہ دار دوسروں کو یا قسمت کو ٹھرانا، ایک کمزور ترین شخص کی علامت ہے۔ اور تم ایک نہایت کمزور انسان ہو۔ اگر خود کچھ کرنے کی ہمت نہیں رکھتیں تو دوسروں کو قصوروار ٹھرانا بھی چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔”
“مگر میں اپنے لیے کیا کر سکتی ہوں؟”
اس نے گہری نظروں سے سوال کیا
“واحد تم ہی تو ہو جو اپنے لیے سب کر سکتی ہو، مگر پہلے تم مجھے یہ بتاو کہ آخر تمہیں زندگی سے گِلا کیا ہے” ؟
“میں فقط اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے بھی زندگی سے وہ سب بنیادی حقوق اور خوشیاں ملیں جو مجھ جیسی تقریباً ہر دوسری لڑکی کا نصیب ہیں۔ شوہر کی نظروں میں محبت کے ساتھ ساتھ اپنے لیے عزت، گھر میں سکون، اپنے حقوق اور جائز خواشات کی تکمیل ، جی بھر کے سانس لینے کو کھلی فضا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر افسوس کے جو باقی سب کو باآسانی قسمت نے بخش دیا ہے، اس سے مجھے محروم کیوں رکھا گیا ہے؟ ” .
اس نے اپنی بات کے اختتام پر مایوسی سے سر جھکا لیا۔۔۔۔۔۔۔
“افسوس! بیحد افسوس، تم تو ایک نہایت ہی ناکام لڑکی ہو۔ جس میں اتنی بھی ہمت نہیں کے وہ اپنے جائز حقوق ہی منوا پائے زندگی سے، شعور سے تو انسان پوری دنیا فتح کر سکتا ہے۔ ایک تم ہو جو اپنی جائز خواہشات تک نہیں جیت سکیں، اور ایک بار پھر سے قسمت کو دوش دے رہی ہو۔ جو باقی سب کو ملا، تمہیں معلوم بھی ہے کے کیسے ملا؟ کیا تم نے کوئی کوشش کی یہ سب حاصل کرنے کی؟ یا تم چاہتی ہو کہ ایک اچھی قسمت کی صورت تمہیں سب کچھ تھالی میں سجا سجایا پیش کر دیا جائے؟ .”
“آخر باقی بہت سے لوگوں کو بھی تو اچھی قسمت سے بغیر کسی محنت کے بہت کچھ ملا ہے، پھر مجھے کیوں نہیں”
اس نے پھر شکوہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہارے پاس شعور ہے مگر تم اس سے لاعلم ہو۔ اب جو میں کہنے جا رہا ہوں وہ غور سے سنو!
” قدرت کا نظام ہے، “عالم اور باخبر ” جاہل اور بےخبر” دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جب آپ کو شعور عطا کر دیا جاتا ہے تب آپ سے ایک چیز لے لی جاتی ہے اور وہ ہے “بنی بنائی قسمت” باشعور انسان کو اپنی قسمت خود بنانی پڑتی ہے۔ اسے سب کچھ اپنے عمال اور شعور سے کمانا پڑتا ہے۔ تاہم شعور سے عاری لوگ اپنی اچھی قسمت کے بل بوتے زندگی میں معمولی اچھل کود تو کر سکتے ہیں مگر ایک باشعور انسان کی طرح لمبی اڑان نہیں بھر سکتے۔۔۔۔
جہاں شعور اللہ کی بڑی نعمت ہے وہیں ایک بڑا امتحان بھی۔ باشعور انسان کو اسکا بھلا برا سمجھا کر اسکو اس کے افعال کا خود ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے۔ باشعور انسان کے لیے اچھے اعمال کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے اور برے اعمال کا نقصان بھی شدید۔ درحقیقت اس کو “اشرف المخلوقات” بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس شعور سے عاری لوگوں کی مثال جانور نما انسان کی سی ہوتی ہے۔ ان کا نا کچھ اچھا نا برا۔ بس جو رب نے عطا کر دیا سو کر دیا۔ ایسے لوگ دنیاوی معاملات میں تو بہتر ہو سکتے ہیں مگر بطور انسان “انسانیت”_میں ان کا کردار صفر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور صفر والا نا اس جہان میں پاس نا اگلے جہان میں کامیاب” ۔۔۔۔
“پریشان مت ہو بس میری باتوں پر غور کرو۔ آہستہ آہستہ خود سمجھ جاو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے اس کے چہرے پر بڑھتی حیرت اور آنکھوں میں ابھرتے سوال بھانپتے ہوئے تسلی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ سب جان جانے کے بعد کیا میری زندگی بھی بدل جائے گی؟”
اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بلکل بدل جائے گی۔ جب ان حالات سے وہ سب سیکھ جاو گی جو قدرت تمہیں سکھانا چاہتی ہے تب حالات بھی بدل دیے جائیں گے اور زندگی بھی”
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور اجازت چاہی۔۔۔۔۔۔۔
“مگر آپ نے اپنا تعارف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” .
اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسقدر باوقار، سلجھا ہوا اور باشعور شخص اس نے آج سے پہلے کؑھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر سوال ابھی باقی تھا کے وہ تھا کون؟
ان کی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ دیر تک چلتا رہا۔ وہ اسے اسی طرح زندگی اور خود آگہی سے متعلق روز کچھ نا کچھ نیا بتاتا اور جلا جاتا۔۔۔۔
آج وہ اپنے مقررہ وقت پر لائبریری جانے کے لیے گھر سے نکل رہی تھی کے جب اس کے شوہر نے عادتاً زرہ سی بات کا تماشہ بنا کر اسے مارنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس نے شوہر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مظبوطی سے لیتے ہوئے روک لیا۔۔۔ اور معنی خیز نگاہوں سے اسے گھورا۔ جیسے کے اسکا ہاتھ روکنا ایک وارننگ ہو۔ اس کی آنکھوں میں بلا کا اعتماد تھا جس نے اس کے شوہر کو خوفزدہ کر دیا۔۔۔۔۔۔ اور وہ نظریں جھکاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ بیحد خوش تھی۔ آج اس نے اپنے سب سے بڑے خوف پر قابو پا لیا تھا۔ اپنی قسمت میں لکھی ایک بڑی مشکل کو آساں کر دکھایا تھا۔ وہ اپنی اس فتح سے متعلق جلد از جلد اس بےنام دوست کو بتانا چاہتی تھی۔ اس نے تیزی سے اپنے قدم لائبریری کی طرف بڑھائے۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک واہاں بیٹھی اس کا انتظار کرتی رہی۔ مگر آج واہاں کوئی نا آیا۔۔۔۔۔۔ جہاں وہ آج بیحد مطمعین تھی وہیں دوسری طرف اس شخص کی عدم موجودگی سے اداسں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زندگی میں کافی مطمعین ہو چکی تھی اور اپنے شعور و آگہی سے بہت کچھ حاصل بھی کر چکی تھی۔ آج بھی وہ لائبریری جایا کرتی تھی مگر اب اسے وہاں کسی کا انتظار نہیں تھا ۔
جہاں شعور نے اس کی زندگی سنوار دی تھی وہیں دوسری طرف وہ اس شخص کی حقیقت سے متعارف ہو چکی تھی۔ اس نے اسے اپنے ہی اندر تلاش لیا تھا۔۔۔۔ وہ کوئی الگ شخص نہیں تھا بلکہ اسی کی ذات کا ایک حصہ تھا ۔ جس سے وہ بےخبر تھی ۔ اسقدر بےخبر کہ اس کی ذات کا وہ پہلو اپنی پہچان کروانے بذاتِ خود اس کے روبرو آ بیٹھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
آج وہ باخبر تھی! با شعور تھی! اور وہ اسکا “شعورِ ذات”

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker