ثمینہ اشرفکالمکتب نمالکھاری

کاش۔۔۔۔ کوئی تو ہوتا۔۔ثمینہ اشرف

فیصل آباد مثال پبلیشرز نے ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر کے لکھاری عامر محمود کی افسانچوں کی کتاب بہ عنوان ”کاش…. کوئی تو ہوتا“ پہلی کتاب شائع کی۔ یہ اعتبار صنف ناقدین کے ہاتھوں مسترد اور مستند قرار دی جانے والی صنف ”افسانچہ“ اختصار کی خوبی سے مزین موضوع کی چابکدستی لیے کافی مقبول ہے۔ تیزرفتاری کا شکار سماجی زندگی میں وقت کی کمی کا رونا روتے قاری افسانچے کے مطالعے سے سیراب ہوجاتا ہے۔ معاشرتی و تہذیبی تفسیرات پہ اصناف سخن میں انسانی مزاج کی آہٹوں سے اظہارِ ذات سرک کر کبھی آزاد ہوجاتا ہے تو کبھی پابند….!کبھی نظم میں ڈھل جاتا ہے تو کبھی نثر میں۔
عامر محمود کی کتاب بھی ایک ”آہٹ“ کی طرح ہے۔ جس میں سماجی روّیوں کے تازیانے ہیں تو کبھی کرب کی سسکتی خاموشی! لکھاری نے تصنع و بناوٹ کا سہارا نہیں لیا۔ اپنے فطری شفاف اوراک اور نیک خومیلان کو سادہ اسلوب میں سادہ طرز ادا میں بیان کردیا۔ ۔ اسلوب کو باوزن بنانے کیلئے تشبیہ و استعارہ اور مبالغے کے چڑھاوے سے گریزاں لکھاری احساس سے اظہار کے براہِ راست معصومانہ تعلق کیساتھ قاری کے دل یہ تاثیر ثبت کرتا ہے!
محترم عامر محمود کا تخلیقی تحرک اور مخاطب ”احساس فراموش“ انسان ہے جو ذاتی زندگی میں بے حسی اختیار کرکے اجتماعی وحدت پہ اثر خیزی پیدا کرتا ہے۔ لکھاری معاشرتی ریاکاری، جھوٹ، فریب، مکاری سے متنفر انسان ہے…. وفا شعاری کا دلداوہ اور روادار…. عمومی کیفات میں سچل جذبات کے سفرِ محبت میں نارسائی پر متنج ”محبت گزیدہ“ ہے۔ وفا شعاری کی معراج تو ملاحظ کیجئے!
….اے ستم گر سنو…. آج بھی لب سے دُعا نکلتی ہے
….کاش وہ لوگ تمہارے ستاھ مخلص ہو جائیں۔ جن کی خاطر تم نے مجھ جیسے مخلص کیساتھ ظلم کیا۔
کتاب میں موضوعاتی اکائی احساس بیاں کا تسلسل ہے۔ ایک زنجیر کی طرح الگ بھی اور مربوط بھی…. مسلسل محبت کی طرح ایک ناگزیر محبت کی طرح…. لکھاری نے تثلیثی رشتہ سوانگ، شب باراں، مورخ، کٹھ پتلی جیسے موضوعات میں تضادات کو پرویا ہے۔
چند مثالیں دیکھئے!
یہ ڈگریاں ۔ فیسوں کی رسیدیں ہیں
انسان ہونے سند نہیں
تم نے مجھے ایسی ہی اذیت میں اٹکا دیا ہے
کہ نہ موت آتی ہے نہ جان چھوٹتی ہے
نہ پو پھوٹتی ہے
فیصلہ! تمام تر ثبوتوں اور گواہوں کے ساتھ ساتھ تمہاری خود غرضی بے حسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تمہیں احساس فراموشی کا لقب دیا جائے گا۔ پھر تمہیں اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے گا۔ اس آرڈر کی ایک مصدقہ نقل مورخ کو بھیجی جائے گی۔ پھر تمہارے ضمیر کی عدالت غیر معینہ مدت کیلئے موخر ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ وقت کا فیصلہ آپہنچے گا۔
اُردو ادبیات کے ممتاز استاد محترم ڈاکٹر غلام شبیر اسد صاحب، عامر محمود صاحب کی کتاب بارے راقم طراز ہیں۔
”ایک بات طے شدہ ہے کہ یہ سرگذشت عذاب دید۔ لذت آشنائی اور اذیت تنہائی کا استعارہ ہے۔ خوش آئندہ بات یہ ہے کہ بعض مقامات تخلیقی امکانات کا اشارہ دیتے ہیں ”تخلیقی امکانات کے اشارے کی نوید کو میں اس یقین کیساتھ بڑھاوا دیتی ہوں کے لکھاری کی ”احساس فراموش“ شکوے کے بعد جواب شکوہ کی کاری ضرب کی صورت دوسری کتاب بھی منظرِ عام آئے گی۔ لسانی روّیوں سے جھانکتی تخلیقی کرنوں کیلئے نیک تمنائیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker