سلمیٰ اعوانکالملکھاری

سلمی ٰ اعوان کا کالم : ناگورنو کراباخ کی حسین شہزادی کیا کہتی ہے؟

چیختی دھاڑتی ناگورنو کراباخNagorno Karabakh پر حملے کی خبر نے جیسے مجھے آناً فاناً کچھ یاد دلایا تھا۔ ہوش اڑا دینے والا وہ حسین چہرہ جس نے مجھے مبہوت کر دیا تھا اور جو لمحہ یاداشتوں میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا تھا۔ نیر ایگوپین Nare Agopian ناگورنوکراباخ کی رہنے والی۔ رات کٹنی مشکل ہو گئی تھی۔
صبح کمپوزر سے کہا وہ ای میل ڈھونڈے۔ ڈیڑھ دو سال کی برقی خط وکتابت کے بعد بند ہونے کا سلسلہ کوئی بارہ سال تک پھیلا ہوا تھا۔
بات 2006 کی ہے اور دن یہی جولائی کے تھے اور ماسکو میں میرا آخری دن تھا۔ جب میرے ویزا ایجنٹ نے مجھے کہا کہ اس کا بڑا بھائی مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ مجھے شدید غصہ تھا اس پر۔ وہ ماسکو کے با اثر حلقوں میں خاصا مشہور تھا۔ کسی روسی جنرل کی بیوی سے شادی کررکھی تھی۔ میرے پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ اس کی زمینوں کے بنے سانجھے ہونے کے ساتھ تعلقات بھی اچھے تھے مگر جب میرے روس جانے بارے بات ہوئی تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ میرا پھوپھی زاد بھائی بہت رنجور اور صدمے کی سی حالت میں تھا۔ ہنستے ہوئے اس کی دلداری کی۔ ”پیارے ا پولوگ ایسے ہی ہوتے ہیں“ ۔ ہاں جب اپنے تئیں جانے کا قصد کیا تو معلوم ہوا کہ روسی ویزے سے لے کر پی آئی اے کی ٹکٹوں اورہوٹلوں کی بکنگ سب کی فوری اور آسان فراہمی کے ذرائع پر ان بھائیوں کا قبضہ ہے۔ کوئی کراچی اور کوئی ماسکو میں۔ تو اب جس کے کارن ہوئے بیمار اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینی پڑی کہ سفارت خانے کے چکر کاٹنے کا مجھ میں یارانہ تھا اور 2006 میں روسی سیاحتی ویزا لینا مشکل تھا۔
اور اب ماسکو میں میرے ایجنٹ نے مجھ سے اپنے بڑے بھائی بارے بات کی تھی اور میں ملنے اور نہ ملنے بارے سوچتی تھی۔ پھر سوچا دفع کرو۔ مل لو۔
ماسکو کے کمرشل ایریا میں فلک بوس عمارتوں کے اس جنگل میں شیشوں کی دیواروں والے کیبنوں کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے ٹھٹک گئی تھی۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی لڑکی جیسے قدرت کا کوئی شاہکار تھی جس نے مجھے پتھرا دیا تھا۔ آگے بڑھئیے کی آواز اور اشارے نے مجھے چونکایا۔
اس بڑے بزنس مین رشتہ دار کے معذرت نامے جو شاید گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف تھے۔ میں نے خاموشی سے سنے اور چائے کا کپ پینے اور خدا حافظ کہنے کے ساتھ ختم کردیے۔ ساتھ ہی اس کی ڈراپ کرنے کی درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ نہیں مجھے تو یہاں گھومنا ہے اور یہ کہ پندرہ دنوں میں میٹرو کے سفروں نے مجھے بہت ہوشیار کر دیا ہے۔ دراصل مجھے تو اس لڑکی سے ملنا تھا۔ اور وہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔ دروازہ کھول کر میں نے اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھا۔ ہکابکا سی آنکھوں میں حیرتوں کا جہاں لیے وہ مجھے دیکھتی تھی۔
بڑی دلیری اور جی داری سے مسکراتے ہوئے پہلی بات میں نے یہ یہی کہی اگر انگریزی سمجھ لیتی ہیں تو پھر سنیے یہ حسن جہاں سوز مجھے گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آیا ہے۔ روسی تو نہیں لگتی ہو۔ کوہ قاف کی پریاں بھی دیکھ بیٹھی ہوں۔ مجھے تو تمہارے لیے کوئی تشبیہ اپنی زبان میں سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے تو انگریزی میں کیا کہوں گی۔
شکر تھا کہ وہ انگریزی سمجھنے اور بولنے میں ٹھیک تھی۔ ہنسی تھی۔ ”میں ہوں نیر ایگوپین ناگورنو کراباخ کی آرمینئین۔“
”ناگورنو کراباخ Nagorno Karabukh یہ کہا ں ہے؟“ پہلی مرتبہ یہ نام سنا تھا۔ ”آذربائی جان اور آرمینیا کے درمیان کا ایک چھوٹا سا پہاڑی علاقہ جہاں کی بیشتر آبادی آرمینیائی ہے۔ کچھ آذیری لوگ اور کچھ ترک مسلمان بھی اس کے شہری ہیں۔“
میری آنکھوں میں کچھ جاننے کی خواہش پر اس نے کہا۔
”دراصل یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ آذربائی جان اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ لوگ آزادی چاہتے ہیں اور آرمینیا سے الحاق کے حامی ہیں۔ آذربائی جان مسلم ملک ہے۔ پہلے تویہ سارا علاقہ سوویت کے پاس تھا۔ سوویت ٹوٹنے کے ساتھ یہاں بھی علیحدگی کی تحریک چلنے لگی۔ دو تین جنگیں بھی ہو گئی ہیں۔ مگر حق نہیں مل رہا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ کچھ معاملہ کشمیر کی صورت سے ملتا جلتا ہے۔
باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ نسطوری عیسائی ہے۔ یہ نسطوری کس مسلک سے ہیں۔ اسے بھی پوچھ لیا اور جاننے کا اضطراب بھی دکھا دیا کہ بہت سالوں سے اس کے بارے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ مسیحیت ایک تثلیث رکھنے والا مذہب ہے۔ نسطوری عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا نہیں ہے۔ اسے کسی دوسرے جوہر سے بنایا گیا ہے اور وہ مخلوق اور تغیر پذیر ہے۔ میرے اس سوال پر کہ روس میں اس عقیدے کے کتنے لوگ ہیں۔
”بہتیرے ہیں۔ دراصل زمانوں پہلے جب کیف kyir (موجودہ یوکرائن کا دارالحکومت) روس کا حصہ ہوتا تھا اور ولادی میر کی حکومت آئی تو شہزادہ اپنی زندگی اور ملک کو ایک واضح مذہب دینے کا خواہش مند ہوا۔ تب دنیا بھر کے مبلغین کو مناظرے کی دعوت دی گئی۔ انہی میں نسطوری پادری بھی آئے اور تب ہی یہ مذہب ان علاقوں میں پھیلا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ عیسائیت کی ابتدائی شاخوں میں اولین ہے۔“
یہ دلچسپ ملاقات تھی۔ وہ پاکستانی فرم کی ملازم تھی۔ کارڈوں کا تبادلہ۔ ڈیڑھ سال تک گاہے گاہے خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہاپھر بند ہو گیا۔ میں نے اسے لکھاناگورنو کراباخ کی حسین شہزادی جنگ کے ان دنوں میں تم مجھے یاد آئی ہو۔ مجھے لکھو کیسی ہو؟ اور تمہارے شہروں اور لوگوں کے حالات کیسے ہیں؟
ہر صبح میرا اپنے کمپوزر سے کوئی میل آئی ہے جیسا سوال اور نہیں جیسا اس کا جواب مجھے مایوس کرتا تھا۔ اور آج جمعرات کی صبح میں پڑھ رہی ہوں۔
یاد ہیں آپ مجھے۔ عورت اپنی تعریف کرنے والے کو کبھی نہیں بھولتی۔ آپ کی تحریر نے بہت سے بھولے بسرے دنوں کو یاد دلادیا ہے۔مدت ہوئی ہے مجھے ماسکو سے آئے ہوئے۔ میں نے شادی کرلی تھی۔ خیال نہیں تھا کہ میرا شوہر اینڈرانک Andranikاس درجہ قوم پرست نکلے گا۔ اور مجھے مجبور کرے گا کہ ہمیں واپس ناگورنو جانا ہے اپنے شہر اپنے لوگوں کے بیچ۔ سٹیپا نکرت Stepanakert میں سسرال اور میکہ دونوں ہی ہیں۔ جذباتیت میں بھول ہی گئی کہ وطن تو آگ کے شعلوں میں گھرا رہتا ہے۔ چھوٹا سا علاقہ جو فوجی دبدبے، نسلی تشدد، سول سوسائٹی کے اضطراب، مشکلات اور بغاوتوں کاشکار رہتا ہے۔ کبھی یہ آرمینیائی بادشاہت کا حصہ، کبھی رومنوں کا، کبھی پرشیہ کا، کبھی عثمانیوں، کبھی روسیوں اور اب آذریوں کا جو ایک مستقل جھگڑے کا باعث ہے۔ سویت طاقتور تھا تو چلو امن تھا۔ مگر 1991 میں تو اس کا اضطراب اسے جنگ میں گھسیٹ لے گیا۔ اب اس کے قوم پرست کہہ لو یا باغی آرمینیا کی پشت پناہی پر لڑتے بھڑتے رہے۔ 1994 میں معاہدہ بھی ہوا مگر امن پھر بھی نہیں تھا۔ آذربائی جان کی ہمارے اوپر مکمل کنٹرول کرنے کی خواہش اور آرمینیا کی ہماری نسلی تحفظ کی تمنا اور خواہش سب ہمیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم ان بڑی طاقتوں کی عیاریوں، مکاریوں اور مفادات کے درمیان پس رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی بولیاں سمجھ نہیں آ رہی ہیں۔ ناگورنوکاراباخ مکمل طور پر آرمینیا کے سہارے پر ہے۔ آرمینیا روس کا محتاج۔ روس کے مفادات دونوں کے ساتھ جڑے ہوئے۔ آذربائی جان کے ساتھ ترکی کھڑا ہے۔ ترکی تو کچھ زیادہ ہی جوشیلا ہو رہا ہے۔ اب پاکستان کا نام بھی سنا جا رہا ہے۔ کوئی عام آدمی کا نہیں سوچتا۔ گھر مسمار ہو رہے ہیں۔ لوگ مررہے ہیں اور کہیں تہہ خانوں میں بند ہیں جیسے میں میرے بچے اور شوہر۔ خطرے کے سائرن، برستی آگ کے شعلے جو خواب اور خواہشیں سب بھسم کر رہے ہیں۔ لوگ جان بچانے کے لیے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اپنے گھر اپنی دھرتی انہیں چھوڑنا کتنا مشکل ہے۔ کوئی ان بڑے لوگوں سے پوچھے کہ اگر یہ سب ان کے ساتھ ہو تو؟
کیا دنیا ایک اور جنگ عظیم کا سامنا کرنے جا رہی ہے۔ کیا انسانیت ایک بڑے پیمانے پر پھر قتل ہونے جا رہی ہے؟

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker