سعدیہ قریشی نے ”کیا لوگ تھے لکھی“ اور کیا خوب لکھی۔ افتخار عارف صاحب کے کتاب پر اظہار خیال کی پہلی سطر ہی پل جھپکتے میں مجھے اس دنیا میں لے گئی جب نسیمہ بنت سراج کے کالم پڑھے بغیر مجھے چین نہیں پڑتا تھا۔ اپنے وقت کی اِس اہم کالم نگار کو ہم لوگ کیسے بھولے بیٹھے ہیں؟ زبان و بیان کے حُسن میں ڈوبی ہوئی تحریر کی مالک اس خاتون بارے کبھی کہیں ایک لائن پڑھنے کو نہیں ملتی۔ سو پہلے تو ان کو اور بشری رحمن کو جی بھر کے یاد کیا پھر فاتحہ پڑھی۔
سعدیہ قریشی سے میرا بڑا پیارا سا تعلق ہے۔ میری بیٹی کی عمر کی یہ ذہین و فطین لڑکی جسے میں نے پہلی بار جنگ کے دفتر میں فاخرہ تحریم اور اعجاز بٹ کے ساتھ کام کرتے دیکھا۔ خوبصورت آنکھوں، دل کش خد و خال والی چند ہی ملاقاتوں میں میرے دل کے اندر تک اتر گئی۔
تخلیق کا جوہر سعدیہ قریشی اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوئی۔ خدا کے اِس دان پُن نے کم عمری میں ہی اُسے اِس قابل کر دیا کہ وہ اپنی ذات میں چھپے ممکنہ امکانات کو دریافت کرتے ہوئے اس کی وسعتوں کا ادراک کرے۔ فطرت ہم نوا تھی۔ لالے کی حنا بندی خود اسے مقصود تھی۔ انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم نے ذہنی بلوغت کو بلندی اور نکھار دیا تھا۔
پہلا میدان شاعری تھا۔ اس نے قلم پکڑا۔ خیالات کی جولانیاں جو کسی منہ بند چشمے کی طرح اندر ہی اندر اُبلتی تھیں منہ پھاڑ کر باہر نکلیں۔ نظم، غزل، آزاد نظم۔ صفحے پر صفحے بھر رہے تھے مگر مشاعروں میں شرکت اور رسائل میں چھپوانے سے کہیں گریز تھا۔ کہانیاں، افسانے سب لکھے جا رہے تھے۔ جنگ اخبار میں صحافت کے دیو جیسے لوگوں نے اس کی تحریر میں شعلوں کی لپک محسوس کی اور کالم لکھنے پر آمادہ کیا۔
جب کالم لکھنے شروع کیے تو پہلے چند کالموں نے ہی قارئین تو رہے ایک طرف بڑوں کو بھی چونکا دیا۔ ان کالموں کی انفرادیت میں مصنفہ کے سماجی و معاشرتی موضوعات کا چناؤ اور لمحہ موجود میں جنم لینے والے گمبھیر مسائل، روح کو زخمی کرتے دکھ اور واقعات شامل تھے، جنہیں لفظوں کی صورت دیتے ہوئے وہ اپنا خون جگر بھی اس میں شامل کرتی ہے۔
اظہار کے بے شمار انداز اس نے اپنا رکھے ہیں۔ یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کبھی انہیں افسانوی رنگ میں رنگتے ہوئے اپنے ملک، اپنی قوم کی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح کے بڑے ملکوں اور معاشروں کی کجیوں، منافقتوں، عیاریوں اور مکاریوں کے پول کھولتی ہے۔ کبھی بیانیے کے روپ میں پاکستانی، دنیا کی اہم عہد ساز اور تاریخ ساز اور کبھی نامور مسلم شخصیات کو گل ہائے عقیدت و محبت پیش کرتی ہے۔ کبھی مضمون نگاری کی صورت گری سے قاری کو اخلاقی اقدار اور قومی و انفرادی کردار کی اہمیت سے روشناس کرواتی ہے۔ کبھی وقائع نویسی سے باہر کے برپا ہونے والے درد اور اپنے اندر کے درد و کرب کے جذبوں اور احساس کی شدتوں میں سراٹے مارتی لہروں کو لفظوں کے پیرہن پہنا کر اپنے قاری کو بھی اپنے ساتھ رلاتی ہے۔ کہیں اپنے جذبات کی ترجمانی کے لیے شعر و شاعری کے موتی جابجا ٹانکتے ہوئے کالم کے حسن کو دوچند کرتی ہے۔ کالم نگاری میں اسلوب کی جدت، اور عالمی ادب کے حوالوں اور تڑکوں نے اُسے منفرد پہچان یوں دی کہ بڑے جید اور مستند کالم نگار بھی کبھی کبھی کہہ اٹھتے ہیں۔ وا اللہ اِس موضوع پر آپ پہلے لکھ کر بازی لے گئیں۔ میں تو ابھی قلم اٹھانے کا سوچ ہی رہا تھا۔
اب تھوڑی سی بات ”کیا لوگ تھے“ کے حوالے سے ہو جائے۔ اس میں جتنے کردار ہیں آزاد کوثری اور یاسین وٹو کو چھوڑ کر بقیہ بیشتر سے میری اپنی ذاتی ملاقاتیں، یادیں اور گہری محبتیں جڑی ہوئی ہیں۔ مینٹور کے عنوان سے آزاد کوثری کا تعارف جس قدر دلچسپ انداز میں تحریر کیا گیا ہے اس نے مجھے ایسی علمی و ادبی نابغہ شخصیت سے نہ ملنے کا پچھتاوا دیا کہ جنگ کے دفتر میں آنا جانا تو لگا ہی رہتا تھا۔ میرشکیل الرحمن کے بارے نئی معلومات بھی جاننے کو ملیں جن کا ہمیں گمان تک نہ تھا۔ ذرا اس پیراگراف کو پڑھئیے۔
کوثری صاحب جنگ میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن جنہیں ادارے میں ایم ایس آر کے نام سے بلایا جاتا ہے کے ایک طرح سے اتالیق تھے۔ دروغ بر گردن راوی مگر کہا یہی جاتا ہے کہ میر صاحب واجبی سے تعلیم یافتہ ہیں ذرا سی مشکل اردو بھی ان کے اوپر سے گزر جاتی ہے انگریزی سے دور کا واسطہ نہیں، سو کوثری صاحب جیسے اردو اور انگریزی پر دسترس رکھنے والے دانشور اخبار کے ارب پتی مالک کو بعض موضوعات پر باقاعدہ ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے۔ میر شکیل الرحمن کہیں اٹکتے تو کوثری صاحب کو بذریعہ ہوائی جہاز کراچی بلاتے، اپنے فائیو سٹار ہوٹل میں ساتھ ٹھہراتے۔ ایسے ہی ایک وی آئی پی دورے کے بعد کوثری صاحب واپس آئے تو ایم ایس آر کی باتیں بتانے لگے۔ میں نے میر صاحب سے کہا۔ ”کہ تین دن سے آپ کے ساتھ ہوں آپ کو راتوں کو بھی کام کرتے دیکھا ہے مگر اس اتنی تگ و دو کا کیا فائدہ؟ اگر آپ نے آ جا کے آدھی روٹی اور ابلی ہوئی پھیکی سبزیاں ہی کھانی ہیں۔“
میر شکیل الرحمن کے منہ پر ایسی کھری بات صرف کوثری صاحب جیسا درویش دانشور ہی کر سکتا تھا۔
منو بھائی جن کے گھر گاہے گاہے جانا اور دیر تک ان سے گپیں لگانا میرے بہت سارے سالوں کا ایک مستقل سلسلہ رہا۔ کچھ ایسی ہی محبت کا دستور مسعود اشعر کے ساتھ رہا۔ ایرج مبارک کے ہاں ماہانہ ادبی نشست میں بھی ان کی موجودگی لازمی ہوتی۔ کیا پیاری اور دل کش شخصیت تھی ان کی۔ نپی تلی رائے، گفتگو میں ٹھہراؤ، حسین چہرے پر متانت اور سنجیدگی۔ تہذیب و شائستگی کا پیکر۔ ان کے ادارے ’مشعل‘ میں جانا، نئی نئی اور نادر کتابوں کو دیکھنا اور خریدنا میرے انتہائی پسندیدہ مشغلے تھے۔ افغانستان سے متعلق غیر ملکی صحافیوں کی رپورٹس اور تحریریں جس محنت اور جذبے سے مسعود اشعر کے ’مشعل‘ نے چھاپیں اور بہت کم قیمت پر ان کی فروخت ان کا بہت بڑا اور شاندار کارنامہ ہے۔ وہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے ادیب اور بڑے مترجم بھی تھے۔ آصف فرخی کے ادارے ”شہرزاد“ نے ان سے فلسطین پر لکھے گئے ناول اور بہت سا افسانوی کام بھی ترجمہ کروایا تھا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی جیسے محبت کرنے والے بھی کم کم ہی ہوں گے۔ منیر نیازی اور عبداللہ حسین کیسی یادیں ہیں اُن کے ساتھ۔ احمد فراز اور ثمینہ راجہ، اسلم کولسری جیسے درویش کا کیا نوحہ لکھوں۔ ایک عرصہ تک اس صابر اور محبتی بندے کی زبوں حالی نے تڑپایا۔ ہماری پیاری بشری رحمن ہماری دوست اس کی زندگی کے آخری ماہ و سال، عروج کے بعد اس کی تنہائی اور اکلاپے کے دکھ۔ زندگی کی بہت سی کڑی اور چشم کشا حقیقتیں میں نے بشری رحمن کے اس آخری دور میں دیکھیں۔ کچھ سے سعدیہ کی طرح کتابی اور سکرین کے تعلق تھے جو رگوں میں دوڑتے خون کی طرح دل اور روح کو مسرور رکھتے تھے۔ اب انہیں پڑھتے ہوئے میں خود اُس نوسٹلجیا میں گرفتار رہی۔ میری آنکھیں بار بار گیلی ہوئیں۔ کئی بار میرے ہاتھ اٹھے اور میرے دل نے ان کے لیے دعائے خیر کی۔
سعدیہ بہت مبارک باد۔
(بشکریہ: ہم سب)
فیس بک کمینٹ

