اختصارئےثمانہ سیدلکھاری

پنگا نہ لینا بیٹا ، بہت اونچی ذات ہے میری ۔۔ ثمانہ سید

“نا نا نا بیٹا پنگا نہ لینا میرے سے، پتہ نہیں بہت اونچی ذات سے ہوں میں۔”مجھے یاد ہے حسن نے ایک دن بولا تھا۔وہ میرے ساتھ کلاس پنجم میں پڑھتا تھا۔چھوٹا سا،شریف سا مگر غصے کا تیز اور اپنی ذات پر بہت گھمنڈ کرنے والا۔
“تو ہم بھی کوئی ایسے ہی بھنگی،چرسی نہیں ہیں۔۔۔ہم بھی بڑی عزت والی ذات سے ہیں۔ اپنے گاؤں کے وڈیرے ہیں جی۔ہزاروں مرید ہیں ہمارے بھی۔”میں نے بھی اپنی انا بچانے کے لیے جواب پٹخ مارا تھا۔
“او جاؤ جاؤ۔۔آپ کی کیا ذات ہے۔ہماری ذات زیادہ اونچے مرتبے والی ہے۔اولیا سے ملتا شجرہ ہمارا” وہ بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔
“ہا ہا۔۔۔آیا بڑابابا کوئی۔۔۔ جاؤ سبق سناؤ میڈم کو، ورنہ ابھی شکایت لگاتی ہوں کہ ہمیں تنگ کر رہے؟”میں نے کلاس کی مانیٹر ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
مجھے زہر لگتا ہے جب کوئی اپنی ذات کی سبقت کسی دوسرے پر جتائے۔حالانکہ بچپن میں بھی جوابی کاروائی میں یہ کام کر چکی ہوں مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جو براہِ راست قرآنی آیات، انسانیت اور ہیومن رائیٹس سے ٹکراتا محسوس بھی ہوتا ہے۔ مگر افسوس یہ ایسا موضوع بھی ہے جو بچپن میں اسکول،کالج میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے، بڑے ہو کر دفتر،گلی محلے میں شو مارنےاور رشتہ داری کرتے ہوئے سب سے پہلے زیرِ بحث آتا ہے۔ہم بڑی بڑی محفلوں میں بیٹھ کرانسانی حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر یہ ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بنیادیں انہی چھوٹی چھوٹٰی چیزوں میں چھپی ہیں۔ صرف یہ ہی نہیں ذات پات میں برتری کے استعمال اور بھی بہت سے ہیں جیسے لڑائی کرتے ہوئے کسی کو طعنہ دینا ہو،کام نکلوانے کے لیے کسی کو مسکا لگانا ہو یا اس کی ذات برادری کا واسطہ دینا ہو، گائوں یا ان پڑھ لوگوں کے درمیان اپنی نسلی امتیازی ظاہر کر کے ان کواپنا “مرید” بنانا ہو،یا خود کو “خوش فہمی” میں مبتلا رکھنے میں بھی کام آتا ہے۔ مگر اس کی جڑ کہاں سے نکلی یہ بات آج تک بھی سمجھ نہ آ سکی اور نہ ہی یہ بات سمجھ میں آ سکی کہ سردار،سید،راجا،ملک،۔۔۔۔تمام ذاتوں کے مطلب تو دراصل ایک ہی ہیں پھر کسی ایک کو دوسرے پر برتری کیسے ہو گئی؟
بچپن میں معاشرتی علوم کی کتابوں میں تو یہی پڑھتے تھے کہ ذات پات کا نظام ہندئووں سے نکلا تھا۔ وہاں ایک ذات بڑی اور دوسری چھوٹی ہوا کرتی تھی۔شورد۔۔سب سے چھوٹی ذات تھی جس کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا تھا۔اور مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک رکھا جاتا تھا یا شاید اس سے بھی برا۔”پھرانہی باتوں کی بنیاد پر پاکستان الگ کیا گیا۔۔۔۔”
کبھی سمجھ نہ آ سکا کہ اگر یہ بات اتنی ہی بری تھی تو ذات پات کا نظام تو اب بھی اسی طرح سے قائم و دائم ہے۔ایک ذات والا دوسری ذات کو کچھ سمجھتا ہی نہیں۔تبدیلی محض یہ ہے کہ پہلے ہندو اس کی برتری جماتے تھے اب ہم بھی یہ کام کر لیتے۔
ہم ملک،ہم آرائیں،ہم سید،ہم سردار تو بن ہی گئے اب بتائیے کیا یہ محض ہماری شناخت ظاہر کرنے کی علامت نہیں ہونی چاہئے تھا۔اپنے خاندانوں میں ہی دیکھ لیجئے۔کوئی بہو بیٹی آپ کی اپنی ذات سے نہ ہو تو ہم میں سے اکثر اس سے سیدھے منہ بات کرنا نہیں پسند کرتے کہ وہ آپ کے “اپنے خاندان” سے نہیں ہوتی۔
نماز پڑھتے ہیں،روزے رکھتے ہیں،حج کرتے ہیں مگرافسوس ہم آخری خطبے کو سراسر بھول بیٹھے ہیں جس میں بڑے واضح الفاظ میں نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کسی کالے کو کسی گورے پر،اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔افضل وہ ہے جو پرہیزگاری میں بڑھ کر ہے۔۔۔کیا یہ سبق ہمیں صرف اسلامیات کا پرچہ پاس کرنے کے لیے یاد کروایا گیا تھا؟
نہیں،یہ سب ہمارے لئے تھے۔ہمیں نصیحت کی گئی تھی،ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بتائی گئی تھی۔ایک خوبصورت اور پرسکون معاشرے کی بنیاد جس میں کوئی کسی کو کسی سے افضل نہ سمجھے اور ہر انسان کو اس کے حقوق حاصل ہوں۔تو پھراپنے دل پر ہاتھ رکھ کرسچ بتائیے کیا آج بھی ہم اپنے مریدوں،گھر میں کام کرنے آنے والوں کو دیکھ کر نچلی ذات کو جان کر منہ نہیں بسورتے؟کیا آج بھی ہمارے معاشرے میں رشتے اپنی ذات ہی میں نہیں ڈھونڈے جاتے؟کیا آج بھی ہم اپنےبچوں نام کے ساتھ اپنی ذات لگانا پسند نہیں کرتے؟
خدارا! اس ذات پات کے نظام سے باہرآئیے۔ ہیومن رائیٹس جیسے بڑے بڑے موضوعات پر بحث کرنے کی بجائے،اس کی چھوٹی چھوٹی مگر طاقت ورجڑوں کا پکڑیں اور ان کا خاتمہ کر کے ایک مضبوط اور صحت مند معاشرے کی بنیاد قائم کریں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker