رضی الدین رضیکالملکھاری

یومِ مئی : غلامی ہزار نعمت ہے ۔۔ رضی الدین رضی

مزدوروں کی ایسی منڈیاں یوں تو ہر شہر میں لگتی ہو ں گی لیکن ملتان میں یہ منظر چوک بوہڑ گیٹ اور ایم ڈی اے چوک کے باہر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مزدوروں کی ایک بڑی تعداد روزانہ صبح سویرے وہاں جمع ہوتی ہے۔اُن میں سے کچھ کے ہاتھوں میں کدال ہوتے ہیں، کچھ نے پھاوڑے یا ہتھوڑیاں اُٹھائی ہوتی ہیں،کچھ رنگ روغن کا سامان اوربرش تھامے اپنے نادیدہ آقا کے منتظر ہوتے ہیں کہ وہ آئے اور انہیں ایک روز کے لئے اپنا غلام بنا لے۔ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی اوزار نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ غلامی کی آس میں ان چوراہوں پر موجود ہوتے ہیں۔انہوں نے برائے فروخت کا کوئی بورڈ تو آویزاں نہیں کیا ہوتا مگر ان کے مفلوک الحال چہرے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جناب ہم برائے فروخت ہیں ۔ اگرچہ اکیسویں صدی میں کسی کو غلام کہنا کچھ عجیب سا لگتا ہےلیکن ان کے لئے غلام سے بہتر کوئی لفظ ہم کوشش کے باوجود تلاش نہیں کر سکے۔
غلاموں کی اس منڈی میں غلام صبح سویرے کشاں کشاں چلے آتے ہیں اس امید پر کہ کوئی آئے گا اور انہیں ساتھ لے جائے گا۔ شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ وہاں آتے ہیں اور اُن غلاموں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔صبح صبح تواُن کا ریٹ اچھا ہوتا ہے۔غلام اپنے آقاﺅں کے ساتھ بھاﺅ تاﺅ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ،سورج سر پر آتا ہے ان غلاموں کا ریٹ گرنے لگتا ہے۔یہ سورج در حقیقت اُن کے لئے مایوسی کا پیغام لاتا ہے۔اُن کے چہروں پر مایوسی کے سائے گہرے ہوتے جاتے ہیں ۔ہر گزرنے والا پل اُن کی مایوسی میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اُن غلاموں پر رشک کرتے ہیں جنہیں طوقِ غلامی بر وقت میسر آ گیا،جنہیں اُن کے آقا اپنے ساتھ لے گئے۔کم ازکم اُن کے گھر چولہا تو جلے گا۔ اُن کے بچوں کو کھانا تو ملے گا۔ غلامی ان کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ۔
ایک اور منظر ہوٹلوں، ورکشاپوں، دکانوں، فیکٹریوں اور بے شمار نجی عقوبت خانوں میں دکھائی دیتاہے۔انسانیت کی تذلیل کے بے شمار مناظر یہاں دن رات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔شہدائے شکاگو نے مزدوروں کی آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے لئے جو قربانی 1886ء میں دی تھی ان عقوبت خانوں میں اس کا کوئی عکس بھی نہیں ملتا۔یہاں ڈیوٹی پر آنے کا وقت تو طے ہے مگر واپسی کب ہو گی اس بارے میں سوال کرنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں۔ یہاں بھرتی کا معیار کم عمری ہے۔ کم عمر اور تازہ دم بچے یا نوجوان یہاں ملازم رکھے جاتے ہیں۔ وہ یہاں دن رات کام کرتے ہیں اور یہیں دکان کے کسی کونے کھدرے یا باہر تھڑے پر چند گھنٹے اونگھ لیتے ہیں۔ تھکاوٹ اور نیند کیا ہوتی ہے یہ تصور ہی اُن کی زندگیوں سے حرفِ غلط کی طرح مٹ چکا ہے۔پرائیویٹ اداروں میں بھرتی کا ایک اور معیار غریب الوطنی ہے۔ ان اداروں میں ”پردیسیوں“ کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دی جاتی ہے۔ اس لئے نہیں کہ مالکان پردیسیوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ بیرونِ شہر سے آنے والے ملازمین زیادہ بہتر غلام ثابت ہوتے ہیں ےا دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ مالکان کو زیادہ ”وارے“ آتے ہیں۔ پردیسیوں کا پہلا فائدہ تو مالکان کو یہ ہوتا ہے کہ ان کا شہر میں چونکہ کوئی گھر بار نہیں ہوتا اس لئے انہیں گھر جانے کی خواہش بھی نہیں ہوتی۔ پرائے شہر میں ان کی کسی سے کوئی واقفیت تک نہیں ہوتی۔ ایسے میں یہ غلام زیادہ سے زیادہ وقت دفتر میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس طرح پردیس میں ان کا دل لگا رہتا ہے۔ آقا ان غلاموں پر ایک مہربانی یہ بھی کرتے ہیں کہ ملازمت دیتے وقت ان کی رہائش کا ”بندوبست“ کر دیتے ہیں۔ اس بندوبست میں ایک بندوبست مالکان نے یہ بھی کیا ہوتا ہے کہ رہائش کی سہولت کے عوض ان کی تنخواہ کم کر دی جاتی ہے۔ بے چارہ پردیسی پرائے شہر میں رہائش کی مفت سہولت ملنے پر مالک کا ممنونِ احسان رہتاہے لیکن اسے خبر نہیں ہوتی کے اس مفت سہولت کے ساتھ ہی اس نے چوبیس گھنٹے کی غلامی بھی ہنسی خوشی قبول کر لی ہے۔ پردیسی کو دفتر کے کسی کمرے میں ایک چارپائی ڈال دی جاتی ہے۔ وہ چوکیدار کے اضافی فرائض بھی انجام دیتا ہے اور اپنے ذمے لگائی گئی اصل ڈیوٹی تو اس نے کرنا ہی ہوتی ہے۔اب مالک جب چاہے اسے دفتر بلائے، جب چاہے اس سے گھر کا سودا سلف منگوائے اور جب تک چاہے اس سے معمول کی ڈیوٹی لے۔ ایسے دفاتر میں ہفتہ وار چھٹی کا بھی کوئی تصور نہیں ہوتا۔ بے چارے غلام اس استحقاق سے خود دستبردار ہو جاتے ہیں کہ آخر اُن بے چاروں کو مہینے دو مہینے بعد گھر جاتے وقت بھی تو چھٹی لینا ہوتی ہے۔ یقیناً ملک میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی قوانین موجود ہوں گے لیکن ان عقوبت خانوں پر شائد کسی لیبر لاء کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ایک اور منظر بھی ہے جو ہم برس ہا برس سے دیکھ رہے ہیں ۔یہ منظر غلاموں کی گھر واپسی کا ہے۔ اُن غلاموں کی واپسی کا جنہیں صبح منڈی میں آقا میسر آ جاتے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصہ سے کبھی کبھار شام کا کچھ وقت ایک ایسے دوست کے ساتھ گزارتے ہیں جس کا لکھنے پڑھنے سے تعلق ہے۔ وہ چونکہ ایک ایماندار کلرک ہے اس لئے اسے گزر بسر کے لئے شام کو کچھ وقت پرچون کی دکان بھی چلانا ہوتی ہے۔اس کی دکان غلاموں کی ایک بستی میں ہے۔ شام کو مغرب کے اوقات میں اس کی دکان پر غلاموں کی آمد شروع ہوتی ہے۔ دن بھر کی محنت مشقت کے بعد یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو ساتھ میں ایک یا دو کلو آٹا، ایک یا آدھ پاﺅ گھی، چائے کی پتی کی دو چار پُڑیاں، تھوڑی سی چینی اور دو چار انڈے بھی لے کر جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں روز کا راشن روز گھر لے جانا ہوتا ہے۔ ان کے گھر کا چولہا صرف غلامی کے نتیجے میں جلتا ہے ۔جس روز انہیں غلامی نصیب نہ ہو ان کے گھر فاقہ ہوتا ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں کس کی حکومت ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کا صدر یا وزیرِاعظم کون ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ ڈان لیکس یا پانامہ کیس کیا ہے۔ ان غلاموں کو طالبان یا داعش کابھی کوئی خوف نہیں۔ وہ تو برسوں سے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے چکر میں ہیں۔ اُن میں سے بہت سوں کو تو یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ یومِ مئی کس چڑیا کا نام ہے۔ ان کے لئے تو غلامی ہی سب سے بڑی نعمت ہے کہ جس روز انہیں غلامی نصیب نہ ہو ان کے گھر فاقہ ہوتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker