لاہور : لاہور کی خصوصی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے بنائے گئے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کردیا۔
خصوصی عدالت کے جج اعجاز اعوان نے سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بری کیا اور کہا کہ عدالت نے بریت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔لاہور کی خصوصی عدالت کی جانب سے صدر مسلم لیگ (ن) اور وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کارکنانِ نے جشن منانا شروع کردیا اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے۔
قازقستان کے دورے پر موجود وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘حق ذات نے پھر فضل فرمایا، منی لانڈرنگ کے جھوٹے، بے بنیاد، سیاسی انتقام پر مبنی مقدمے سے بریت کا یہ دن دکھایا، اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر اداکریں، کم ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘بدترین چیرہ دستیوں، ریاستی قوت کے استعمال اور اداروں کو یرغمال بنانے کے باوجود ہم عدالت، قانون اور عوام کے سامنے سرخرو ہوئے’۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی فتح ہے اور اس طرح کے جعلی مقدمات کی حقیقت کسی دن تو سامنے آنا تھی۔انہوں نے کہا کہ آج فتح کا دن ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے جعلی مقدمے کا اختتام ہوا’۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، کرپشن کی روک تھام ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا تھا، جبکہ سلیمان شہباز برطانیہ مفرور ہیں۔
قبل ازیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی اسپیشل کورٹ سینٹرل لاہور میں سماعت ہوئی جہاں وزیراعظم آج پیش نہیں ہوئے، ان کی قانونی ٹیم نے ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی۔
وزیر اعظم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وہ سرکاری مصروفیات کے باعث آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے لہٰذا عدالت وزیراعظم کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرے۔اسی طرح حمزہ شہباز بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کے وکلا نے ان کی آج کی حاضری سے معافی کی درخواست دائر کی، درخواست اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج اعجاز اعوان کے روبرو دائر کی گئی تھی۔
اس دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج اعجاز اعوان نے درخواست پر سماعت کی، وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے کہ عدالت میں تحریری دلائل بھی جمع کرا دیے ہیں، ایف آئی اے کے کسی بھی گواہ نے شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا نام نہیں لیا، تفتیشی افسر نے گواہان کے بیان توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر یہ کیس بنایا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہیں آئی، قانون کے مطابق پراسکیوشن کو اپنا کیس ثابت کرنا ہے، رشوت کے الزام میں پراسکیوشن کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، اپنے کیریئر میں ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں پراسکیوشن بغیر ثبوت کے چل رہا ہے۔
ایف آئی اے کے وکیل فاروق باجوہ نے کہا کہ ملزم مسرور انور شہباز شریف کے اکاؤنٹ آپریٹ کرتا رہا ہے، جس پر امجد پرویز نے کہا کہ یہ بات حقائق کے برعکس ہے، مسرور نے کبھی شہباز شریف کا اکاؤنٹ آپریٹ نہیں کیا۔
فاروق باجوہ نے کہا کہ جتنے بھی بے نامی اکاؤنٹس ہیں، انہیں رمضان شوگر مل کے ملازمین آپریٹ کرتے تھے، اس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس کیس میں جتنا بھی ریکارڈ ہے وہ گزشتہ دور حکومت میں مرتب کیا گیا۔
وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ گلزار احمد کی وفات کے بعد بھی اس کا اکاؤنٹ آپریٹ ہوتا رہا، مسرور انور نے شہباز شریف اور گلزار احمد کے اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشنز کیں، عدالت نے ایف آئی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت یا ریکارڈ ہے جس پر وکیل ایف آئی اے نے جواب دیا کہ ریکارڈ میں اس بات کا ثبوت نہیں ہے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسپیشل سینٹرل کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنایا گیا۔
گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے لاہور کی خصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے بینک اکاؤنٹس میں براہ براست رقم منتقل نہیں کی گئی۔
اس سے قبل 8 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے پراسکیوشن اور ملزمان کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
خیال رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں ہیں اور انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔
بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5 (2) اور 5 (3) (مجرمانہ بدانتظامی) کے تحت 14 دیگر افراد کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

