ادبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

کہتا ہوں سچ : میرا ۔۔اسلام آباد مضبوط ہے ۔۔ شاکر حسین شاکر

ایک زمانے میں جناب منو بھائی نے ملتان کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا جس کا ”ملتان مضبوط ہے اس کا اسلام آباد بھی مضبوط ہے“ یہ کہاوت اگرچہ بہت پرانی ہے تب اسلام آباد کی جگہ پر لوگ دلی کا ذکر کیا کرتے تھے کہ جس کا ملتان مضبوط ہے اس کا دلی مضبوط ہے۔ یہ بات منو بھائی نے کم و بیش 35برس قبل کہی تو تب ہمیں اُن کی یہ بات سمجھ نہ آئی۔ اس بات کو پہلی مرتبہ ہم نے تب سمجھا جب جنرل ضیاء کے زمانے میں ملتان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے سپیکر سید فخر امام کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئی۔ تب سے لے کر آج تک جب بھی ملتان سے تعلق رکھنے والے کے خلاف اسلام آباد میں کوئی سازش ہوتی ہے تو ہمیں پھر یہی کہاوت یاد آتی ہے۔ دور کیوں جائیں یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے تو سپریم کورٹ میں جو کچھ ان کے ساتھ ہوا تو وہ اسی کہاوت کی مثال بنا۔ یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم جنوبی پنجاب میں بےشمار ترقیاتی منصوبے مکمل کروانے کے باوجود اپنے ملتان پر گرفت کمزور کر چکے تھے جس کا ثبوت 2013ء کے انتخابی نتائج سے لگایا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی۔
قارئین کرام! آپ سوچ رہے ہوں گے مَیں ملتان میں بیٹھ کر اسلام آباد کی مضبوطی کی باتیں کیوں کر رہا ہوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں مجھے اسلام آباد سے نامور نقاد و افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی کچھ کتابیں موصول ہوئیں تو مجھے بے ساختہ اسلام آباد کے وہ دوست یاد آ گئے جو اپنی اپنی جگہ پر وہاں رہ کر ملتان آباد رکھتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے اسلام آباد سے مجھے سب سے پہلا بلاوا ڈاکٹر غضنفر مہدی کی طرف سے آیا تھا جن کو ضیاء دور میں پاکستان نیشنل سینٹر ملتان سے بطور سزا کے تبادلہ کر کے اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا۔ غضنفر مہدی نے اس سزا کو جزا بنایا اور بہت جلد اسلام آباد میں اپنا حلقہ بنانا شروع کر دیا۔ انہوں نے راولپنڈی کے ایک متمول شخص عنایت کبریا کے ساتھ مل کے ”دائرہ“ کے نام سے ادبی تنظیم بنائی اور پھر اس تنظیم کے ذریعے بے شمار تقریبات اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ غضنفر مہدی انہی تقریبات میں ہمیں ملتان سے بلوایا کرتے تھے اور کبھی کبھار سٹیج پر آنے کا موقع بھی دے دیتے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ غضنفر مہدی نے اسلام آباد کے کوفے میں بیٹھ کر جنوبی پنجاب کے اہلِ قلم کا مقدمہ لڑا اور آج تک اپنے وسیب کے لیے اسلام آباد والوں سے لڑائی کر رہے ہیں۔ انہی دنوں ایک نوجوان طارق شاہد سے بھی ہماری ملاقات ہوئی جو غضنفر مہدی کی اُن تقریبات میں آگے آگے ہوتا تھا۔ آج کل طارق شاہد اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے اور اب تیزی سے بڑھاپے کی طرف گامزن ہے۔ تیس سال قبل ہی اسلام آباد میں ہمارا رابطہ اُردو کے منفرد افسانہ نگار، مصور، دانشور اور صحافی مظہرالاسلام سے ہوا۔ اُس زمانے میں اُن کی پہلی افسانوں کی کتاب ”گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی“ شائع ہوئی تھی۔ یہ رابطہ آج بھی جاری ہے اور مجھے اب بھی اُن کی نئی تخلیقات کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔ اُن سے برسوں رابطہ نہ بھی ہو تو یہ کبھی نہیں ہوا کہ میرا ذہنی اور قلبی رابطہ ختم ہو گیا ہو۔ مظہرالاسلام کے ساتھ اگر مَیں خوبصورت شاعر طارق نعیم کا ذکر نہ کروں تو یہ کالم مکمل نہ ہو گا کہ سرائیکی وسیب سے تعلق کی وجہ سے وہ اسلام آباد کو اب تک قبول نہیں کر سکا۔ کچھ یہی کیفیت برادرم اصغر عابد کی ہے۔ جب بھی اس سے بات ہوتی ہے تو سرائیکی میں ہی کلام کرتا ہے۔ ڈاکٹر انور زاہدی کی جوانی ملتان میں گزری، ایک بیماری کی وجہ سے جب ان کا ایک گردہ ملتان کے نااہل ڈاکٹروں نے نکال دیا تو انہوں نے اسلام آباد کو جائے پناہ جانا۔ اپنے والدِ محترم ڈاکٹر مقصود زاہدی بہن ماہ طلعت زاہدی کو لے کر اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ مقصود زاہدی کا انتقال اسلام آباد میں ہوا اور ماہ طلعت کی شادی ملتان ہو گئی۔ اسلام آباد میں انور زاہدی کی موجودگی بھی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ وہ آج بھی ملتان سے اُتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی ملتان میں قیام کے دوران کیا کرتے تھے۔ صدر لغاری کو جب ایوانِ صدر میسر آیا تو قسور سعید مرزا اور مظہر عارف بھی ایوانِ صدر میں نوکری کرنے لگے۔ قسور سعید مرزا تو لاہوری ہو گئے لیکن مظہر عارف کو ابھی تک اسلام آباد راس آیا ہوا ہے۔
اگر مَیں برادرم سبطین رضا لودھی اور اس کی فیملی کا تذکرہ نہ کروں تو یہ کالم نامکمل ہی رہے گا کہ اس کا گھر اسلام آباد میں میرا دوسرا گھر ہے۔ دوسرا گھر تو میرا چھوٹے بھائی مہزاد سحر کا بھی ہے جو چند سال پہلے ہی دبئی سے آ کر وہاں رہائش پذیر ہوا۔ عامر اوپل، جاوید میاں، رضوان ہاشمی، بشیر احمد خان، کوثر ثمرین، یونس سہیل، جمیل اصغر بھٹی، خورشید ملک، حمیرا پتافی، راشدہ ماہین ملک، عزیر احمد، کنور محمد طارق اور رؤف کلاسرہ پر اگر لکھنے بیٹھوں تو سب کے ساتھ اتنی یادیں ہیں کہ الگ الگ کالم تحریر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مَیں نے سوچ رکھا ہے کہ جب بھی کبھی ملتان بیٹھ کر ان لوگوں کی یاد آتی ہے تو ان کو فیس بک کے ذریعے رابطہ کر لیتا ہوں۔ سرور منیر راؤ اور ارشد کیانی میرے اُن محسنوں میں سے ہیں جنہوں نے پاکستان ٹیلیویژن کے پروگراموں میں ابتدائی رونمائی کروائی۔ اسی طرح تیمور عظمت عثمان کی محبتیں مجھے ہمیشہ نہال رکھتی ہیں۔ اُن سے رابطہ ہو یا نہ ہو لیکن اُن کے فیس بک پر پرانے گیتوں کی پوسٹوں کو دیکھ کر اندازہ لگاتا ہوں کہ موسیقی کے حوالے سے وہ کتنے باذوق ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر راشد حمید اور جناب افتخار عارف کی موجودگی نے ہمیشہ اس شہر کی اپنائیت میں اضافہ ہی کیا ہے۔ بیرسٹر ظفراﷲ خان اگرچہ وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں لیکن کبھی کبھار اُن کا فون اس بات کی یاددہانی کرا دیتا ہے کہ وہ ملتان والوں کو بھولے نہیں۔ خواجہ ضیاءالحق اور خاور رحیم کچھ عرصہ قبل ہی اسلام آباد سے ملتان آئے کاش یہ اب بھی اسلام آباد ہوتے تو ان کا تذکرہ بھی اسلام آباد کے حوالے سے ہو جاتا۔ میرے بڑے بھائیوں کی طرح آصف خان کھیتران اسلام آباد کے ہمسایہ شہر ایبٹ آباد میں تعینات ہیں یوں مَیں ان کو اسلام آبادی ہی سمجھتا ہوں۔ اسی طرح برادرم محمد ضیا کھوکھر کا میرا کالم شائع ہونے پر فون نہ آئے تو مَیں پریشان ہو جاتا ہوں خدا کرے کہ وہ خیریت سے ہوں۔ وہ ہمیشہ بزرگوں کی طرح مجھ پر سایہ رکھتے ہیں اور ہر کالم کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کر کے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
بات شروع ہوئی منو بھائی سے جس میں انہوں نے کہا تھا جس کا ملتان مضبوط ہے اس کا اسلام آباد مضبوط ہے۔ اس کے بعد محمد حمید شاہد کی اُن کتابوں کا تذکرہ ہوا جو انہوں نے میرے لیے بھجوائیں۔ کتابوں سے یاد آیا اسلام آباد سے مجھے غلام نبی اعوان نے بھی تو اپنی خودنوشت ”کیا کیا ہمیں یاد آیا“ بھجوائی تھی۔ جس میں ملتان ہی کا تذکرہ تھا۔ چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر قاسم بگھیو نے بھی تو سال 2010ء کے نثر اور شاعری کا انتخاب بھجوایا یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان دوستوں دلوں میں بھی کہیں نہ کہیں پر ملتان دھڑکتا ہے باقی اس شہر میں ہمارے ایک کلاس فیلو محمد بخش ہاشمی کی بھی قبر ہے جو مقتدرہ قومی زبان میں نوکری کرتا تھا اور جوانی میں یہاں کی مٹی کا حصہ بن گیا۔ باقی اسلام آباد میں مقیم میرے تمام دوست سلامت رہیں کہ جن کی وجہ سے اسلام آباد مجھے اپنا اپنا لگتا ہے ان تمام دوستوں سے رابطہ ہو نہ ہو لیکن ان کے لیے احمد مشتاق کا یہ شعر ہر وقت میرے سامنے رہتا ہے۔
اِک عمر کی اور ضرورت ہے وہی شام و سحر کرنے کے لیے
وہ بات جو تم سے نہ کہہ سکے اُسے بارِ دگر کرنے کے لیے
یاد رہے یہ شعر مَیں نے برادرم محمد فیصل کے شاعری کے کیلنڈر 2017ءکے ایک صفحے میں سے لیا جنہوں نے نئے سال کا کیلنڈر بڑی محبت سے اسلام آباد سے روانہ کیا۔ اس محبتی شخص کی اپنے والد سے محبت کا اندازہ لگائیں کہ کیلنڈر میں شاعری کا انتخاب انہوں نے خود کیا لیکن ترتیب میں اپنے والد محترم چوہدری لیاقت علی کا نام دے دیا۔ اسے کہتے ہیں بیٹے کی باپ سے محبت۔ سو ایسی محبتوں کے سہارے ہم نے زندگی کے پچاس سے زیادہ برس جی لیے اور گزرے ہوئے یہ برس ہمیں اس لیے خوبصورت لگتے ہیں کہ میرے ملتان کے دوستوں نے مجھے ہر جگہ پر محبت اور پیار سے نوازا ہے۔ اسی پیار اور محبت کی وجہ سے میرا ملتان مضبوط ہے اسی وجہ سے میرا پورا پاکستان مضبوط ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker