سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

باتیں مظہر کلیم ایم اے کی(1) کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

26 مئی 2018ءکا تذکرہ ہے مَیں مظفرگڑھ میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے صبح سات بجے روانہ ہوا۔ گاڑی میں میرے ہمراہ معروف قاری عبدالغفار نقشبندی تھے۔ مَیں قاسم بیلہ سے گارڈن ٹاؤ ن (تونسہ سٹریٹ) ملتان سے گزرتا ہوا مظفرگڑھ کو جا رہا تھا کہ گارڈن ٹاؤ ن ملتان میں نامور ادیب و ناول نگار مظہر کلیم ایم اے کے گھر کے باہر گاڑیوں کا رش دیکھ کر رکا تو لوگوں کے ہجوم میں ایک شخص کو بلا کر پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ جواب ملا مظہر کلیم صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے سامنے مظہر کلیم ایم اے کا چہرہ آ گیا۔ جنہوں نے اپنی کہانیوں میں مختلف ناولوں میں بے شمار لوگوں کو مارا لیکن ان سب کو اپنی تحریروں کے ذریعے مارنے والا آج خود خاموش ہو چکا تھا۔ مظفرگڑھ میں منعقدہ تقریب کی نوعیت ایسی تھی کہ مَیں معذرت نہیں کر سکتا تھا۔ یہ افسوسناک خبر سنتے ہی مَیں ایک لمحے کے لیے ڈسٹرب ہو گیا اور پھر اپنے موبائل پر آئے پیغامات کو پڑھنے لگا تو میرے موبائل پر مظہر کلیم کے اپنے نمبر اور ان کے بیٹے کی طرف سے موت کا اطلاعی پیغام موجود تھا۔ لیکن اس میں جنازے کا وقت نہیں تھا۔ مَیں نے ان کے بیٹے سے جنازہ کا وقت دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ان کو نمازِ ظہر کے بعد سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ملتان سے مظفرگڑھ کا فیصلہ 35منٹ میں طے ہو گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ تقریب دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔ اسی اثناءمیں مَیں نے اپنے فیس بک پر جناب مظہر کلیم ایم اے کی موت کی خبر لگائی جو حقیقی معنوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کہ اس پوست کو رات تک تقریباً چھ سو سے زیادہ لوگوں نے میری وال سے شیئر کیا۔ اس کے بعد میری وال سے شیئر ہونے کے بعد ہر وال سے مزید اُسی پوسٹ کو شیئر کیا گیا تو یوں چند گھنٹوں میں یہ پوسٹ ہزاروں کی تعداد میں اس لیے شیئر ہو گئی کہ ان کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک ایسی خبر تھی جس کی وہ اُمید نہیں کر رہے تھے۔
مظہر کلیم ایم اے جاسوسی ادب لکھنے کے حوالے سے ایک ایسی شہرت رکھتے تھے کہ ابن صفی کے بعد انہوں نے اس کمی کو پورا کیا۔ عمران سیریز لکھنے سے پہلے مظہرکلیم ایم اے نے بچوں کے لیے ہزاروں کہانیاں اور ناول تحریر کیے۔ مَیں نے آغاز میں جو کہانیاں اور ناول پڑھے وہ زیادہ تر مظہر کلیم ایم اے کے لکھے ہوئے تھے یا پھر جبار توقیر کا ناول ”میرا نام منگو“ مَیں نے لائبریری سے کرایہ پر لیا اور اسے ایک دن میں پڑھ کر تمام کیا۔ اس شوق کو پروان چڑھانے میں مظہر کلیم کی لکھی ہوئی کتب کا بہت کردار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں میری رہائش ملتان کے تاریخی علاقے خونی برج میں تھی جس کو خونی برج اس لیے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے جب ملتان پر حملہ کیا تھا تو لڑائی کرتے اسی علاقے میں زخمی ہوا۔ چونکہ یہ پاک گیٹ اور دہلی گیٹ کے درمیان ایک برج پر زخمی ہوا اس لیے ”خونی برج“ کے نام سے معروف ہوا۔ مَیں خونی برج النگ سے پاک گیٹ النگ کا راستہ اپناتا ہوا اپنے سکول گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ ملتان جاتا تھا۔ پاک گیٹ النگ اور حرم گیٹ النگ کے درمیان کتابوں کی ایک دکان ”یوسف برادرز“ ہوا کرتی تھی جہاں مَیں بچوں کے لیے سینکڑوں کتابوں کے ڈھیر پڑے ہوتے تھے۔ کتابوں کی اس دکان کے سامنے سے گزرتا ہوا روزانہ میرا جی للچاتا کہ کاش یہ کتابیں مَیں پڑھ سکوں۔ لیکن اس زمانے میں جیب میں اتنے پیسے کہاں ہوتے تھے کہ مَیں بچوں کے لیے کتابیں خرید سکتا۔ یہ بات 1978ءکے زمانے کی ہے۔ جب گھر سے چار آنے ملا کرتے تھے۔ جس کے مَیں نے آدھی چھٹی میں سموسے کھانے ہوتے تھے۔ اگر کبھی سموسے والے منظور کی چھٹی ہوتی تو سکول کے باہر برف کے گولے یا مونگ پھلی کی خریداری میں وہ خطیر بجٹ خرچ ہو جاتا۔ یوں مَیں روزانہ یوسف برادرز کے سامنے سے گزرتا اور خالی ہاتھ گھر کو لوٹ جاتا۔ البتہ چوک حرم گیٹ پر عزیز بک سٹال پر رکھے اخبارات، رسائل و کتب کو جی بھر کے دیکھتا۔ حرم گیٹ سے جب پاک گیٹ آتا تو وہاں قادری بک سٹال پر کچھ دیر کے لیے کھڑا ہوتا۔ یوں اپنے پڑھنے کے شوق کو پیدل آتے جاتے پورا کرتا۔
ایک مرتبہ گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں اور ساتھ ہی عید بھی آ گئی۔ اس زمانے میں میری عید پر سب سے بڑی عیاشی کرایہ کا سائیکل لے کر چلانا ہوتا تھا۔ عید سے پہلے سائیکلوں والی دکان پر جا کر اس کو پابند کرتا کہ مَیں عید کی صبح آؤ ں گا سب سے اچھے والی سائیکل دو گھنٹوں کے لیے لوں گا۔ اس مرتبہ مَیں نے سائیکل کرایہ پر لینے کی بجائے یہ سوچا کہ جو بھی عیدی اکٹھی ہو گی اس کی یوسف برادرز سے بچوں کی کہانیاں خریدوں گا۔ عید آئی، عیدی جمع کی اور عید کے چوتھے دن مَیں یوسف برادرز کے شوروم پر موجود تھا۔ یہ بات 1979ءکی ہے۔ میرے سامنے کہانیوں کی کتابوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ عمران سیریز، ٹارزن، آنگلو بانگلو، چھن چھنگلو، چلوسک ملوسک، عمرو عیار اور دیگر کرداروں پر مشتمل کتابیوں میرے ہاتھوں میں تھیں۔ ان کتابوں کی پہلی خوبصورتی تو سرورق ہوا کرتے تھے۔ دوسری خوبی یہ تھی کہ اس ادارے کی تمام کتب اتنی سستی ہوتی تھیں کہ ہر بچہ آسانی سے خرید سکتا تھا۔ یہ کتب سستی اس لیے تھیں کہ یہ نیوز پرنٹ پر شائع کی جاتی تھیں۔ کتاب کے نام اور سرورق کی تصویر میں اتنی کشش ہوتی تھی کہ ہر پڑھنے والا بے ساختہ کتابیں خرید کے دَم لیتا تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ 1970ءسے لے کر 2000ءتک مظہر کلیم ایم اے نے لاکھوں لوگوں کو اپنی کتابوں کے ذریعے لفظ کی حرمت سے آشنا کیا۔ہر ماہ عمران سیریز کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے ہاتھ میں ناول ہوا کرتا تھا۔ جس زمانے کی مَیں بات کر رہا ہوں یہ وہ دور تھا کہ جب ہر گھر میں خواتین، مرد، بچے اور بچیاں اپنے فارغ اوقات میں کتاب کے ذریعے اپنا وقت گزارتے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں میں موبائل ہے اور صرف موبائل۔ نتیجہ یہ ہے کہ کتاب اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ہر نئی کتاب قاری کی تلاش میں ہے جبکہ ماضی میں قاری ہر نئی کتاب کے انتظار میں ہوتا تھا۔
جنوبی پنجاب میں اگر نامور لکھنے والوں کا تذکرہ کروں تو صرف مظہر کلیم ایم اے واحد لکھاری تھے جن کی کتابوں کو پوری دنیا میں پذیرائی ملی۔ دور کیوں جائیں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر خواجہ علقمہ پی ٹی وی ملتان کے عید شو میں مظہر کلیم ایم اے کے ساتھ مہمان تھے۔ پروگرام کے آغاز میں جب میزبان نے اپنے مہمانوں کے تعارف میں مظہر کلیم ایم اے کا نام لیا تو پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد علقمہ ایک دم حیران ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگے اور پھر انہوں نے پروگرام کے دوران یہ بتایا کہ وہ جب بنگلہ دیش میں قیام پذیر تھے تو وہاں پر بھی مظہر کلیم ایم اے کی کتب بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ یاد رہے خواجہ علقمہ خواجہ خیرالدین کے بیٹے ہیں۔ مَیں نے پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد ڈاکٹر خواجہ علقمہ سے پوچھا کہ آپ تو اُردو بھی انگریزی لہجہ میں بولتے ہیں تو مظہر کلیم ایم اے کی کتب کیسے پڑھتے تھے؟ کہنے لگے مَیں اُردو کم کم ہی پڑھتا ہو لیکن ان کی عمران سیریز کو سمجھنے کے لیے ان کے ناول کسی سے سنا کرتا تھا۔ یہ سن کر مظہر کلیم ایم اے مسکرائے اور بولے یہ ان کی محبت ہے کہ وہ مجھے پڑھتے ہیں۔
مظہر کلیم اپنے نام کے ساتھ ایم اے لکھا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہرگز نہ ہے کہ ان کے خاندان میں ایم اے کوئی نہ تھا بلکہ ان کا ایم اے جس دور کا تھا جب لوگ اپنے نام کے ساتھ بی۔اے لکھا کرتے تھے اور ایم اے بھی۔ ویسے مظہر کلیم ایم خان کا خانوادہ اتنا علمی تھا کہ ان کے قریبی عزیز اور سُسر اسد ملتانی نے 1921ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک انعامی مقابلے میں اپنی نظم ”شبنم کا قطرہ“ پیش کی۔ جس پر علامہ اقبال نے ازخود اصلاح دے کر انہیں اپنا شاگرد کر لیا۔ اس سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور کے ہر مشاعرہ میں کئی برسوں سے تصدق حسین خالد اوّل انعام حاصل کر رہے تھے۔ اس واقعہ کا ذکر شیخ عطاءاﷲ نے اپنی کتاب ”اقبال نامہ“ میں بھی کیا ہے۔
اسد ملتانی کی دو بیٹیاں تھیں بڑی بیٹی شائستہ خانم کی شادی مظہر کلیم سے ہوئی جن کا انتقال چند برس پہلے ہوا جبکہ اسد ملتانی کی چھوٹی بیٹی فرزانہ خانم کی شادی احمد پور شرقیہ میں ہوئی۔ ان کے شوہر محمد اشرف خان بہاولپور میں رہتے ہیں جبکہ ان کے بیٹے گل زیب حسن خاکوانی معروف ادیب، شاعر اور صحافی ہیں۔ وہ آج کل بیرونِ ملک ہوتے ہیں۔ یوں اسد ملتانی سے علم و ادب کا جو رشتہ مظہر کلیم نے آگے بڑھایا اس کے جانشین گل زیب حسن خاکوانی ٹھہرے۔(جاری ہے)
( بشکریہ روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker