قمر ساجدکالملکھاری

مذہب کے سا تھ نام تبدیل کرنا کتنا ضروری ہے ؟ ۔۔ قمر ساجد

ٹی وی چینل ” پیس “ پر مشہور سکالرمولانا ذا کر نائیک اور ان کے سامنے لاکھوں لوگوں کا مجمع جو کرسیوں پر اطمینان سے براجمان ہیں ۔ شیوا سنگھ نے ابھی ابھی مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے اور مجمع خوشی سے جھوم رہا ہے۔اسلام قبول کرکے شیوا سنگھ پوچھتے ہیں میرا نیا اسلامی نام کیا ہے؟ ( ‘نام’ جس کے پس منظر میں پوری تہذ یب کی کہانی، زبان کا انداز بیان، الفاظ اور الفاظ کے معانی ہونگے اور جب شیوا سنگھ پیدا ہوا ہوگا اس کے والدین اور اعزا واقربا کے ارمان ہونگے اور جذبات) ۔ شیوا سنگھ نے یک جنبش زباں سب کچھ مسترد کردیا تھا۔ ” عمر “ جواباً مولانا نے کہا اور ساتھ ہی بتایا کہ یہ مسلمانوں کے خلیفہ دوم کا نام تھا (کیا حضرت عمر کا نام قبول اسلا م سے پہلے کچھ اور تھا؟) میرے ذہن میں سوال ابھرتا ہے ۔کیا مذہب کی تبدیلی کے ساتھ نام کی تبدیلی لازمی ہے؟اگر ضروری ہے تو میرے بزرگوں کے نام مسلمان ہونے کے بعد تیسری چوتھی پشت تک ہند ی کیوں رہے؟ مثلاً سوندھے خان، سوہنے خاں، چاند خاں، کامن، مامن وغیرہ ۔
” دلی “ مشہور ناول ہے خوشونت سنگھ کا۔ موصوف لکھتے ہیں۔حضرت نظام الدین اولیا کے ہاں ہندو،مسلم، سکھ اور عیسائی سبھی حاضری بھرتے تھے اور حضرت کسی کو بھی مسلمان ہونے کی تلقین نہیں کرتے تھے۔ محفل سماع اور عبودیت کی باتیں ہوتی تھیں ۔ کچھ ان کا چہرہ اور کچھ باتیں سن کر اسلام کے دائر ے میں آجاتے۔ لیکن نام کی تبدیلی پھر بھی ضروری نہ تھی۔مجھے اس بات کا جواب مل گیا کہ میرے بزرگوں نے اپنے نام ” ہندی“ کیوں رہنے دیے۔ لیکن جن کے ہاتھوں یہ لوگ اسلام پرور ہوئےوہ مذہب کو انسان اور خدا کے باہمی تعلق کا ذ ریعہ سمجھتے تھے۔انسان کو ” انسان“ اور اللہ کو ” اللہ “ ماننا ہی مذہب تھا۔خدا کو احسن ذات اور اس کے فیض سے انسان کا احسن کاموں کے ذریعے انسانیت اور اس کے گردوپیش کو احسن بنانا ہی مذہب تھا۔
دوسری جانب وہ لوگ بھی تھے جو وعظ و تلقین اور طاقت سے مرعوب ہوکر بھی مسلمان ہوئے ۔طاقت اور وعظ و تلقین والے مذہب کو محض مذہب ہی نہیں تہذ یب و تمدن اور ثقافت کا مجموعہ مانتے ہیں لہٰذہ مذہب کی تبدیلی کا مطلب ہے پورے تہذیب و تمدن کی تبدیلی۔اسلام کا مطلب محض خدا کی ”واحدنیت“ پر ایمان ہی نہیں بلکہ عربی و عبرانی اور کسی حد تک فارسی ثقافت پر ایمان رکھنا بھی ہے (کم از کم عملی طور پر)۔نام کی تبدیلی بھی اسی مظہر کا حصہ ہے۔ اکثر اوقات مذہب غیراہم اور یہ ثقافتیں اور علامتیں ز یادہ اہم ہوجاتی ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے اگر ایک ہندو کو آ پ کہیں میرا نام شیوا سنگھ ہے تو وہ آپ کو گلے لگا لے گا اگر کہیں ” میں عمر ہوں“ تو شاید وہ آپ سے نفرت کرنے لگے یہ سوچے بغیر کہ ہو سکتا ہے آپ مذاہب پر یقیں ہی نہ رکھتے ہوں آپ اتھیسٹ ہوں سیکولر ہوں یا سکیپٹک۔ گویا ایک نام نے اس کے نزدیک آ پ کی ذات کا محاکمہ کرلیا۔ یہی بات اس کے متضاد ایک مسلمان کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ نام محض ایک علامت ہے اس کے علاوہ زبان، رہن سہن، لباس،تاریخ،(ماضی، حال،مستقبل)، خوراک اور میل ملاقات کا انداز بھی مذہب کا جزولازم سمجھا جاتاہے۔ان مسلمانوں کے نزدیک مذہب ، مذ ہب کے بنیادی عقائد ہی نہیں بلکہ اسرائیلیات اور عرب ثقافت کا مرقعہ ہے۔ایک ہندو کے نزدیک ہندو مذہب ہندوستانی ثقافت اور تمدن کا نام ہے۔
بت پرستی کیا ہے؟ ایک ہندو کہے گا بت خدا کا علامتی مظہر ہے۔ایک مسلمان کے نزدیک یہ غیر مذہبی ہے۔لیکن کیا صرف ” بت“ ہی کسی یقین کا علامتی مظہر ہے۔یہ نام، عمارات (مسجد، مندر، کعبہ ) ، مزارات ، انداز لباس،ہاتھ ملانا نہ ملانا،کفن دفن کے طریقہ ہائے کار،شادی خانہ آبادی،اور حتیٰ کہ عبادت کی رسومات کیا ہیں ؟ کیہ جاناں میں کون؟ سے آ گے کے سوالات ہیں۔ اسلا م کیا صرف خدا کو واحد اور احسن مان کر اس جہان میں حق، انصاف اور خوبصورتی کو فروغ دینے اور ہر قسم کے بتوں (نا انصاف۔نا حق۔ظالم سے انکار) کی تنکیر کا نام ہے یا ایک پورے ثقافتی سلسلے (جو زیادہ تر عربی ہے) کا مجموعہ؟ اگر ایسا ہے تو کیا اسلامی ثقافت بالائے آسمان کسی مقدس تمدن کا عکس ہے جس کی پیروی سے ہی ہماری نجات ہو گی؟ یا ثقافتیں اور علامتیں بھی دیگر تخلیقات، ایجادات اور مادی مظاہر کی طرح انسانی کاوش ، فکر اور جستجو کا حاصل ہیں؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker