اسلام آباد : عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
شیخ رشید کے وکیل ایڈووکیٹ سردار عبدالرازق خان نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کے دوران گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے سول کپڑوں میں ملبوس لوگ گرفتار کرکے لے گئے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے شیخ رشید کے بھتیجے شیخ شاکر اور ملازم عمران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیخ رشید کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ شیخ رشید کی گرفتاری کے ساتھ سیاسی انتقام اور فسطائیت کا سلسلہ جاری ہے، یہ پاکستان میں قانون کا مذاق اڑانے کی ایک اور مثال ہے، نگران حکومت کے باوجود فاشزم اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پی ٹی آئی چیئرمین کے اتحادی شیخ رشید احمد 9 مئی کے واقعات کے بعد سے عوامی منظر نامے سے غائب تھے۔ان کی گرفتاری ایک ایسے موقع پر عمل میں آئی ہے جب ملک بھر میں 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن جاری ہے ۔
رواں سال جون میں شیخ رشید نے الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے ان کے گھر میں گھس کر ان کے نوکروں کو مارا پیٹا اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایک دوسرے واقعے میں سادہ کپڑوں میں ملبوس فورس نے راولپنڈی میں ان کی لال حویلی کی رہائش گاہ پر ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
اس سے قبل رواں سال فروری میں بھی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا تھا جہاں ان کے خلاف اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120-بی، دفعہ 153 اے اور دفعہ 505 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
ان کی گرفتاری سے قبل پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے ان کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آب پارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

