ادبسرائیکی وسیبلکھاری

سرائیکی زبان کو زندگی دینے والے کے جیون کا احوال ۔۔ مہتاب حیدر تھہیم

یہ 1986 کے آخر کی بات ہے جب سول لائنز کالج ملتان میں بتایا گیا کہ اب ہمیں اردو لازمی منصور قریشی صاحب کی جگہ پروفیسر شوکت حسین مغل پڑھا یا کریں گے اگلے دن سر تشریف لائے اور تعارف کے بعد کلاس کے دوران میں ان کو دیکھ کر کسی خیال میں گم مسکراتا رہا سر نے اس بات کو نوٹ کیا اور کلاس کے بعد وجہ پو چھی تو میں نے ایک دن کی اجازت مانگی کہ میں کچھ لکھ کر بتانا چاہتا ہوں۔
اگلے دن میں یہ مندرجہ ذیل خاکہ لکھا سر کو اگلے دن کلاس فیلو دوستوں کو دکھایا اور سر سے فرمائش کی کہ کلاس میں پڑھ کر سنایا جائے سر نے کہا یہ چونکہ یہ صرف 14 سالہ طالب علم نے ہے میں سمجھتا ہوں کوئی حرج نہیں ورنہ کوئی اس کو کوئی اور معنی پہنا سکتا ہے
خاکہ
“جیسے ہی میں نے مغل سنا مجھ جیسے کم عمر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں مغل بادشاہ کی تصویر بننا شروع ہو گئی کہ کل جیسے ہی کلاس کا ٹائم ہوگا طبل بجا کر تو تیوں کی آواز میں سر کی آمد کا اعلان کیا جائیگا اور چار شاہی سپاہی بے نیام تلوار یں لیے ہمارے سروں پر کھڑے ہونے والے ہیں اور سر شائید شاہی لباس میں ملبوس تو نہ ہوں ہو سکتا ہے کہ وہ شاندار شیروانی پہنے ہوں، چہرے پر بادشاہانہ جلال آنکھیں شعلہ مارتی ہوں اور ایک بات بہت پریشان کر رہی تھی کہ ترکی اور فارسی زبان والے مغل اور اردو ۔۔۔مگر کلاس میں نہایت عمدہ طریقے سے سلے ہوئے ایک مہنگے کپڑے کے گرے لائننگ والے تھری پیس سوٹ میں ملبوس ، کافی نفیس فریم وال عینک، بہت ہی چمکدار آکسفورڈ کے کال جوتے جن کی چمک بتاتی تھی کہ ملتان کی مٹی پر پڑے ہی نہیں چہرے پر جاہ و جلال کی جگہ وقار، اور بہت ہی دلفریب مسکراہٹ ،آنکھوں میں شعلہ اور غیظ و غضب کی جگہ ایک شرارت، گلابی رنگت میں صرف مونچھیں مغلیہ ہیں رہی بات میری اردو فارسی کی غلط فہمی کی وہ تعارف میں ہی دور ہو گئی جب آپ نے خبر اور علم کا فرق بتایا”
اس دن کلاس کے بعد سر مجھ سٹاف روم لے گئے وہاں سر مبارک مجوکہ صاحب موجود تھے( میں اساتذہ کرام کو مرحوم نہیں لکھتا وہ اپنے اچھے شاگر دوں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں) جن سے پہلے ہی ملاقات و مڈبھیڑ لائبریری میں کتابوں پر ہو چکی تھی سر نے وہ خاکہ مجوکہ صاحب کو دکھا یا تو پہلے ہنسی روک نہ سکے اور پھر مجھے خوب سراہا، ان دونوں اساتذہ نے بعد میں میری علمی ترقی میں مدد کی، ہم مختلف کتابیں پڑھتے ان پر گفتگو کرتے ، اکثر میں اپنی علمی الجھنیں ان سے شئیر کرتا پھر شوکت صاحب اور عزت مآب سر ڈاکٹر امین نے مجھے علم الکلام سے آشناس کروایا۔
انہی دنوں سر شوکت مغل اپنے آبائی گھر اندرون دہلی گیٹ سے پیپلز کالونی گھر شفٹ ہونے کی تیاری کر رہے تھے میں نے نوٹ کیا کہ وہ بڑے ہی perfectionist تھے گھر کا ایک ایک پہلو مستقل کی ضروریات ، لکڑی کے کام میں شدید دلچسپی اور وہ سٹڈی روم جہاں سے سرائیکی زبان کے لئے وہ علمی کام اور تحقیق کی گئی جو نہ پہلے ہوئی تھی نہ شاید اب ہو سکے کیونکہ جس کمٹمنٹ کے ساتھ کام شوکت مغل نے کیا وہ ملنا مشکل ہے ۔
آپ کاکمال یہ ہے کہ آپ کئی چیزوں پر تحقیق ایک ساتھ کرتے ، ایک بار میں اور مجوکہ صاحب ان کے پاس گئے آپ کچھ کاغذ برابر کاٹ رہے تھے اور لکڑی کے سب چھوٹے ڈبے جو اسی مقصد کے لیے تیار کروائے گئے ان میں رکھ رہے تھے ہم نے وجہ پوچھیں تو بتایا کہ مختلف کتابوں کا مواد جو زیر تحقیق و تحریر وہ رکھا ہے آپ اس وقت سرائیکی اکھان پر کام کر رہے تھے میرے ذمے یہ لگایا کہ میں ان قدیم طرز سرائیکی بولنے والے افراد کو تلاش کروں جو اپنی روزمرہ گفتگو میں اکھان (کہاو تو ں و ضرب الامثال) کا استعمال کرتے ہیں آپ نشاندھی پر خود جاتے اور کافی وقت صرف کرکے یہ ذخیرہ تلاش کیا جو کئی جلدوں میں شائع ہوا ہے۔
جب “اردو میں سرائیکی انمٹ نقوش” شائع ہوئی اور کچھ مخالفت پر مبنی تعصب سامنے آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ سر کس محاذ کے سپاہی ہیں اور ان کا کام کتنا ضروری ہے مثلاً ایک محفل میں ایک متعصب شخص نے کہا کہ یہ کتاب پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان بھی سرائیکی تھی اس بات نے ماحول خاصہ خراب کیا مگر سر نے بہت ہی دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اور ناقابل تردید حوالوں سے اپنی ماں بولی کی تاریخ بتاکر انہیں لاجواب کردیا۔
ایک بار میں نے ایک سی ایس ایس کروانے والی اکیڈمی کے لوگوں کا پیغام دیا وہ ان کی خدمات چاہتے ہیں تو یہی کہا کہ میرے تحقیق و تحریر کے کام کا حرج ہوگا اور بھاری فیس کی آفر کے باوجود انکار کر دیا
آپ ایک شاندار شخصیت کے مالک ، ایک مکمل استاد جو اپنے ہنر کا ماہر ہو آپ طالب علم کو اس انداز سے بات سمجھاتے کہ ایک تصویر بن جاتی جسے مٹانا مشکل تھا کبھی علمی رعب طاری نہ کرتے، اردو کی تاریخ اور علم الکلام پر گرفت حاصل تھی میں نے اپنی بیٹی کا نام ابتہاج رکھا میں سر سے مطلب پوچھنے کے لئے فون کیا تو ایک لفظ کی پوری تاریخ بتائی اور اردو کی تاریخ جاننے کے لیے ریفرنس بک بھی بتا دی۔
جب انسان اپنے شہر سے دور ہو تو ایسے موقعوں پر اپنے دوستوں سے رابط کرتا ہے آج اس عظیم استاد اور محقق کے انتقال کی خبر ملی تو سول لائنز کالج ملتان کے کچھ سینئر اور کلاس فیلو ز
محمد افضل شیخ ، عبدالصبور ، عاصم علی ، مرزا ظفر علی ، مہر سجاد حسین ، جمشید نواز ،
سے ٹیلیفونک گفتگو کی تو سب نے ان کی دلفریب مسکراہٹ اور شخصیت اور Teaching Methodology کے ساتھ ان کے خوش لباس ہونے اور تھری پیس سوٹ اور نفاست کو ضرور یاد ، اور یہی نفاست و ترتیب ان کی شخصیت اور زندگی کا خاصہ تھی۔
آپ کے سرائیکی زبان کے لئے خدمات کے لئے کئے گئے کام پر کئی مضامین تحریر کرونگا۔آج اس عظیم کام کے خالق ہمیں اداس چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی کو ملنے چلے گئے ہیں میں ایسے عظیم انسانوں کی موت کو بس فزیکل ضرورت سے زیادہ نہیں سمجھتا وہ اپنے کام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہیں گے مگر جو زندگی سرائیکی زبان کو دے گئے ہیں وہ متقاضی ہے کہ ان کے اس ورثہ کے باعث اپنی زبان و ثقافت پر فخر کرنے ہوئے اپنی نئی نسل کو منتقل کیا جائے اور جو کام اپنی ماں بولی سے کمٹمنٹ اور اس عظیم ورثہ کے ترویج کے لئے بنا کوئی مارکیٹنگ اور بغیر مالی فائدے کے کر گئے وہ اپنی ایک کتاب “گرم دم جستجو ” Silent Tornado کا حقیقی مطلب بنتے ہیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker