حکومت کی طرف سے ایک بار پھر نرم لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد کورونا کی کرشمہ سازیاں مزید سامنے آ رہی ہیں کوروناسے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عدلیہ کی طرف سے بھی ایک بار پھر ہفتہ، اتوار کو کاروباری سرگرمیوں کی اجازت مل گئی ہے۔ایک طرف اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف لاک ڈاؤن میں سختی کی بجائے نرمی کرنے کا فیصلہ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اب شاید کورونا کی واپسی ہونے والی ہے۔ عالمی سطح پر بھی اقتصادی سرگرمیاں بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔ وزیراعظم کے بیان کے مطابق سال 20/20 کورونا کا سال ہی ثابت ہو گا اور لوگوں کو انہی حالات اور اسی نرم لاک ڈاؤن پالیسی کے ساتھ گزارا کرنا ہو گا۔
عوام تو خیر پہلے ہی بہت سی ناگوارچیزوں کے ساتھ گزارا کرنے پر مجبور ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں ہے بہرحال شادی ہالوں ، پارلر اور پبلک مقامات پر پابندیاں ابھی تک نہیں ہٹائی گئیں اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی کورونا کیلئے شجر ممنوعہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کا سارا بوجھ بیچارے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر ہی پڑنا ہے۔ حکومتی اور سماجی سطح پر عوام کو کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی مہم تو زور و شور سے جاری ہے لیکن مارکیٹوں، بازاروں اور دفاتر میں عوامی چہل پہل ان سارے حفاظتی حصاروں کو توڑتی نظر آ رہی ہے ۔ اب جبکہ کورونا کی حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا ہے عوام کو بھی چاہیے کہ اس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر پوری طرح عمل کرے تاکہ اس کے مضمرات سے بچا جا سکے۔ اراکین اسمبلی بھی اب تو اس وبائی مرض کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ ساتھ قانون ساز اداروں تک بھی اس کی رسائی ہو چکی ہے۔ بیرون ممالک سے پاکستانیوں کی ایک وافر تعداد وطن واپسی کی منتظر ہے اور حکومت نے ان کی جلدوطن واپسی کیلئے اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کورونا کی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہو گی۔ بہت سے اداروں سے پہلے ہی ملازمین کو نکالے جانے کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں اور اب اس وبا اور بلا کے نتیجے میں مزید افراد بے روزگاری کا شکار ہوں گے۔ حکومتی تھنک ٹینک اگر اس اہم قومی مسئلے کے بروقت حل کیلئے بھی کچھ سوچ بچار کریں تو کوئی بات بن سکتی ہے۔
کورونا کی کرشمہ سازیوں میں لفظ قرنطینہ بھی شامل ہے اس وبا سے پہلے یہ لفظ بھی کم کم ہی سنا اور پڑھا تھا بلکہ یار لوگ تو بس کترینہ اور کرینہ کی کرشمہ سازیوں سے ہی واقف تھے اب قرنطینہ نے بھی بہت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا دیا ہے اور معاملہ ایک انار سو بیمار والا نظر آتا ہے بلکہ ”ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانہ تیرا“ والی صورتحال بھی بنی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے اراکین اسمبلی اور عوامی نمائندے تو پہلے ہی اپنے گھروں میں قرنطینہ ہو گئے تھے اب روز بروز کورونا کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد قرنطینہ ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شنید ہے کہ ماسک نہ پہننے پر بھی اب معاملہ چالان اور جرمانے والا ہو گا جبکہ سماجی فاصلوں کی خلاف ورزی پر بھی جرمانے ہوں گے۔ ٹریفک کے جرمانوں کے ساتھ ساتھ اب عوام کو اس قسم کے مزید جرمانوں کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ عوام بھی ہیلمٹ پہننے اور سیٹ بیلٹ باندھنے کی بجائے چالان کرانے اور جرمانہ بھرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ سو اب اگر عوام کورونا معاملات میں بھی اپنے عادی مجرم ہونے کا ثبوت دیتی ہے تو پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ بہرحال اور بہت سوں کی طرح ہم بھی ” ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں کا فرض ادا کر دیتے ہیں۔“ کورونا تو ہمارے حکومتی اور عوامی مزاج ردعمل اور اقدامات کے سامنے پہلے ہی چکرایا ہویا ہے بہرحال اب تو حکومت اور پوری قوم دست بستہ کورونا سے اپنا بستہ بند کر کے واپسی کی درخواست بھی کر رہی ہے اور دعائیں بھی مانگ رہی ہے خدا کرے کہ اب یہ دعائیں رنگ لائیں اور کورونا اپنے مزید رنگ ڈھنگ دکھانا بند کرے کہ دنیا کو زندگی کے دھنک رنگوں سے لطف اندوز ہونے کاپھر سے موقع مل سکے کہ اب تو ہر طرف بے بسی ،خوف اور حیر ت کی فضا چھائی نظر آ رہی ہے۔
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
فیس بک کمینٹ

