زیورچ :سوئٹزر لینڈ میں کینٹن والے کے پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ سکی ریزورٹ کے بار میں آتشزدگی سے قریب 40 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں لاشوں کی شناخت ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ انھیں لواحقین کے حوالے کیا جا سکے۔
سوئٹزر لینڈ کے صدر گائے پرملن کا کہنا ہے کہ ایک سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی کا واقعہ ملکی تاریخ کے ’بدترین سانحوں میں سے ایک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کئی جانوں کا ضیاع ہوا ہے جبکہ قریب ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
سوئس صدر کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے کئی لوگوں کی زندگیاں ’ہمیشہ کے لیے رُک گئی ہیں‘ اور کئی لوگوں کو تاحیات نقصان جھیلنا پڑے گا۔ انھوں نے متاثرین اور خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
گائے پرملن نے مدد کی پیشکش پر فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی متاثرین کے خاندانوں سے رابطوں کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سکی ریزورٹ کے بار میں آگ کیسے لگی تھی۔
مقامی حکومت کے سربراہ میتھائس رینارڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ’کئی درجن افراد‘ ہلاک ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حکام اب بھی معلومات کے منتظر ہیں مگر ان کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کی شناخت میں وقت لگ سکتا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ تاحال آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں کسی حملے یا دھماکے کے نتیجے میں آگ نہیں لگی تھی۔
اب تک حکام کو یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ بار میں کتنے لوگ موجود تھے جب آتشزدگی ہوئی۔
اٹارنی جنرل بیٹرس پیلوڈ سے پریس کانفرنس کے دوران ان قیاس آرائیوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا کہ آیا آتشزدگی شیمپین کی بوتلوں پر آگ لگانے سے ہوئی۔ بعض عینی شاہدین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شیمپین کی بوتلوں پر سالگرہ کی موم بتیاں جلائی گئی تھیں جس سے چھت پر آگ لگنا شروع ہوئی۔
جبکہ بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ شراب خانے کی سیڑھیاں بہت تنگ تھی جس کی وجہ سے وہاں سے نکلنے میں مشکلات ہوئیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ تحقیقات جاری ہے لہذا وہ کسی افواہ کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں یہ علم نہیں کہ شراب خانے کے مالکان کا تعلق کس ملک سے تھا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ شراب خانے کی سیڑھیاں بظاہر تنگ ہیں لیکن تفتیش کار یہ جائزہ لیں گے کہ آیا یہ عمارت قواعد و ضوابط کے مطابق تھی۔
( بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

