نئے سال کا آغاز کامران حبیب کے انتقال کی خبر سے ہوا ۔۔ ایک بہت پیارا دوست رفیق کار جو اپنی قوتِ ارادی سے ایک طول عرصہ تک اپنی بیماری کا مقابلہ کرتا رہا ۔ ہم دونوں نوائے وقت میں کام کرتے تھے ۔ کامران تو وہ پتا نہیں تھا یا نہیں لیکن حبیب تو وہ سب کا تھا ۔۔ سب کے ساتھ احترام اور محبت کا رشتہ ۔۔ نوائے وقت کی پالیسی کے ساتھ میری کبھی بھی ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود میں نے وہاں مختلف وقفوں کے ساتھ کم بیش گیارہ برس گزارے تو اس کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ نوائے وقت میں تنخواہ قلیل سہی لیکن وقت پر مل جاتی تھی ۔۔ اور دوسری وجہ وہاں کے نیوز روم کا دوستانہ ماحول تھا ۔ بے لوث محبت کرنے والے مخلص رفقائے کار نے نوائے وقت کے مشکل دور کو آسان بنا دیا ۔ فہرست درج کرنے بیٹھوں تو بات لمبی ہو جائے گی لیکن ان بے لوث اور مخلص دوستوں میں سینیئرز بھی شامل تھے میرے ہم عمر بھی ۔ اور ہم عمر ساتھیوں میں اصغر زیدی ، اقبال ہراج اور کامران حبیب شامل تھے ۔ کامران بنیادی طور پر شریف آدمی تھا ۔ ہم نے اسے کبھی کسی کی غیبت کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ کبھی ساتھیوں کے خلاف سازشوں کا حصہ نہیں بنتا ۔ میری اس کی شناسائی تو 1980 کے زمانے سے تھی جب وہ سبطین رضا لودھی کے ساتھ مل کر ادبی ، سماجی اور ثقافتی تقریبات کراتا تھا ۔۔ جب نوائے وقت میں ملاقات ہوئی تو وہ ہمارے ساتھ شب نوردی بھی کرنے لگا ۔ قاتلانِ شب کی یہ محفل رات دو بجے کے بعد ریلوے سٹیشن پر لگتی تھی ۔ ہم اپنے سائیکل یا موٹر سائیکل کبھی پیدل اپنے ساتھ گھسیٹتے اور کبھی ان پر سوار ہو کر عبدالقادر یوسفی صاحب کی قیادت میں چائے پینے ریلوے سٹیشن پہنچ جاتے ۔ کامران بھی ہمارے ساتھ ہوتا تھا ۔۔
میرا اوریوسفی صاحب کا گھر تو سٹیشن کے قریب ہوتا تھا سو ہمیں گھر جانے کی جلدی نہیں ہوتی تھی لیکن کامران حبیب ایم ڈی چوک کی جانب سے آتے تھے ۔ سو انہیں گھر جانے کی جلدی بھی ہوتی تھی ۔ ہم دفتر سے روانگی کے وقت ڈاک ایڈیشن کی ایک ایک کاپی بھی ساتھ رکھ لیتے تھے ۔ ڈاک ایڈیشن دور دراز کے علاقوں کے لیے شائع کیا جانے والا اخبار ہوتا ہے جس میں بعد ازاں ردوبدل کر کے لوکل ایڈیشن شائع کیا جاتا تھا ۔۔
ایک روز ہم رات دو بجے کے بعد جب سٹیشن سے نکلے تو دیکھا باہر کامران حبیب موٹر سائیکل روک کر اطمینان سے کھڑا ہے اور دو پولیس والے کچھ دور کھڑے نوائے وقت کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔۔ کامران کم و بیش پندرہ بیس منٹ سے وہاں اس انتظار میں کھڑے تھے کہ ’’ پلسیئے ‘‘ انہیں اخبار واپس کریں تو وہ گھر جائیں۔۔ ہم سب کو پولیس والوں کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا کامران کے تحمل پر رشک آیا ۔ہم نے وہ اخبار واپس لے کرکامران کےحوالےکیا تو ہنس کربولا ۔
’’پڑھ لینے دیتے ۔۔بس تھوڑا سا ہی تو رہ گیا تھا ‘‘
اس ہنستے کھیلتے کامران کے ساتھ بعد کے دنوں میں کبھی کبھار ملاقات ہوتی تھی ۔۔ پھر ایک روز ملا تو کافی کمزور نظر آ رہا تھا ۔۔ معلوم ہوا کہ گردوں کا عارضہ ہو گیا ہے اور وہ ڈ ائلیزس کے تکلیف دہ عمل سے گزر رہا ہے ۔۔ پھر ایک روز صحت یابی کی خبر بھی آئی ۔۔ معلوم ہوا اس نے ہمت نہیں ہاری اور گردوں کی صفائی کے عمل سے نجات مل گئی ہے ۔۔
کامران نے بیماری کے ساتھ جنگ میں بھی کامرانی حاصل ہی ۔۔ لیکن موت ۔۔ موت سے کون جیتا ۔۔ آج موت نے کامران کو ہرا ۔۔
فیس بک کمینٹ

