تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:عمران خان کی بدکلامی اور بلاول بھٹو کی فراست

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر دو بیانات کا چرچا رہا۔ ایک سے ملکی سیاست میں امید کی کرن روشن ہوتی ہے تو دوسری سے اس تاریکی کا اندازہ ہوتا ہے جو بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کے سیاسی مقدر پر چھائی ہوئی ہے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے بطور وزیر اعظم دورہ ماسکو کا دفاع کیا ہے اور کہا کہ ان کا یہ فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مطابق تھا۔ دوسرا بیان سابق وزیر اعظم عمران خان کی زبان سے ملتان کے احتجاجی جلسہ میں سرزد ہؤا ہے۔ اس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے بارے میں سابق وزیر اعظم نے جوش خطابت میں کچھ ایسی گفتگو کی ہے جسے کسی مہذب تحریر کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔ نہ ان الفاظ کو دہرانا بنیادی انسانی اخلاقیات اور پاکستان کے سماجی شعور کے حوالے سے مناسب ہوگا۔ سب سے بڑھ کر عمران خان کے ادا کئے ہوئے یہ فقرے عورت و مرد کے درمیان مساوات کے بنیادی اور عالمی طور سے مسلمہ اصول کے تناظر میں قابل قبول نہیں ہوسکتے ۔ مخالف سیاسی لیڈروں پر ذاتی حملے پاکستانی سیاست کا جزو بن چکے ہیں ۔ اسی لئے تمام معقول آوازیں ملک کی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں سے درخواست کرتی رہی ہیں کہ انہیں سیاسی گرمی بیان میں اس حد تک نہیں جانا چاہئے کہ واپسی کا کوئی راستہ ہی باقی نہ بچے۔
اس وقت عمران خان کی سیاست کا بنیادی نکتہ اپنے سوا دیگر سب سیاسی پارٹیوں حتیٰ کہ خود اپنی ہی پارٹی میں اختلافی رائے رکھنے والوں کو گمراہ، بدعنوان کہتے ہوئے شر کی قوتیں قرار دینا ہے۔ وہ خود اپنےتئیں خیر و نیکی کے واحدنمائیندے بنے ہوئے ہیں۔ کسی بھی جمہوری سیاست میں یہ رویہ مکالمہ اور مفاہمت کا راستہ بند کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب تک کسی معاشرے میں ایک دوسرے کی بات سننے اور اس پر غور کرنے کا مزاج پیدا نہ ہو، اختلاف کے باوجود احترام کا رشتہ استوار کرنے کی روایت استوا رنہ کی جائے اور شدید نظریاتی، اصولی یا واقعاتی اختلاف کے باوجود مل بیٹھ کر ان اختلافات پر بات کرنے اور کوئی قابل قبول راستہ نکال لینے کا امکان مفقود کردیا جائے تو جمہوریت کا راستہ کشادہ نہیں ہوسکتا۔ جموریت اختلاف رائے، مکالمہ اور ایک دوسرے کے احترام سے عبارت ہے۔ پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں اس بنیاد کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے۔ اسی لئے عمران خان کی وزارت عظمی واپس لینے کے لئے مہم جوئی کے بارے میں متعدد سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اس بحث میں سازش، امریکہ کی عمران دشمنی ، سفارتی مراسلہ کی حساسیات پر اسی وقت بات ہوسکتی ہے جب عمران خان اور ان کے ساتھی مفاہمت سے معاملات طے کرنے کے اصول کو مانتے ہوں۔ وہ تو زور ذبردستی اور طوفان بدتمیزی برپا کردینے کی بات کرتے ہیں اور مخالفین کو نازیبا اور ناقابل قبول القابات سے پکارنا ہی اپنی سیاسی کامیابی کا طرہ امتیاز سمجھتے ہیں۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ وہ اسی طریقے سے اپنے حامیوں کا جوش و ولولہ قائم رکھتے ہوئے ملک کے ان اداروں کو دباؤ میں لاسکتے ہیں جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہی ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان کا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ نہ تو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان طاقت ور حلقوں کی حمایت کے بغیر منظور ہوسکتی تھی جنہیں عام طور سے اسٹبلشمنٹ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اور نہ ہی شاید کشیرالجماعتی اتحاد قائم ہوتا اور شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کیا جاسکتا۔ یہ ایک سنجیدہ سیاسی مشکل ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام سیاسی گروہوں کو مل بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے۔ لیکن عمران خان نے وزارت عظمی سے محروم ہوکر دوبارہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے جو حکمت عملی ترتیب دی ہے ، اس میں ہر سیاسی لیڈر اور ملک کے ہر ادارے کو نشانے پر لیا گیا ہے۔ ان کے سیاسی مؤقف کے مطابق چونکہ وہ خود دیانت دار اور راہ راست پر ہیں ، اس لئے ملکی فوج، عدلیہ اور ہر قسم کے سیاسی عناصر کو ان کی حمایت کرنی چاہئے ورنہ وہ گمراہ شمار ہوں گے۔
عمران خان کا یہ طرز عمل ایک طرف ملک میں آئینی انتظام کی بالادستی کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے تو دوسری طرف سیاسی مذاکرہ کو ’حق و باطل ‘ کا معرکہ بنا کر مواصلت، مفاہمت اور احترام کے بنیادی جمہوری اصول کو دفن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ موجودہ حکومتی لیڈروں کو چور لٹیرے پکارتے ہیں لیکن ان کے پاس ان میں سے کسی بھی شخص کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ کسی نافذالعمل عدالتی فیصلہ کے بغیر اگر کسی مہذب ملک میں کسی شخص کو ’چور‘ کہا جائے تو ہتک عزت کے قوانین کے تحت بھاری ہرجانہ ادا کرنا پڑے۔ لیکن پاکستان میں قانون کی نام نہاد حکمرانی کا نام لینے والے ہی بنیادی اصول قانون کے پرخچے اڑا رہے ہیں۔
اس معاملہ کے سیاسی پہلو کے علاوہ اس کا اخلاقی پہلو اس سے بھی زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ سیاسی اختلاف اور تقسیم کے نتیجے میں تو حکومت سازی یا اختیار و اقتدار کی تقسیم کا بحران پیدا ہوتا ہے لیکن کسی اہم لیڈر کی طرف سے بداخلاقی اور رکیک ذاتی حملے کرنے کے نتیجے میں قوم کی بنیادی اخلاقیات تباہ ہورہی ہیں۔ آج ملتان کے جلسہ میں مریم نواز کے بارے عمران خان کی نامناسب اور افسوسناک گفتگو پر ملک بھر کے تمام ہوشمند طبقے تو مذمت کررہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ ایک خاتون کے بارے میں اس بدکلامی پر عمران خان اور تحریک انصاف کو معذرت کرنا چاہئے۔ لیکن سابق وزیر اعظم کے حامی پورے زور شور سے اس بدکلامی کو جائز اور مناسب طریقہ کہنے اور منوانے پر اصرار کررہے ہیں۔ اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کسی پاپولسٹ لیڈر کی کج روی کیوں کر سماجی و معاشرتی رویوں پر اثرا انداز ہوتی ہے۔
اس کا ایک پہلو مغربی ممالک میں مقیم عمران خان کے حامی پاکستانی تارکین وطن میں بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ناروے جیسے جمہوری و مہذب معاشرہ میں پروان چڑھنے والے پاکستانی نوجوان جمہوری نظام کے محاسن سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ یہ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ جمہوریت میں حق حاصل کرنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ذمہ داریوں کو بھی سمجھا جائے اور ان سے عہدہ برآ ہؤا جائے۔ انہی ذمہ داریوں میں اختلاف رائے کے حق کو تسلیم کرنے کا اصول کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن عمران خان کے یہ پرجوش حامی پاکستانی سیاست اور عمران خان کی حمایت میں بات کرتے ہوئے ایسے تمام اصولوں کو فراموش کربیٹھتے ہیں۔ 9 اپریل کو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد نارویجئن ٹیلی ویژن کے خبرنامہ نے اس بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے اپنے ہی ایک شعبہ میں کام کرنے والے تجربہ کار اور کہنہ مشق پاکستانی نژاد صحافی عطا انصاری کو تبصرہ کے لئے مدعو کیا۔ کسی بھی متوازن اور غیر جانبدار صحافی کے طور پر اس گفتگو میں عطا انصاری نے بتایا کہ تحریک انصاف چار برس کے دوران اپنا کوئی اہم سیاسی وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے عدم اعتماد کا ماحول پیدا ہؤا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے نئی حکومت کے لئے متعدد جماعتوں کے اتحاد کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی حکومت کی کامیابی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے برسر اقتدار آنے والے لیڈروں پر کرپشن کے الزامات اور مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے لیڈروں کے بارے میں عوام میں شبہات پائے جاتے ہیں۔
یہ مختصر مگر متوازن رائے نشر ہونے کے بعد فیس بک پر ’سماجی امور پر متحرک پاکستانی‘ نامی گروپ میں تحریک انصاف کے حامیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کردیا۔ عطا انصاری کے بارے میں نہایت غیر موزوں ، غیر اخلاقی اور اشتعال انگیز تبصرے کئے گئے۔ ان میں سے بعض تبصروں میں انہیں مغرب کا تنخواہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’ایسے لوگ پیسے کے لئے اپنے اہل خاندان کو بھی بیچ دیتے ہیں‘۔ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ’عطا انصاری جہنم کی آگ میں بھسم ہوگا‘۔ اپنے ہی ماحول کی طرف سے ایک پاکستانی نژاد صحافی کی سیاسی رائے پر ہراساں کرنے اور اس کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کرنے کے حوالے سے ناروے میں صحافیوں کی تنظیم کے جریدے ’جرنلسٹن‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے اور جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ ایسے ماحول میں نوجوان پاکستانی نژاد تارکین وطن کے لئے کس حد تک خود مختاری سے صحافیانہ خدمات سرانجام دینا ممکن ہوگا۔ جمہوری روایت اور آزاد صحافت کے نقطہ نظر سے ناروے کے سیاسی و پیشہ ور حلقوں میں اس صورت حال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
یہ مثال دینے کا مقصد محض یہ واضح کرنا تھا کہ ایک سابق وزیر اعظم اور عوام کے ایک بڑے طبقے میں مقبول کسی لیڈر کی گفتگو کیسے اور کیوں کر اس کے حامیوں کے رویوں کومتاثر کرتی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان ہی نہیں بلکہ ان تمام ممالک میں پاکستانی نژاد لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جو ان معاشروں میں بہتر مستقبل کے لئے جد و جہد کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے بارے میں عمران خان کی گفتگو کو محض ایک استہزائیہ تبصرہ یا اضطرری اظہار کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اس ایک جملے کے تباہ کن اثرات و مضمرات سے آگاہ ہونا چاہئے ۔ اس بیان پر عمران خان کو معذرت کرلینی چاہئے۔ ایسا کرنے سے ان کا قد کم نہیں بلکہ بلند ہوگا تاہم اگر وہ اپنی اس قابل مذمت کوتاہی پر اصرار کریں گے تو اندازہ کرنا چاہئے کہ ایسے طرز عمل کے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں کیسے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عمران خان ہی نہیں بلکہ تمام لیڈروں کو ذاتی حملے کرنے کی بجائے اصولی گفتگو کرنے کا شعار اپنانا چاہئے ۔ دوسروں کی کمزوریاں و خرابیاں گنوانےکی بجائے اپنا مؤقف سامنے لاکر سیاسی مقدمہ پیش کرنا چاہئے۔ تاہم اگر سیاسی گفتگو میں بداخلاقی اور ذاتی حملے کرنے کا مزاج مروج کیا جائے گا تو اس سے معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوگا۔
اس افسوسناک بدکلامی کے برعکس نیویارک میں وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیر اعظم کے دورہ روس کے بارے میں جو واضح، مدبرانہ اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا ہے ، اس کی تحسین بھی ضروری ہے اور یہ واضح کرنا بھی اہم ہے کہ ایسا سیاسی رویہ ہی بہر صورت ملک میں ایک نیا سیاسی کلچر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک صحافی کی طرف سے عمران خان کے دورۂ روس کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کے سابق وزیراعظم کا مکمل دفاع کروں گا۔ انہوں نے یہ دورہ اپنی خارجہ پالیسی کے حصے کے طور پر کیا۔ کسی کے پاس چھٹی حس نہیں ہے اور ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے ہم یہ جان سکتے کہ یہ وہ وقت ہوگا جب تنازع شروع ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس طرح کے اقدام کی سزا دینا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔
ملکی سیاست میں سامنے آنے والے یہ دو رویے عمومی سیاسی مباحث اور حکمت عملی کے تناظر میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ پارٹی وفاداری سے قطع نظر تمام اہل پاکستان کو ان دونوں رویوں کا غیر جانبداری سے تجزیہ کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ کیسے مثبت اور صحت مندانہ گفتگو کسی ملک میں سیاسی تصادم کی فضا کم کرنے کا سبب بنتی ہے اور کیوں کر ایک نامناسب جملہ سیاسی و سماجی ماحول کو پراگندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker