تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : الزام تراشی کی بجائے اعتماد سازی کی ضرورت

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو ترقی کرنے اور موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک اپنی مدد آپ کے تحت خود قومی مسائل سے نہیں نمٹا جائے گا ، قوم اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ اس دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک کے امیر لوگوں پر سپر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صاحب ثروت لوگوں سے زیادہ ٹیکس لئے جائیں گے جبکہ غریبوں کو مدد فراہم ہوگی۔
شہباز شریف نے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے ملکی سیاسی حالات میں ایک بے یقنی کو تو ختم کیا ہے کہ آئیندہ انتخابات اگلے سال اگست میں ہوں گے۔ اس طرح مالیاتی منڈیوں کے علاوہ ان تمام عالمی اداروں کو یہ اہم پیغام جائے گا کہ ملک میں قائم حکومت ٹھوس بنیادوں پر استوار ہے اور اس کے ساتھ معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ البتہ تصویر کا یہ پہلو مضحکہ خیز حد تک افسوس ناک ہے کہ اگرچہ وزیر اعظم موجودہ اتحادی حکومت کے تسلسل کا اعلان کررہے ہیں لیکن اسے عام طور سے فوج کا اشارہ سمجھا جائے گا۔ کیوں کہ سیاسی مباحث اور ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سیاسی کھیل میں غیر جانبداری کا اعلان کرنے کے باوجود اہم ترین کردار ملکی فوج ہی ادا کرتی ہے۔ملک میں آئینی طریقہ سے ایک برسر اقتدار وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لاکر خود یہ عہدہ سنبھالنے والے شخص کے لئے یہ صورت حال خاص خوش آئیند نہیں ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ موجودہ سیاسی تبدیلی میں فوج کا کوئی خاموش یا متحرک کردار نہیں ہے ، پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ درجن بھر سے زائد سیاسی پارٹیوں کے اتحاد سے قائم ہونے والی حکومت کا سربراہ جو محض ایک آدھ ووٹ محروم ہوکر اقتدار سے ہٹایا جاسکتا ہے ، کس بنیاد پر یہ دعویٰ کررہا ہے کہ وہ آئیندہ سوا سال تک وزیر اعظم رہے گا۔ گزشتہ دو اڑھائی ماہ کے دوران بھی متعدد ایسے مواقع سامنے آئے کہ عام سیاسی صورت حال میں معمولی اکثریت سے قائم حکومت ختم ہوجاتی۔ مبصرین اور دروں خانہ خبریں رکھنے والے یہ تسلیم کریں گے کہ شہباز شریف کے اعتماد اور مزید 14 ماہ تک برسر اقتدار رہنے کے اعلان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فوج کو فی الوقت موجودہ سیٹ اپ کے خلاف کوئی تحریک قبول نہیں ہے ورنہ اتحادی حکومت میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو ایک اشارے پر شہباز شریف کا ساتھ چھوڑ کر ملک میں پنجاب سے بھی بڑا بحران پیدا کرسکتے ہیں۔
ملک میں جمہوری احیا کے لئے یہ کوئی خوش آئیند صورت حال نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے 2017 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ’مجھے کیوں نکالا‘ کے نام سے جو نعرہ لگایا تھا اس کا مخاطب اقتدار کا جوڑ توڑ کرنے والے وہی عناصر تھے جن کی شہ پر اب شہباز شریف اپنی حکومت قائم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اب تو حکومت تبدیل ہوچکی۔تحریک انصاف کو اپنی سیاسی غلطیوں کے لئے عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کا موقع بھی ضائع کیا جاچکا اور عمران خان بڑے بڑے جلسے کرنے کے بعد اپنے تئیں یہ سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جوں ہی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو ان کی پارٹی کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔ یہ دوتہائی اکثریت کی بات کسی جمہوری منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ اس نعرے یا خواہش کا ایک ہی مقصد ہے کہ پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت حاصل کرلی جائے کہ قانون سازی کے علاوہ آئین میں رد و بدل اور اسے اپنی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کا کام بخوبی کیا جاسکے۔ عمران خان کے یہ اندازے کس حد تک سچ ثابت ہوتے ہیں ، اس بارے میں کوئی رائے دینے کی بجائے یہ غور کرنا چاہئے کہ اگر تحریک انصاف آئیندہ کوئی انتخاب نہ جیت سکی تو وہ مسلسل سڑکوں پر رہنے اور ملک میں سیاسی انارکی اور معاشی بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنی رہے گی۔
شہباز شریف کے اعتماد سے منسلک عمران خان کا یہ دعویٰ بھی قابل غور ہے کہ اگر فوج نیوٹرل ہونے سے گریز کرے اور ایک محب وطن ادارے کے طور پر قومی سیاست میں کردار ادا کرے تو موجودہ حکومت ایک دھکے کی مار ہے۔ عمران خان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کا بتایا ہؤا کوئی طریقہ کس حد تک جمہوریت کش اور غیر آئینی ہے۔ وہ سیدھی بات کرتے ہیں کہ ملک ان کی قیادت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی ملک کو چلانا بھی چاہے تو عمران خان بیچ میں دیوار بن کر کھڑا رہے گا کیوں کہ اپنے علاوہ انہیں ملک بھر میں صرف چور اچکے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ان بے سر و پا اور فرسودہ خیالات پر نعرے لگانے اور بھنگڑے ڈالنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ہمدردوں نے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف ملکی تاریخ کی بدترین پروپیگنڈا مہم چلائی ہے اور عمران خان فوج کو یہ کہہ کر للکارتے ہیں کہ ’اگر گھر پر ڈاکو آجائیں تو چوکیدار نیوٹرل نہیں رہ سکتا‘۔ سب جانتے ہیں کہ اس بیان میں ڈاکو کون اور چوکیدار کسے کہا گیا ہے۔نعرے بازی کا یہی ماحول درحقیقت ملک میں معاشی پریشانی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ لیکن عمران خان کی مہم جوئی سے بھی زیادہ اس تصویر کا یہ پہلو زیادہ افسوسناک ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت ان کی کابینہ اور اتحادی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کے لیڈر اور ترجمان مسلسل الزام تراشی کی سیاست کو اپنا پیغام عام کرنے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو یہ موقع دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق دونوں گروہوں کے خیالات سن کر رائے ترتیب دے سکیں اور آئیندہ انتخابات الزام تراشی کے ایجنڈے پر لڑنے کی بجائے تمام پارٹیاں معاشی بحالی کی کسی ٹھوس پروگرام کی بنیاد پر ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔ پاکستانی سیاست میں یہ ماحول بدستور ناپید ہے۔ گو کہ موجودہ حکومت کو مالی مسائل کا براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا جاتا لیکن جب اس کے نمائیندے ہر بیان میں سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا ضروری خیال کریں گے تو بحث ایک دوسرے کی کردار کشی تک ہی محدود رہے گی۔ مسائل حل کرنے کے لئے کوئی اجتماعی اتفاق رائے یا حل تلاش کرنے کی کوئی منظم اور ٹھوس کوشش نہیں ہوسکے گی۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ ضرور اپنے مسائل کا جائزہ عوام کے سامنے لائے لیکن اپنا فوکس ملکی معیشت تک مرکوز رکھے اور عوام تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کرے کہ اقتدار حاصل کرنے کا مقصد کسی ایک پارٹی کو نقصان پہنچانا یا بعض لیڈروں کو مختلف مقدمات سے نجات دلانا نہیں تھا بلکہ اصلاح احوال کا ایجنڈا پیش نظر تھا۔ جب تک یہ ایجنڈا الزام تراشی کے غبار میں چھپا رہے گا، نہ اس کے خد و خال واضح ہوسکیں گے اور نہ ہی ملک میں سیاسی محاذ آرائی ختم ہوسکے گی۔ حکومت اپنی حد تک الزامات کی توپوں کو خاموش کرکے اپنی کارکردگی کی طرف توجہ مبذول کروا سکتی ہے۔ اتحادی پارٹیوں کے رویہ میں تبدیلی سے تصادم کا ماحول کم ضرور ہوگا۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو تو الزام تراشی اور اشتعال انگیز سیاست سے باز رکھنا ممکن نہیں لیکن حکومتی پارٹیوں کا مدبرانہ رویہ اس کی گونج کم کرنے کا باعث ضرور بن سکتا ہے۔
حکومت کو اس وقت معیشت کی بحالی کے حوالے سے اعتماد سازی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ عام طور سے موجودہ حکومت اور عام لوگوں کے درمیان اعتماد و بھروسہ کا فقدان ہے۔ اس کی ایک وجہ ضرور سیاسی طور سے عائد کئے جانے والے الزامات اور بعض لیڈروں پر قائم کئے گئے مقدمات سے پیدا ہونے والے شبہات ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان عدم اعتماد کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں طبقات اپنے رہن سہن، سماجی رتبے اور معاشی دسترس کے حوالے سے ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ پاکستان کا کوئی عام شہری خود اپنے آپ میں اور اقتدار سنبھالنے والے کسی وزیر، مشیر یا کسی دوسرے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے ساتھ کسی قسم کی مماثلت نہیں دیکھ پاتا۔ ایسے میں جب نت نئے ٹیکس عائد ہونے، مہنگائی میں اضافے اور اشیائے صرف کی کمیابی کے مسائل سامنے آئیں گے تو عام شہری خود کو محروم طبقہ میں کھڑا پائے گا جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس ملک پر حکمرانی کرنے والے کسی شخص کو نہ تو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، نہ اسے پیٹرول کی قلت ہوتی ہے اور نہ ہی آٹا و چاول خریدنے کے لئے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ صورت حال حکمرانوں اور عام لوگوں کے درمیان فاصلہ میں اضافہ کرتی ہے۔ جس رفتار سے عوام پر معاشی بوجھ میں اضافہ ہوگا، عدم اعتماد کی یہ فضا بھی اسی قدر بوجھل ہوگی۔یہ حالات خواہ کن ہی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوئے ہوں لیکن انہیں کم کرنے اور عوام کا ریاست، حکمرانی کے نظام اور حکومتی شخصیات پر اعتماد بحال کرنے کا کام صرف برسر اقتدار سیاسی جماعتوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام مشکل حالات میں حکمران طبقات کی بعض روائیتی سہولتیں ختم کرکے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کا دودسرا مؤثر اور تیربہدف راستہ ملک کے امیر طبقات پر زیادہ ٹیکس عائد کرکے انہیں ملک پر پڑنے والے مالی بوجھ کو بانٹنے پر مجبور کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے آج ایک پریس کانفرنس میں ضرور زیادہ آمدنی والے لوگوں پر اضافی یا سپر ٹیکس عائد کرنے کی بات کی ہے لیکن اس کا ٹھوس نقشہ پیش کرنے کے لئے مزید مہلت مانگی ہے۔
حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے نام پر عوام سے جس ایثار کی امید کی جارہی ہے اگر حکمرانوں اور امرا نے بھی ویسی ہی قربانی پیش نہ کی تو تمام تر نعروں اور نیک خواہشات کے باوجود عوام اور حکمرانوں میں اعتماد کم ہوتا رہے گا جو کسی بھی معاشرے میں کوئی نامعلوم طوفان برپا کرنے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔
(بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker