تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

عمران خان کا نیا پاکستان، باغی نواز شریف اور پروفیسر زرداری ۔۔ سید مجاہد علی

اتوار کا دن پاکستانی سیاست میں سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے لاہور میں یادگار پاکستان پر عظیم الشان جلسہ کرکے ’نئے پاکستان‘ کی تعمیر کے لئے گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے کسی زمانے میں متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ لیاقت آباد کراچی میں جلسہ کرکے الطاف حسین کی سیاست کو دفن کرنے کا قصد ظاہر کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جس قدر دھوم دھام عمران خان کے جلسہ کی تھی، کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ کو وہ شہرت نہیں مل سکی۔ اسے میڈیا کی جانبداری کہہ لیں یا بلاول بھٹو زرداری کی کم نصیبی کہ ایک طرف بڑے زرداری انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیتے تو دوسری طرف پاکستانی میڈیا پیپلز پارٹی کو آئندہ انتخابات میں ’غیر متعلقہ‘ سمجھتے ہوئے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اب بھی یہ پارٹی ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے اور سندھ میں اس کی حکومت قائم ہے۔ اس کے علاوہ یہ پارٹی بھٹو کی وراثت کی امین اور جوڑ توڑ کےگرو آصف علی زرداری کی ہنر مندی سے فیضیاب ہے۔ اسی ہنرمندی کا کمال تھا کہ مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین منتخب کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور پاکستان تحریک انصاف جو پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کو بھی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی طرح ملک کے لئے زہر قاتل قرار دیتی ہے، نہ صرف یہ کہ صادق سنجرانی کو چئیر مین بنوانے پر راضی ہوگئی بلکہ اسی ’ پیکیج ‘ میں پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا کو ڈپٹی چئیر مین بنوانے کے لئے بھی ووٹ دینے پر مجبور ہو گئی۔
اب آصف زرداری نے سیاسی پنڈتوں کی قیاس آرائیوں اور میڈیا کی توقعات کے برعکس یہ دعویٰ کیا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں آزاد امید وار میدان مار لیں گے اور وہ خود ان آزاد امیدواروں کو گھیر کر ایک ایسے پلیٹ فارم پر لے آئیں گے جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والا رکن وزیر اعظم بنے گا اور خود زرداری بادشاہ گر کا کردار نبھاتے رہیں گے۔ دنگل سے پہلے کمزور ترین پہلوان بھی یہ اعتراف کرنے سے گریز کرتا ہے کہ وہ مدمقابل کا آسان ہدف ہو گا۔ اس اصول کے تحت تو آصف زرداری کے دعوے اور خوش فہمی قابل فہم ہے لیکن جیو ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں انہوں نے نواز شریف کو آستین کا سانپ قرار دے کر یہ انکشاف کیا ہے کہ جون 2015 میں آرمی چیف کو چیلینج کرنے والی تقریر انہوں نے نواز شریف کے اکسانے پر کی تھی ۔ اس تقریر کے بعد اس وقت وزیر اعظم کے عہدے پر فائز نواز شریف نے آصف زرداری سے مقررہ ملاقات منسوخ کردی تھی اور پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین کو ڈیڑھ سال کے لئے جبری خود ساختہ جلا وطنی بھگتنا پڑی تھی جو جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ فون پر یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد ہی ختم ہو سکی تھی۔ اس یقین دہانی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہی آصف زرداری نے بلاول بھٹو کی انقلابی سیاست کو لگام دینے کے علاوہ بلوچستان اور سینیٹ انتخاب میں مقررہ کھیل کا سدھایا ہؤا ہرکارہ بننے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ کہتے ہیں کہ لفظوں کا زخم تلوار کے گھاؤ سے بھی گہرا ہوتا ہے اور اب زرداری اپنی زبان سے لگائے ہوئے اسی زخم کو مندمل کرنے کی کوشش میں زبان پھسل جانے کا الزام اپنے سب سے بڑے سیاسی دشمن نواز شریف پر عائد کرکے خود سرخرو ہونا چاہتے ہیں تاکہ ایک بار پھر ان کی سربراہی اور نگرانی میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ زرداری جانتے ہیں کہ اس پوزیشن کے لئے مقابلہ سخت ہے اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف کے گھوڑے پر داؤ لگا چکی ہے اور اسی رو میں عمران خان کل کے جلسہ کے بعد ان ’شریف اور نیک نام ‘ الیکٹ ایبلز عرف عام میں موسوم بنام لوٹوں کو اپنے پروں میں سمیٹنے کے لئے بازو وا کئے ہوئے ہیں۔ زرادری کی کاری گری یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ان موسمی سیاسی گھوڑوں کی لگامیں تھامنے والے دست غیبی کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ اپنی مصلحت کوش طبیعت کے باعث عمران خان جیسے ’ناقابل اعتبار اور متلون مزاج‘ شخص سے بہتر اور مضبوط امید وار ہیں۔ اور 2015 میں انہوں نے فوج کو چیلنج کرنے کی جو غلطی کی تھی وہ اس بدنام زمانہ نواز شریف کی وجہ سے تھی جو اب اپنے اصل روپ میں سامنے آکر تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔ گویا ’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا‘۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ نواز شریف کیسے اداروں کو مسترد کرتے ہوئے عوامی حاکمیت کی بات کررہے ہیں۔
انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کے لئے آصف زرداری نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ نواز شریف کی طرح فوج سے ٹکر نہیں لیں گے بلکہ اسے ’ایجوکیٹ ‘کریں گے۔ حیرت انگیز طور پر انٹرویو کرنے والے نے ان سے یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ فوج کو کیسے ایجوکیٹ کریں گے۔ اور کیا تمام اختیارات پر تصرف رکھنے والا یہ طاقتور اور اپنے آپ میں عقل کل کا مرکز ادارہ، اس نئے سیاسی ’پروفیسر‘ کے ارشادات پر غور کرنے کی زحمت کرے گا۔ اسی طرح ان سے یہ بھی پوچھا جا سکتا تھا کہ فوج کو ایجوکیٹ کرنے کے لئے انہیں 2008 سے 2013 کے دوران موقع ملا تھا، اس دوران وہ پورا سلیبس کیوں نہ پڑھا سکے کہ انہیں نواز شریف کے بہکاوے میں آکر جون 2015 میں یہ چیلنج کرنا پڑا کہ ’ آپ تین سال کے لئے آتے ہو اور چلے جاتے ہو لیکن ہم نے یہیں رہنا ہے‘۔ یا زرداری اب یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہوں نے اب یہ سبق زیادہ اچھے طریقے سے یاد کرلیا ہے کہ ’سیاست دان صرف اس وقت آتا ہے جب آپ چاہتے ہو۔ آپ چلے بھی جاؤ تو حکمران رہتے ہو‘۔
ایک طرف آصف زرداری ممکنہ طور سے 2018 کا انتخاب جیتنے والے آزاد اراکین اسمبلی کو قابو اور سابقہ حریف اور موجودہ حلیف قوتوں کو رام کرنے کے داؤ پیچ کھیل رہے ہیں تو سیاسی میدان میں والد سے ملی ہوئی محدود اظہار خیال کی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے مکمل چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی خالی کی ہوئی جگہ کو پر کرنے کے لئے الطاف حسین پر دشنام طرازی کے علاوہ یہ واضح کیا ہے کہ اہل کراچی اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ عمران خان ان کا کھیون ہار ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ بلاول کے الفاظ میں عمران اور الطاف حسین ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یوں تو نواز شریف سے نمٹنے کا کام پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول نے معاون چئیر مین اور اپنے والد آصف زرداری پر چھوڑ رکھا ہے لیکن خانہ پری کے لئے انہوں نے کل کی تقریر میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد کو یاد دلایا کہ عزت و احترام ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے سے نہیں مل سکتی بلکہ اس کے لئے غریب اور مجبور لوگوں کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ شاید اسی احترام کا مظاہرہ کرنے کے لئے آصف زرداری نئے شکار پھانسنے کے لئے جال لگائے بیٹھے ہیں کیوں کہ آزاد منتخب ہونے والے ارکان پیا چہیتے ہونے کے علاوہ بالآخر عوام کے ووٹ لے کر ہی آتے ہیں ۔ اس لئے انہیں احترام نہ دینا عوام کی توہین کرنے کے مترادف ہو گا۔
اسی احترام کا اظہار عمران خان نے کل لاہور کے شاندار جلسہ سے پہلے اور بعد میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بہت سے الیکٹ ایبلز تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ لامحالہ عمران خان خود ’اچھے اور شفاف دامن‘ لوگوں کا انتخاب کرکے برے لوگوں کو زرداری جیسوں کے لئے چھوڑ دیں گے۔ اس جلسہ میں عمران خان نے اپنے حامیوں کے بقول احتجاج کرنے والے پر جوش رہنما کی بجائے سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک ایسے لیڈر کے طور پر تقریر کی ہے جو مسائل کا شکار اس ملک کو دلدل سے نکال کر ترقی اور کامیابی کی شاہراہ پر ڈالنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد عمران خان کے وہ گیارہ نکات ہیں جو انہوں نے کل پارٹی کے انتخابی منشور کے طور پر پیش کئے ہیں۔ ان 11 نکات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان میں تعلیم کے فروغ، بلا تفریق صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کا وعدہ شامل ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے تو تحریک انصاف کے لیڈر نے آسان حل پیش کیا ہے جو ان کا آزمودہ ہے۔ یعنی لوگوں سے ’مانگ تانگ ‘ کر قرضے ادا کئے جائیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ایک بار برسر اقتدار آگئے تو وہ ملک میں رہنے والے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 8000 ہزار ارب روپے جمع کرکے دکھائیں گے۔ اس طرح پورے سال کے قومی بجٹ سے بھی زیادہ رقم اکٹھی کرکے وہ تمام بیرونی اور اندرونی قرضے اتار دیں گے اور ملک کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ اس میں قباحت صرف یہ ہے کہ چندہ مانگ کر اسپتال قائم کرنا ایک بات ہے لیکن کیا چندہ سے قومیں خوشحال اور ملک فعال ہو سکتے ہیں۔ عمران خان اسے ممکن سمجھتے ہیں اور وہ یہ کرشمہ کر دکھانے کا قصد رکھتے ہیں۔ اب پاکستان کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ پہلے عمران خان کو انتخاب میں وزیر اعظم بننے کے لئے ووٹ دیں اور پھر ملک کے قرضے اتارنے کے لئے ان کی جھولی میں 8000 ارب روپے ڈال دیں۔ جو قوم آمدنی پر ٹیکس دینے کے لئے تیار نہ ہو، اس کی جیب سےاتنی خطیر رقم نکلوا لینے کا دعویٰ عمران خان جیسا ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھنے والا لیڈر ہی کر سکتا ہے۔ آخر انہیں ایک بار وزیر اعظم بنا دینے میں حرج ہی کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے گیارہ نکات کے مطابق تعلیم عام کرنے، صحت کی یکساں سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ لوگوں کو روزگار کے وافر مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ عمران خان انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے کو قومی وسائل کا ضیاع قرار دیتے ہیں اور وہ انسانی وسائل کے فروغ پر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے تمام مالی اور سماجی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ فوج اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ فوج کے احسان مند ہیں کہ وہ ملک کی حفاظت کرتی ہے۔ اس تقریر کے بعد حال ہی میں پیش کئے جانے والے قومی بجٹ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبے اس لئے نظر انداز ہوتے ہیں کہ عسکری ضروریات کے لئے بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بہتر ہوتا عمران خان یہ بتا دیتے کہ دفاع پر اخراجات کم کئے بغیر ملک میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں کیسے عام کردی جائیں گی۔ اداروں کو مضبوط کرنے کی بات سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ فوج اور عدالتوں کو زیادہ طاقت ور بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی خبریں پڑھنے والا عام آدمی بھی ملک کی عدلیہ کی بے لاگ خود مختاری اور آزادی کی گواہی دے سکتا ہے۔ اور فوج کی قوت کا اندازہ کرنے کے لئے سیاسی لیڈروں کے درمیان سر پھٹول کو دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ ان کے بعد صرف حکومت کا ادارہ باقی بچتا ہے جو آئین میں سب سے طاقتور لیکن عملی طور پر سب سے کمزور ادارہ ہے۔ عمران خان کے 11 نکات میں اسے مضبوط کرنے کا کوئی روڈ میپ دکھائی نہیں دیتا۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker